حضرت ابوحذیفہ بن عتبہ ر ضی ﷲ عنہ - ڈاکٹر وسیم مفتی

حضرت ابوحذیفہ بن عتبہ ر ضی ﷲ عنہ

حضرت ابوحذیفہ بن عتبہ کا اصل نام ہشیم تھا، لیکن وہ اپنی کنیت سے مشہور ہوئے۔ابن جوزی نے ہشیم یا ہشام نام بتایا۔ ابن حجر نے مہشم، ہشیم، ہاشم یا قیس کے نام بتا کر اصلی نام کا تعین نہیں کیا۔ اسلام اور پیغمبر اسلام کا کٹر دشمن شیخ جاہلیت عتبہ ان کاباپ تھا۔ حضرت ابو حذیفہ کے دادا کا نام ربیعہ بن عبدشمس تھا۔عبد مناف رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم اور ابو حذیفہ، دونوں کے چوتھے جد تھے۔ان کی والدہ کا نام فاطمہ بنت صفوان اور کنیت ام صفوان تھی۔ ابوحذیفہ قرشی و عبشمی، دونوں نسبتوں سے جانے جاتے ہیں۔
حضرت ابوحذیفہ بن عتبہ ان جلیل القدر اصحاب رسول میں سے ایک تھے جنھیں ﷲ نے ’السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ‘* کے نام سے پکارا ہے۔رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے دار ارقم میں منتقل ہونے سے پہلے ایمان لائے۔ ان سے پہلے تینتالیس افراد نعمت ایمان سے سرفراز ہو چکے تھے۔
حضرت ابوحذیفہ نے ہجرت حبشہ و ہجرت مدینہ دونوں کی سعادت حاصل کی۔ دین حق کی طرف لپکنے والے مخلصین پرمشرکین مکہ کی ایذارسانیاں حد سے بڑھ گئیں تو ۵ ؍ نبوی (۶۱۵ء) میں آں حضرت صلی ﷲ علیہ وسلم نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے ارشاد فرمایا:

’’تم حبشہ کی سرزمین کو نکل جاؤ ، وہاں ایسا بادشاہ (King of Axum) حکمران ہے جس کی سلطنت میں ظلم نہیں کیا جاتا۔ وہ امن اور سچائی کی سرزمین ہے،(وہاں اس وقت تک قیام کرنا) جب تک ﷲ تمھاری سختیوں سے چھٹکارے کی راہ نہیں نکال دیتا۔‘‘ (السیرۃ النبویۃ، ابن ہشام ۱/ ۲۵۵)

چنانچہ سب سے پہلے سولہ اہل ایمان نصف دینار کرایہ پر کشتی لے کر حبشہ روانہ ہوئے۔قریش نے مہاجرین کا پیچھا کیا، لیکن ان کے پہنچنے سے پہلے وہ اپنا سفر شروع کر چکے تھے۔بارہ مردوں اور چار عورتوں پر مشتمل اس قافلے کے شرکا یہ تھے: حضرت عثمان بن عفان ،ان کی اہلیہ حضرت رقیہ بنت رسول ﷲ، حضرت ابو حذیفہ بن عتبہ، ان کی زوجہ حضرت سہلہ بنت سہیل، حضرت زبیر بن عوام، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت مصعب بن عمیر، حضرت عثمان بن مظعون، حضرت عامر بن ربیعہ، ان کی بیوی حضرت لیلیٰ بنت ابو حثمہ، حضرت ابوسبرہ بن ابورہم، حضرت سہیل بن بیضا، حضرت حاطب بن عمرو، حضرت ابو سلمہ بن عبدالاسد، ان کی اہلیہ حضرت ام سلمہ بنت ابو امیہ اور حضرت عبدﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہم۔ ابن ہشام نے حضرت عبدﷲ بن مسعود اور حضرت حاطب بن عمرو کے نام شامل نہیں کیے (السیرۃ النبویۃ)۔ اسے ہجرت اولیٰ کہا جاتا ہے۔ چند ماہ کے بعد دو کشتیوں پر سوار سڑسٹھ اہل ایمان کا دوسرا گروپ نکلا جس کی قیادت حضرت جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے کی ۔کچھ لوگ اسے ہجرت ثانیہ کہتے ہیں، لیکن اصل میں یہ پہلی ہجرت ہی کادوسرامرحلہ تھا۔ابن اسحاق نے مہاجرین حبشہ کی تفصیل اس طرح بیان کی:

