نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسماء - امین احسن اصلاحی

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسماء

 

ترتیب و تدوین: خالد مسعود۔ سعید احمد

(أَسْمَاءُ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ)

حَدَّثَنِیْ عَنْ مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِھَابٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: لِیْ خَمْسَۃُ أَسْمَاءٍ: أَنَا مُحَمَّدٌ، وَ أَنَا أَحْمَدُ وَ أَنَا الْمَاحِی الَّذِیْ یَمْحُو اللّٰہُ بِیَ الْکُفْرَ، وَ أَنَا الْحَاشِرُ الَّذِیْ یُحْشَرُ النَّاسُ عَلٰی قَدَمِیْ وَ أَنَا الْعَاقِبُ.
محمد بن جبیر بن مطعم سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پانچ نام ہیں: میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں اور میں ماحی ہوں کہ میرے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کفر کو مٹائے گا، اور حاشر ہوں کہ لوگ میرے قدموں پر جمع کیے جائیں گے اور میں پیچھے آنے والا ہوں۔

وضاحت

اس روایت کے متعلق شارحین یہ کہتے ہیں کہ اس میں پانچ کی تعداد تعین کے لیے نہیں، بلکہ صرف کثرت کو بیان کرنے کے لیے ہے، اسی لیے صوفی حضرات کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی سو نام ہیں۔
آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموں میں سے محمد اور احمد دو نام قرآن مجید میں آئے ہیں۔ آپ کا نام احمد قدیم صحیفوں میں چلا آ رہا ہے اور قرآن مجید نے اس کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حوالے سے نقل کیا ہے۔
جہاں تک ماحی، حاشر اور عاقب کے الفاظ کا تعلق ہے، تو یہ اسم یا نام نہیں، بلکہ صفات ہیں۔ اسم کسی ذات کو متعین طریقے پر بتاتا ہے اور اس کے ساتھ صفات کا ربط جوڑا جا سکتا ہے اور وہ اسم ان صفات کا موصوف بن سکتا ہے، لیکن کسی شخص کی صفت کو اس کا نام قرار دینا صحیح نہیں، ورنہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت تو بالمومنین رؤف رحیم بھی ہے۔ اگر صفت کی بنیاد پر حضور اپنا نام بتاتے تو آپ یہ فرماتے کہ میرا نام رؤف بھی ہے اور رحیم بھی ہے اور یہ قرآن مجید میں آیا ہے۔ اسی طرح قرآن میں خاتم النبیین کی صفت بھی حضور کے لیے آئی ہے۔ آپ اس کو بھی اپنا نام قرار دے سکتے تھے، لیکن اس روایت کی رو سے آپ نے چند بے معنی الفاظ کو تو اپنا نام بتا دیا، لیکن بامعنی الفاظ کو نہیں بتایا، حالاں کہ وہ قرآن مجید میں موجود ہیں۔ ’حاشر‘ کہ جس کے قدموں پر لوگ جمع کیے جائیں گے، بالکل من گھڑت بات ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں بیان ہوا ہے: ’یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰہُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَا ذَآ اُجِبْتُمْ‘، * جس روز تمام رسولوں کو، جن میں آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی شامل ہیں، اللہ تعالیٰ اکٹھا کرے گا تو ان سے پوچھے گا کہ تم نے کیا دعوت دی تھی اور تمھاری قوم نے کیا جواب دیا تھا؟ تو سب کہیں گے کہ آپ نے جو فرمایا تھا، وہ ہم نے کہا۔ باقی ہماری قوموں نے جو کیا، وہ ہمیں نہیں معلوم۔ انھوں نے جو کچھ کیا، آپ جانتے ہیں۔ قرآن مجید میں یہ بہترین موقع تھا جہاں اللہ تعالیٰ بتا دیتا کہ میں لوگوں کو رسولوں کے قدموں پر جمع کر دوں گا، لیکن وہاں یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمام انبیا و رسل کو اکٹھا کرے گا۔ ’عاقب‘ سے زیادہ موزوں لفظ ’خاتم‘ تھا، کیونکہ قرآن مجید میں آپ کے لیے ’خَاتَمَ النَّبِّیّٖنَ‘ ** کا لفظ آیا ہے۔ باقی رہ گیا کہ آپ کفر کو مٹانے والے ہیں، اس لیے آپ کا نام ’ماحی‘ ہے۔ میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ کسی بھی فعل سے، جو اللہ تعالیٰ کی طرف یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہو، اسم نہیں بن سکتا۔ اگر ہر فعل سے اسم بنانے لگیں تو اس میں بہت خطرے ہیں۔ مثلاً نعوذ باللہ، اس طریقہ سے آپ اللہ تعالیٰ کا نام ’مُضِلُّ‘ بھی رکھ سکتے ہیں اور ’ماکر‘ بھی، کیونکہ قرآن میں ’یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ‘ *** اور ’یَمْکُرُ اللّٰہ‘ ****بھی آیا ہے۔ یہ بہت خطرناک طریقہ ہے اور لوگوں نے یہی غلطی کی بھی ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ آپ اپنے جی سے اللہ تعالیٰ کے نام نہیں رکھ سکتے۔ قرآن مجید میں اس کی ممانعت آئی ہے۔ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسماے مبارکہ محمد اور احمد اللہ تعالیٰ نے خود بتائے ہیں۔ آپ کے یہی دو نام ہیں۔ باقی آپ کی جتنی صفات یا جتنے افعال ہیں، ان سے آپ کے نام نہیں بن سکتے۔
یہ روایت ابن شہاب کے ذریعہ سے آئی ہے اور بالکل غلط ہے۔

(تدبر حدیث ۵۴۳۔۵۴۴)

________

* المائدہ ۵: ۱۰۹۔
** الاحزاب ۳۳: ۴۰۔
*** النحل ۱۶: ۹۳۔
**** الانفال ۸: ۳۰۔
____________

 

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت جولائی 2014
مصنف : امین احسن اصلاحی
Uploaded on : Jan 03, 2018
769 View