خدا کے فیصلے - جاوید احمد غامدی

خدا کے فیصلے

 

رسولوں کی طرف سے اتمام حجت کے بعد اگر اُن کو اور اُن کے ساتھیوں کو کسی خطۂ ارض میں اقتدار حاصل ہو جائے تو خدا کا فیصلہ ہے کہ اُن کے منکرین کے لیے دو ہی صورتیں ہیں: اُن میں اگر مشرکین ہوں گے تو قتل کر دیے جائیں گے اور کسی نہ کسی درجے میں توحید کے ماننے والے ہوں گے تو محکوم بنا لیے جائیں گے۔ بقرہ، انفال اور توبہ میں* اللہ تعالیٰ نے جس قتال کی ہدایت فرمائی اور مشرکین عرب کے جس قتل عام کا حکم دیا ہے، وہ اِسی فیصلے کا نفاذ ہے۔ اِس کا شریعت اور اُس کے احکام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ چنانچہ اپنی کتاب ’’میزان‘‘ میں ہم نے لکھا ہے:
’’... یہ محض قتال نہ تھا، بلکہ اللہ تعالیٰ کا عذاب تھا جو اتمام حجت کے بعد سنت الٰہی کے عین مطابق اور فیصلۂ خداوندی کی حیثیت سے پہلے عرب کے مشرکین اور یہود و نصاریٰ پر اور اُس کے بعد عرب سے باہر کی قوموں پر نازل کیا گیا۔لہٰذا یہ بالکل قطعی ہے کہ منکرین حق کے خلاف جنگ اور اِس کے نتیجے میں مفتوحین پر جزیہ عائد کر کے اُنھیں محکوم اور زیردست بنا کر رکھنے کا حق اِس کے بعد ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے۔ قیامت تک کوئی شخص اب نہ دنیا کی کسی قوم پر اِس مقصد سے حملہ کر سکتا ہے اور نہ کسی مفتوح کو محکوم بنا کر اُس پر جزیہ عائد کرنے کی جسارت کر سکتا ہے۔ مسلمانوں کے لیے قتال کی ایک ہی صورت باقی رہ گئی ہے اور وہ ظلم و عدوان کے خلاف جنگ ہے۔ اللہ کی راہ میں قتال اب یہی ہے۔ اِس کے سوا کسی مقصد کے لیے بھی دین کے نام پر جنگ نہیں کی جا سکتی۔‘‘(۵۹۹)
ابراہیم علیہ السلام کی ذریت کے بارے میں بھی خدا کا فیصلہ ہے کہ وہ اگر حق پر قائم ہوں اور اُسے بے کم و کاست اور پوری قطعیت کے ساتھ دنیا کی سب قوموں تک پہنچاتے رہیں تو اُن کی دعوت کے منکرین پر اُنھیں غلبہ حاصل ہوگا، لیکن حق سے انحراف کریں تو اُنھی کے ذریعے سے ذلت اور محکومی کے عذاب میں مبتلا کر دیے جائیں گے۔ یہ وعدہ بنی اسرائیل اور بنی اسمٰعیل،دونوں کے ساتھ ہے۔ قرآن میں صراحت ہے کہ دین کی شہادت کے لیے بنی اسمٰعیل بھی اُسی طرح منتخب کیے گئے، جس طرح اُن سے پہلے بنی اسرائیل منتخب کیے گئے تھے*۔ لہٰذا جو وعدے بنی اسرائیل کے لیے تورات میں مذکور ہیں اور قرآن نے جگہ جگہ جن کا حوالہ دیا ہے**، وہ اُن کے متعلق بھی آپ سے آپ تسلیم کیے جائیں گے۔ لیکن اِس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ وہ اِس کے لیے خود کوئی اقدام کر سکتے اور دنیا کی قوموں پر اِس مقصد کے لیے حملہ آور ہو سکتے ہیں۔ ہرگز نہیں، اِس کا حق نہ اُنھیں تورات میں دیا گیا ہے نہ قرآن میں ۔ اِس وعدے کا ظہور تکوینی طور پر ہوتا ہے اور اِس کے اسباب بھی اِسی طریقے سے پیدا کیے جاتے ہیں۔ اُن کا کام صرف یہ ہے کہ خدا کے سب حکموں پر عمل کریں او ر اپنی استطاعت کی حد تک شہاد ت کی وہ ذمہ داری اخلاص او ردیانت داری کے ساتھ پوری کرتے رہیں جس کے لیے خدا نے اُنھیں منتخب فرمایا ہے۔