ہجرت اولیٰ: گیارہ مرد اور چار خواتین۔
ہجرت ثانیہ: تراسی مرد، اور اٹھارہ عورتیں جن میں سے گیارہ قریش کی اور سات خواتین دوسرے قبائل کی تھیں۔
شوال ۵ ؍ نبوی میں قریش کے قبول اسلام کی افواہ حبشہ میں موجود مسلمانوں تک پہنچی توان میں سے کچھ یہ کہہ کر مکہ کی طرف واپس روانہ ہو گئے کہ ہمارے کنبے ہی ہمیں زیادہ محبوب ہیں۔مکہ پہنچنے سے پہلے ہی ان کومعلوم ہو گیا کہ یہ اطلاع غلط تھی تو وہ پھرحبشہ لوٹ گئے ۔تاہم حضرت عثمان،ان کی اہلیہ حضرت رقیہ، حضرت ابوحذیفہ بن عتبہ، ان کی اہلیہ حضرت سہلہ، حضرت زبیر بن عوام، حضرت مصعب بن عمیر، حضرت ابوعبیدہ بن جراح، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت عبدﷲ بن مسعود، حضرت عثمان بن مظعون، حضرت عبدﷲ بن جحش، حضرت ابوسلمہ اور ان کی اہلیہ حضرت ام سلمہ ان تینتیس اصحاب میں شامل تھے جو حبشہ واپس نہ گئے اور مکہ ہی میں مقیم ہو گئے۔
رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم حج کے لیے مکہ آنے والے قبائلی رؤساکو اسلام کی دعوت دیتے تھے۔آپ کی کوششوں سے رجب ۱۰؍ نبوی میں خزرج کے چھ افراد مشرف بہ اسلام ہوئے، ۱۱؍نبوی میں یثرب کے بارہ اور ۱۲؍نبوی میں بہتر لوگوں نے آپ کے دست مبارک پر بیعت کی۔نصرت اسلام کی ان بیعتوں کے بعد آپ نے صحابۂ کرام کو مدینہ کی طرف ہجرت کا مشورہ دیتے ہوئے فرمایا:

’’ﷲ نے تمھارے بھائی بند بنا دیے ہیں اور ایسا شہر دے دیا ہے جہاں تم اطمینان سے رہ سکتے ہو۔‘‘(السیرۃ النبویۃ، ابن ہشام ۲/ ۸۴)

چنانچہ حضرت ابوسلمہ پہلے مہاجر تھے جو مدینہ پہنچے، ان کے بعد حضرت عامر بن ربیعہ، حضرت عبدﷲ بن جحش اور ان کے بھائی حضرت ابو احمد عبدنے دار ہجرت کا رخ کیا۔ دو ماہ کے بعد اکثر اہل ایمان نے ہجرت کے لیے رخت سفر باندھ لیا، حضرت ابوحذیفہ اور حضرت سالم ان بیس افراد میں شامل تھے جنھوں نے حضرت عمر کے ساتھ سفر ہجرت کیا۔ یہ دونوں حضرت عباد بن بشر کے مہمان ہوئے۔ آں حضرت صلی ﷲ علیہ وسلم ۱۲؍ربیع الاول کو تشریف لائے۔ آپ نے مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات قائم فرمائی تو بنو عبد الاشہل کے حضرت عبادبن بشر کو حضرت ابوحذیفہ بن عتبہ کا انصاری بھائی قرار دیا۔
اواخرجمادی الثانی ۲ھ(یا رجب ۲ھ) میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے قریش کی سرگرمیوں کی خبر لینے کے لیے حضرت عبدﷲ بن جحش کی سربراہی میں نو(یابارہ) مہاجرین کا ایک سریہ روانہ کیا۔ حضرت ابوحذیفہ بن عتبہ، حضرت عکاشہ بن محصن (یا حضرت عمار بن یاسر)، حضرت عتبہ بن غزوان، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت عامر بن فہیرہ (یا حضرت عامر بن ربیعہ)، حضرت واقد بن عبدﷲ، حضرت خالد بن بکیر اور حضرت سہیل بن بیضا رضی اللہ عنہم سریہ میں شامل تھے۔ آپ نے حضرت عبدﷲ بن جحش کو ایک خط دے کر فرمایا: مکہ کی جانب دو دن کا سفر (قریباًاٹھائیس میل )طے کر لینے کے بعد وادی ملل (یا ابن ضمیرہ کے کنویں پر) پہنچ کر اسے پڑھنا ۔ جب انھوں نے خط کھولا تو لکھا پایا: ’’مکہ اور طائف کے بیچ واقع مقام نخلہ کی طرف سفر جاری رکھو،وہاں پہنچ کرقریش کی نگرانی کرو اور ان کے بارے میں معلومات حاصل کرو ۔‘‘ جمادی الثانی یا حرام مہینے رجب کے آخری دن کشمش، کھالیں اور دوسرا سامان تجارت لے کر چار افراد پر مشتمل قریش کا قافلہ گزرا۔ مسلمانوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اگر قافلے والوں کو چھوڑ دیا تو یہ حرم پہنچ کر مامون ہو جائیں گے اور اگر قتال کیا تو یہ حرام مہینے میں ہوگا۔کچھ تردد کے بعد انھوں نے حملے کا فیصلہ کر لیا۔ مشرک کھانا پکانے میں مصروف تھے، حضرت واقد بن عبد ﷲ نے تیر مار کر قافلے کے سردار عمرو بن حضرمی کو قتل کر دیااور عثمان بن عبد ﷲ اور حکم بن کیسان کو قید کر لیا۔ نوفل بن عبد ﷲ فرار ہو گیا ۔ہجرت مدینہ کے بعد یہ ساتویں مہم اور پہلا سریہ تھا جس میں کامیابی ملی،ابن حضرمی عہد اسلامی کا پہلا قتیل اورعثمان اور حکم پہلے اسیر تھے۔ حضرت عبد ﷲ بن جحش نے تاریخ اسلامی میں حاصل ہونے والے پہلے مال غنیمت کی اپنے تئیں تقسیم کر کے ۵؍۱ حصہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے لیے رکھ لیا، حالاں کہ خمس کا حکم نازل نہ ہوا تھا۔اہل سریہ مدینہ پہنچے تو نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمھیں ماہ حرام رجب میں جنگ کرنے کو نہیں کہا تھا۔آپ نے مال غنیمت اور اسیروں کے معاملے میں توقف کیااور کچھ لینے سے انکار فرما یا، تو صحابۂ کرام پشیمان ہو گئے کہ شاید وہ ہلاکت میں پڑگئے ۔اس موقع پر یہ ارشاد ربانی نازل ہوا:

یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الشَّہْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْہِ قُلْ قِتَالٌ فِیْہِ کَبِیْرٌ وَصَدٌّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَکُفْرٌم بِہٖ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَاِخْرَاجُ اَہْلِہٖ مِنْہُ اَکْبَرُ عِنْدَ اللّٰہِ وَالْفِتْنَۃُ اَکْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ.(البقرہ ۲: ۲۱۷)
’’یہ آپ سے ماہ حرام میں قتال کرنے کی بابت سوال کرتے ہیں،کہہ دیجیے،اس مہینے میں جنگ کرنا بہت برا ہے ( اس کے ساتھ ساتھ) لوگوں کواللہ کی راہ سے روکنا، ﷲ کو نہ ماننا، مسجد حرام کا راستہ بند کرنا اور حرم کے رہنے وا لوں کو نکال باہر کرنا  ﷲ کے ہاں اس سے بھی بد تر ہے اور فتنہ و فساد قتل سے بھی بڑا جرم ہے۔‘‘