اِس فیصلے کی ایک فرع یہ ہے کہ فلسطین اوراُس کے گردو نواح میں کنعان کا علاقہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے لیے اور جزیر نماے عرب کا علاقہ بنی اسمٰعیل کے لیے خاص کر دیا ہے تاکہ دنیا کی سب قومیں اُن کے ساتھ اُس کی معیت کا مشاہدہ کریں او رہدایت پائیں۔ چنانچہ بنی اسرائیل کو اِسی بنا پر حکم دیا گیا کہ اپنی میراث کے اِس علاقے کو اُس کے باشندو ں سے خالی کرالیں، اُس میں کسی کافرو مشرک کو زندہ نہ چھوڑیں اور نہ اُس کی سرحدوں سے متصل کسی علاقے میں کافروں اور مشرکوں کی کوئی حکومت قائم رہنے دیں، الاّ یہ کہ وہ اُن کے باج گزار بن جائیں۔وہ اِس سے انکار کریں تو سزا کے طور پر اُن کے مرد قتل کر دیے جائیں او رعورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا جائے۔ استثنا کے باب۲۰ میں یہ حکم پوری تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ سلیمان علیہ السلام نے ملکۂ سبا کو اِسی کے تحت تسلیم و انقیاد کے لیے مجبور کیا تھا۔ فتح مکہ کے بعد جزیرنماے عرب میں مشرکین کے تمام معابد اِسی کے تحت ختم کیے گئے۔’لایجتمع دینان فی جزیرۃ العرب*** ‘کی ہدایت بھی اِسی کے تحت ہے۔ چنانچہ سرزمین عرب میں اِسی بنا پر نہ غیر اللہ کی عبادت کے لیے کوئی معبد تعمیر کیا جا سکتا ہے اور نہ کسی کافر و مشرک کو رہنے بسنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ یہ تمام احکام توحید کے اِسی مرکز سے متعلق ہیں۔ اِن کا دنیا کے کسی دوسرے علاقے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
یہ خدا کے منصوص فیصلے ہیں اور الہامی صحائف میں بڑی وضاحت کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ تورات میں بھی اِنھیں پوری تفصیل کے ساتھ واضح کیا گیا ہے اور قرآن میں بھی۔ مسلمانوں کی بدقسمتی ہے کہ دور حاضر میں اُن کے بعض جلیل القدر مفکرین اِن فیصلوں کی صحیح نوعیت کو سمجھنے سے قاصر رہے ہیں۔ اسلام کی سیاسی تعبیر اِسی غلط فہمی کے بطن سے پیدا ہوئی ہے، جس کا نتیجہ اِس تعبیر کے زیر اثر اٹھنے والی جہاد و قتال کی تحریکوں کی صورت میں پوری امت مسلمہ بھگت رہی ہے۔ اِس صورت حال کی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ خدا کے اِن فیصلوں کو عالمی سطح پر سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی جائے تاکہ کسی انتہا پسند کے لیے اِن کی تعمیم کے ذریعے سے کوئی فتنہ پیدا کرنے کی گنجایش نہ رہے۔

*البقرہ۲:۱۹۰۔۱۹۴۔ الانفال۸:۳۸۔۴۰۔ التوبہ۹:۲۹،۳۔۵۔
*الحج۲۲:۷۸۔
** استثنا ۲۸:۱۔۲۵۔ البقرہ۲:۴۰۔ بنی اسرائیل۱۷:۸۔
** * الموطا، رقم۲۶۰۷۔’’جزیر نماے عرب میں دو دین جمع نہیں ہو سکتے۔‘‘

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت اپریل 2011
مصنف : جاوید احمد غامدی
Uploaded on : May 21, 2018
685 View