تب آپ نے مال غنیمت اور قیدیوں کو اپنی تحویل میں لے لیا۔
سریۂ عبد ﷲ بن جحش سے قریش پر مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی عسکری قوت کا رعب بیٹھ گیا۔ اس سے ان کی معیشت کو سخت دھچکا بھی لگا، کیونکہ ان کی شام سے تجارت خطرے میں پڑ گئی۔ان کی تمام تر خوش حالی اسی سے تھی، حبشہ اور یمن سے تجارت کا اتنا حجم نہ تھا کہ وہ اس پر اکتفا کر لیتے۔ان کا یہی رنج والم انھیں اگلے برس بدر کے میدان میں لے آیا۔
حضرت ابو حذیفہ جنگ بدر میں شریک ہوئے۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے مشرک لیڈروں حکیم بن حزام اور عتبہ بن ربیعہ نے سریۂ عبد ﷲ بن جحش میں مارے جانے والے عمرو بن حضرمی کی دیت لے کرمکہ واپس لوٹنے کا مشورہ دیا۔ابو جہل نے ان دونوں کی خوب مذمت کی ،اس نے عتبہ کوخاص طور پر طعنہ دیا کہ تمھارا بیٹا ابوحذیفہ ان کے ساتھ شامل ہے، اس لیے تمھارا سانس پھولا ہوا ہے۔وﷲ، میں اس وقت تک نہ لوٹوں گا جب تک  ﷲ ہمارے اور محمد کے درمیان فیصلہ نہ کردے۔اس نے عمرو کے بھائی عامر بن حضرمی سے کہا کہ اپنے بھائی کا بین کر کے لوگوں کو جنگ پر آمادہ کرو۔عتبہ ابن حضرمی کا حلیف تھا ،اس لیے اب جنگ کرنے پر مجبور تھا۔ لڑائی شروع ہونے سے پہلے نبی صلی  ﷲ علیہ وسلم نے صحابۂ کرام سے فرمایا: مجھے علم ہے کہ بنوہاشم اور دوسرے قبائل کے کچھ لوگوں کو زبردستی میدان جنگ میں لایاگیا ہے ۔انھیں ہم سے قتال کی خواہش نہیں ،اس لیے تم میں سے کسی کا بنوہاشم کے شخص سے سامنا ہو تو اسے قتل نہ کرے۔ اسی طرح اگر ابوالبختری بن ہشام سے مقابلہ ہو جائے تواس کو بھی نہ مارے۔ اگر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے چچا عباس بن عبدالمطلب آگے آ جائیں تو ان پر بھی وار نہ کیا جائے، کیونکہ وہ بادل ناخواستہ میدان میں نکل آئے ہیں۔ اس موقع پر حضرت ابوحذیفہ بن عتبہ نے کہا:کیا ہم اپنے آبا ،بھائیوں ،بیٹوں کو توقتل کر دیں اور عباس کو چھوڑ دیں؟ بہ خدا، اگر میرا سامنا عباس سے ہوا تو میں تلوار سے اس کا گوشت اتار ڈالوں گا۔یہ بات رسول اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم تک پہنچی تو سیدنا عمر کو پہلی بار ان کی کنیت سے پکارکر فرمایا: اے ابوحفص، تو ابو حذیفہ کی بات سن رہا ہے؟کیا رسول ﷲ کے چچا کے چہرے پر تلوار چلائی جائے گی؟ سیدنا عمر نے کہا: مجھے اجازت دیں کہ ابوحذیفہ کی گردن تلوار سے اتار دوں، وﷲ، وہ منافق ہو گیا ہے۔ابوحذیفہ پشیمان ہوئے،ان کا کہنا ہے کہ میں اس روزاپنے منہ سے نکلنے والی بات کی وجہ سے بے سکون ہی رہا، برابر خوف زدہ ہوں، الاّ یہ کہ شہادت مجھ سے یہ داغ دور کرے۔ دور حاضر کے محقق محمد بن طاہر برزنجی نے اس روایت کو ضعیف السندقرار دیا ہے (ضعیف تاریخ الطبری ۷/ ۸۴)۔
جنگ بدر کے دن جسے قرآن مجید نے ’یَوْمَ الْفُرْقَانِ‘ (الانفال ۸: ۴۱) کے نام سے پکارا ہے، حضرت ابوحذیفہ کا باپ عتبہ بن ربیعہ جہنم واصل ہوا۔  ﷲ کے رسول کا یہ جانی دشمن مشرکوں کی طرف سے جنگ میں شریک تھا۔ ابن سعدنے بیان کیا ہے کہ غزوۂ بدر میں حضرت ابوحذیفہ نے اپنے والد عتبہ بن ربیعہ کو مبارزت کے لیے للکاراتو ان کی بہن اور ابوسفیان کی بیوی ہند بنت عتبہ نے یہ اشعار کہے:

الأحول الأثعل المشؤوم طائرہ
أبوحذیفۃ شر الناس فی الدین

’’بھینگا ،جس کے دانت پردانت چڑھے ہوئے ہیں،منحوس قسمت والا ،ابوحذیفہ سب لوگوں میں بدترین عقیدے والا ہے۔‘‘

أما شکرت أبًا رباک من صغر
حتی شببت شبابًا غیر محجون

’’تو نے اپنے باپ کا احسان نہیں چکایاجس نے تجھے بچپن سے پروان چڑھایا، یہاں تک کہ توپورا جوان ہو گیا، بے کج کمر والا ۔‘‘

یہ روایت منفرد ہے، کیونکہ کتب تاریخ اس ذکر سے خالی ہیں کہ حضرت ابوحذیفہ کا اپنے باپ عتبہ سے دوبہ دو مقابلہ ہوا۔ عتبہ کا روبہ رو مقابلہ (duel) تو بہ اختلاف روایت حضرت عبیدہ بن حارث یا حضرت حمزہ بن عبدالمطلب سے ہوا اور آخر کار حضرت حمزہ اور حضرت علی (رضی اللہ عنہما) نے مل کراسے انجام تک پہنچایا۔ ابن اثیر کہتے ہیں: نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے حضرت ابوحذیفہ کو اپنے والد سے دوبہ دو مقابلہ کرنے سے منع فرمادیا تھا (اسد الغابہ ۵/ ۱۷۰)۔
تکمیل فتح مبین پر مقتولین قریش کو ایک گڑھایا کنواں کھودکر اس میں پھینک دیا گیا۔ صحابۂ کرام کہتے ہیں کہ ہم نے آدھی رات کے وقت رسول  ﷲ صلی  ﷲ علیہ وسلم کی آواز سنی۔ آپ فرما رہے تھے: او گڑھے والو، تم نبی کا کتنا ہی برا کنبہ تھے، تم نے مجھے جھٹلایا جب اور لوگوں نے میری تصدیق کی؛تم نے مجھے گھر سے نکال دیا جب دوسروں نے مجھے پناہ دی؛ تم نے مجھ سے جنگ کی، جبکہ لوگوں نے میری نصرت کی۔ پھر آپ پکارے: او عتبہ بن ربیعہ، او شیبہ بن ربیعہ، او امیہ بن خلف، او ابوجہل بن ہشام، آپ نے کنویں میں موجود دوسرے لوگوں کے بھی نام لیے اور فرمایا: کیاتم نے اپنے رب کا وعدہ سچا ہوتے ہوئے دیکھ لیاہے؟ میں نے تواپنے رب کا وعدہ پورا ہوتے دیکھ لیا ہے۔ صحابۂ کرام نے پوچھا: یارسول ﷲ، آپ ان لوگوں کو خطاب کر رہے ہیں جو مر چکے ہیں؟ آپ نے جواب فرمایا: میں جو باتیں ان سے کر رہا ہوں،تمھاری سننے کی صلاحیت ان سے زیادہ نہیں ہے، تاہم یہ جواب دینے کی قدرت نہیں رکھتے۔
حضرت ابوحذیفہ کے والد عتبہ کے جثے کو جب گھسیٹ کرگڑھے میں پھینکا گیاتو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے حضرت ابوحذیفہ کے چہرے پر نظر ڈالی ۔آپ نے دیکھا کہ اس پر غم اور افسردگی کے بادل چھائے ہوئے تھے۔ فرمایا: لگتا ہے ،اپنے باپ کے انجام سے تمھیں دکھ پہنچا ہے۔ نہیں ،نہیں، ﷲ کے نبی، بہ خدا، ایسا نہیں ہے۔مجھے کوئی شبہ نہیں کہ میرا باپ مشرک تھا اور اس کا یہی انجام ہونا تھا۔ میں نے اپنے باپ میں راے،دور اندیشی اور کمال کی فضیلتیں دیکھ رکھی تھیں، اس لیے توقع تھی کہ یہ خوبیاں اسلام کی طرف اس کی راہ نمائی کریں گی ۔ میری امیدوں کے برعکس جب وہ کفر پر مرا تو مجھے رنج ہوا۔رسول اکرم صلی ﷲعلیہ وسلم نے تب حضرت ابوحذیفہ کے لیے دعاے خیر فرمائی۔
حضرت ابوحذیفہ نے جنگ احد، جنگ خندق اور باقی تمام غزوات اور صلح حدیبیہ میں شرکت کی۔
حضرت سالم کے والد کا نام معقل تھا۔وہ حضرت ابوحذیفہ بن عتبہ کے حلیف اور لے پالک تھے، اس لیے عرب کی روایت کے مطابق انھی سے منسوب کیے جاتے ہیں۔امام بخاری کہتے ہیں کہ حضرت سالم انصار کی ایک خاتون ثبیتہ بنت یعارکے غلام تھے،انھوں نے سالم کوآزاد کیاتو حضرت ابو حذیفہ نے انھیں متبنیٰ بنا لیااور اپنی بھانجی ہند بنت ولیدبن عتبہ سے ان کا بیاہ کر دیا (بخاری، رقم ۵۰۸۸)۔ ابن سعد کہتے ہیں: ثبیتہ حضرت ابوحذیفہ کی بیوی تھیں۔ جب ﷲ تعالیٰ نے حکم ’اُدْعُوْہُمْ لِاٰبَآءِہِمْ ہُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْٓا اٰبَآءَ ہُمْ فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِ وَمَوَالِیْکُمْ‘، ’’لے پالکوں کو ان کے (حقیقی) باپوں کے نام سے پکارو،یہی ﷲ کے ہاں زیادہ قرین انصاف ہے،اور اگر تمھیں ان کے آبا کا علم ہی نہ ہو تو تمھارے دینی بھائی اور رفقا ہیں‘‘ (الاحزاب ۳۳: ۵) نازل کیا تو تمام متبنیٰ اپنے باپوں کو لوٹا دیے گئے اور جس کے باپ کا علم نہ تھا اپنے مولا (آزاد کرنے والے)کو دے دیا گیا۔ تب سالم ابن ابوحذیفہ کے بجاے سالم مولیٰ ابوحذیفہ کے نام سے مشہور ہو گئے۔
ایک بار حضرت ابو حذیفہ کی بیوی حضرت سہلہ بنت سہیل رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا: سالم مردوں کی طرح عاقل و بالغ ہو گیا ہے ۔وہ میرے پاس آتا جاتا ہے، مجھے لگتا ہے کہ ابوحذیفہ اسے برا سمجھتے ہیں، آپ نے فرمایا: اسے دودھ پلادو تو وہ تمھارے لیے محرم بن جائے گا (مسلم، رقم ۳۵۹۱)۔ حضرت سہلہ نے کہا: میں اسے کیسے دودھ پلاؤں ،وہ تو (ڈاڑھی مونچھ والا) بڑا آدمی ہے؟ آپ مسکرائے اور فرمایا: میں جانتا ہوں کہ وہ بڑا شخص ہے (مسلم عن عائشۃ: ۳۵۹۰)۔ دودھ پلائی کے بعد حضرت سہلہ بنت سہیل پھر نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو نبی بنا کر مبعوث کیا ہے، میں اب ابوحذیفہ کے چہرے پر ناگوار تاثرات نہیں دیکھتی (نسائی، رقم ۳۳۲۲)۔ سیدہ عائشہ اور سیدہ ام سلمہ سے مشترکہ روایت ہے کہ حضرت سہلہ نے کہا: یا رسول ﷲ، ہم تو سالم کو بچہ ہی سمجھتے ہیں،وہ میرے اور حضرت ابوحذیفہ کے ساتھ ایک ہی مکان (تنگ مکان:مسند احمد، رقم ۲۵۷۸۹)میں رہتا ہے اور مجھے کام کاج کے مختصر کپڑوں میں دیکھتا رہتاہے۔ ﷲ نے ایسے ملازمین کے بارے میں جو حکم نازل کر رکھا ہے، اس کی روشنی میں آپ کیا ارشاد فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اسے دودھ پلا دو۔ چنانچہ حضرت سہلہ نے حضرت سالم کو پانچ بار (دس بار: مسند احمد، رقم ۲۶۱۹۳) دودھ پلایا تووہ ان کے رضاعی بیٹے کے مانند ہو گیا۔ سیدہ عائشہ اپنی بھتیجیوں اور بھانجیوں کو گھرمیں آنے جانے والے ملازموں کے باب میں اسی طریقے پرعمل کرنے کا مشورہ دیتی تھیں،تاہم سیدہ ام سلمہ اور باقی ازواج النبی نے پسند نہ کیا کہ گود میں بٹھائے بغیر اس طرح کی دودھ پلائی کے ذریعے وہ کسی شخص کو اپنے گھر میں داخل کر لیں۔ وہ سیدہ عائشہ سے کہتی تھیں: ہمیں نہیں معلوم،شاید یہ ایک رخصت ہو جو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے محض سالم کے لیے جائز قرار دی ہو(مسلم، رقم ۳۵۹۵۔ ابو داؤد، رقم ۲۰۶۱)۔
۱۱ ھ میں سیدنا ابوبکر نے یمامہ کے جھوٹے نبی مسیلمہ کذاب کی سرکوبی کے لیے تیرہ ہزار کا لشکر حضرت خالد بن ولید کی سربراہی میں روانہ کیا۔ حضرت ثابت بن قیس اور حضرت براء بن فلان انصار کے کمانڈر تھے، جبکہ حضرت ابوحذیفہ اور حضرت زیدمہاجرین کے سالار تھے۔ ہر قبیلے کی جدا کمان بھی تھی۔ جیش اسلامی کا مسیلمہ کی فوج سے سامنا ہوا تو دونوں فوجوں نے اپنی اپنی ترتیب درست کی۔ حضرت خالد بن ولید نے حضرت خالد مخزومی (یا حضرت شرحبیل بن حسنہ) کو مقدمہ کی کمان دی، جبکہ میمنہ و میسرہ پر حضرت زید اور حضرت ابوحذیفہ کو مقرر کیا۔ مہاجرین کا پرچم سالم مولیٰ ابوحذیفہ نے تھام لیا۔ حضرت ابو حذیفہ اور حضرت زیدنے آخری دم تک دشمن سے مقابلہ کرنے کا عہد کیا۔ حضرت خالد بن ولید، حضرت زید بن ثابت اور حضرت ابوحذیفہ بن عتبہ نے فوج کو دلیری دی اورخوب جوش دلایا۔ حضرت زید نے کہا: وﷲ، میں دشمن کو شکست سے دوچار کرنے تک کوئی کلام نہ کروں گا یا ﷲ سے جا ملوں گا اوراسی سے اپنی معذوری بیان کروں گا۔ لوگو، اپنے دانت دبا لو اور دشمن پر کاری وار کر ڈالو۔ چنانچہ جیش اسلامی جھوٹے نبی کی فوج پر پل پڑااور اسے پرے دھکیل دیا۔ اس حملے میں حضرت زید شہید ہوئے۔ اب حضرت ثابت للکارے: مسلمانو، تم حزب ﷲ ہو اور یہ حزب شیطان۔ عزت ﷲ، اس کے رسول اور اس کے احزاب ہی کو حاصل ہو گی۔ جیسے میں دشمن پر حملہ کر رہا ہوں ،تم بھی کر کے دکھاؤ۔وہ شمشیر زنی کرتے ہوئے دشمن کی صفوں میں گھس گئے اور اس پر قابو پالیا۔ اب حضرت ابو حذیفہ پکارے: اے قرآن کے حاملو، قرآن کو اپنے کارناموں سے مزین کرو۔اس پکار کے ساتھ انھوں نے مسیلمہ کے لشکر پر زوردار حملہ کیا، صفوں کو چیرتے آگے بڑھ گئے اور جام شہادت نوش کیا۔ حضرت ابوحذیفہ کے آزادکردہ حضرت سالم اور ان کے انصاری بھائی حضرت عباد بن بشر بھی اسی معرکہ میں شہید ہوئے، حضرت سالم نے آخری دم تک علم تھامے رکھا۔
حضرت ابوحذیفہ دراز قامت اورخوب صورت تھے۔ان کے دانت اوپر تلے ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے تھے،یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کا ایک دانت زائد تھا۔ حضرت ابوحذیفہ بھینگے تھے۔ انھوں نے چھپن(یا چون) برس کی عمر میں شہادت پائی۔ حضرت ابوحذیفہ کی پہلی بیوی حضرت سہلہ بنت سہیل کا تعلق بنو عامر بن لؤی سے تھا۔ان سے محمد پیدا ہواجواپنے چچا حضرت عثمان کی کفالت میں رہا۔عہد عثمانی میں اس نے شراب پی تو انھوں نے اس پر حد جاری کر دی۔اس نے گورنری کا مطالبہ کیا تو حضرت عثمان نے کہا: تو اہل ہوتا توتجھے ضرور گورنر بناتا۔ پھر اس نے مصر جانے کی خواہش کی تو وہاں بھیج دیا۔ یہی محمدبن ابوحذیفہ حضرت عثمان کے خلاف پراپیگنڈہ کرنے میں پیش پیش رہا۔ اس نے اہل مصر کو حضرت عثمان کے خلاف ابھارااور آگے بڑھ کر ان پر حملہ کیا۔ حضرت ابوحذیفہ کی شہادت کے بعد حضرت سہلہ حضرت عبدالرحمن بن عوف کے نکاح میں آئیں۔ بنو امیہ کی حضرت آمنہ بنت عمرو حضرت ابوحذیفہ کی دوسری بیوی تھیں۔ ان سے عاصم نے جنم لیا۔ ابن سعد کہتے ہیں کہ ولید بن عتبہ کے پڑپوتے مغیرہ بن عمر ان کے علاوہ عتبہ بن ربیعہ اور حضرت ابو حذیفہ بن عتبہ کی نسل میں سے کوئی باقی نہیں رہا۔
مطالعۂ مزید: السیرۃ النبوےۃ(ابن ہشام)، الطبقات الکبریٰ (ابن سعد)،تاریخ الامم والملوک (طبری)، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب(ابن عبدالبر)،المنتظم فی تواریخ الملوک والامم (ابن جوزی)، الکامل فی التاریخ (ابن اثیر)، اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ (ابن اثیر)، البداےۃ والنہاےۃ (ابن کثیر)،سیراعلام النبلاء (ذہبی)، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ (ابن حجر)، سیرۃ النبی(شبلی نعمانی)۔

_____

* التوبہ۹: ۱۰۰۔

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت نومبر 2014
مصنف : ڈاکٹر وسیم مفتی
Uploaded on : Dec 03, 2018
75 View