حضرت خالد بن سعید رضی ﷲ عنہ - ڈاکٹر وسیم مفتی

حضرت خالد بن سعید رضی ﷲ عنہ

 

حضرت خالد بن سعید کے دادا کا نام عاص بن امیہ تھا۔ان کے پڑدادا امیہ بن عبد شمس قریش کے خاندان بنو امیہ کے بانی تھے ،ان کی نسبت سے وہ اموی کہلاتے ہیں۔عبد مناف پر ان کا شجرہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے شجرہ سے جا ملتا ہے۔ عبد مناف آپ کے چوتھے، جبکہ حضرت خالد کے پانچویں جد تھے۔ حضرت خالدکی والدہ انھی کے نام سے ام خالد کنیت کرتی تھیں۔ ان کے ناناحباب بن عبدیالیل بنو ثقیف (یا بنو خزاعہ)سے تعلق رکھتے تھے۔ابوسعید حضرت خالد کی کنیت تھی۔
حضرت خالد بن سعید ان اصحاب رسول میں سے تھے جنھیں قرآن مجید نے ’السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ‘ * کی صفت سے متصف کیا ہے۔ابن اسحاق کی بیان کردہ فہرست میں ان کا شمار پینتالیسواں ہے، جبکہ واقدی کا کہناہے کہ وہ حضرت ابوبکر کے ایمان لانے کے فوراً بعد،پانچویں نمبرپر مشرف بہ اسلام ہوئے۔بعثت نبوی کے فوراً بعدحضرت خالد نے خواب میں دیکھا کہ وہ ایک گڑھے کے کنارے کھڑے ہیں جس میں آگ خوب دہک رہی ہے۔گڑھا بہت بڑا اور بہت گہرا ہے۔ ان کا باپ انھیں اس گڑھے میں پھینکنے ہی لگا تھا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے انھیں پہلوؤں سے پکڑ لیا اور گرنے سے بچا لیا۔وہ گھبرا کر بیدار ہوئے اور کہا: اﷲ کی قسم، یہ سچا خواب ہے۔ وہ سیدنا ابو بکر سے ملے اور خواب بیان کیا۔ انھوں نے کہا: تم سے بھلائی کا ارادہ کیا گیا ہے، محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی پیروی کر لو۔ان کی اتباع کرنے اور دائرۂ اسلام میں داخل ہونے سے تم جہنم کے اس گڑھے میں گرنے سے بچ جاؤ گے جس میں تمھارا باپ گرنے والا ہے۔چنانچہ وہ اجیاد کے مقام پرآپ سے ملے اورپوچھا: یا محمد، (صلی اللہ علیہ وسلم) آپ کیا دعوت دے رہے ہیں؟ فرمایا: میں اس اﷲ کی طرف بلاتا ہوں جو یکتا ہے اور کوئی اس کا شریک نہیں،آگاہ کرتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اﷲ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ تم جن پتھروں اور بتوں کی عبادت کرتے ہو، وہ سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں، ضرر دے سکتے ہیں نہ نفع پہنچا سکتے ہیں، نہ جان سکتے ہیں کہ کون ان کی پوجا کر رہا ہے اور کون نہیں۔میں دعوت دیتا ہوں کہ ان کی بندگی چھوڑ دو ۔حضرت خالد نے فی الفور کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سواکوئی معبود نہیں اور آپ اﷲ کے رسول ہیں۔ ان کے شہادت حق دینے پرآپ بہت خوش ہوئے۔کچھ روایات کے مطابق وہ ساتویں یا آٹھویں خوش بخت تھے جو ایمان کی نعمت سے سرفراز ہوئے۔حضرت خالد کے بھتیجے عبداﷲ بن عمرو نے ان کا شمارتیسرا یا چوتھااور ان کی بیٹی حضرت ام خالد نے پانچواں بتایا۔ حضرت ام خالدنے پہلے چار اہل ایمان کے نام بھی لیے: حضرت علی، حضرت ابوبکر، حضرت زید بن حارثہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص۔ سیدہ خدیجہ کا نام بھی شامل کر لیا جائے تو روایتوں کا تفاوت دور ہو جاتا ہے۔ابن خلدون نے حضرت خالد سے پہلے ایمان قبول کرنے والوں میں حضرت بلال اور حضرت عمر بن عنبسہ کے نام بھی لیے ہیں۔ انھوں نے حضرت سعد کے اسلام کو حضرت خالد سے موخر مانا ہے۔ قبول اسلام کے وقت حضرت خالد شادی شدہ تھے،ان کی اہلیہ امینہ(یا ہمینہ) بنت خلف نے ان کے ساتھ ہی خلعت ایمان پہنا۔ حضرت خالدکے بھائی حضرت عمروبن سعیدبعد میں ایمان لائے۔
ایمان لانے کے بعدحضرت خالد گھر سے غائب ہو گئے۔حضرت خالد کے والد ابو احیحہ(سعید)کو پتا چلا توان کے مشرک بھائیوں اور اپنے غلام رافع کو ان کی تلاش میں دوڑایا۔انھیں پکڑ کر باپ کے سامنے لایا گیا تو اس نے خوب ڈانٹ پھٹکار کی،برا بھلا کہا اور ہاتھ میں پکڑی ہوئی چھڑی کے ساتھ خوب پیٹا۔چھڑی ان کے سرپر ٹوٹ گئی تو کہا: تو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا پیرو ہو گیا ہے، حالاں کہ تمھیں معلوم ہے کہ اس نے تمھاری قوم کی مخالفت کی ،قوم کے معبودوں کو برا بھلا کہا اور تمھارے گزرے ہوئے آبا و اجدادکی عیب جوئی کی۔حضرت خالدنے کہا: وہ صادق اور راست باز ہیں۔ واﷲ، میں ان کی اطاعت میں آگیا ہوں۔باپ کا پارا اور چڑھ گیا،اس نے مزید مار پیٹ کی اور مکرر گالیوں سے نوازا۔ پھر کہا: چلا جا ، جہاں چاہتا ہے ۔میں تمھارا دانہ پانی بند کردوں گا، انھوں نے جواب دیا: اگر تو میری خوراک بند کرے گا تو اﷲ مجھے رزق دے دے گا جس سے زندہ رہ لوں گا۔اس نے اپنے بیٹوں کو تاکید کی کہ تم میں سے کوئی اس سے بات بھی نہ کرے۔ چنانچہ حضرت خالد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس چلے آئے اور آپ کے ساتھ رہنے لگے۔ اس وقت آپ نے علانیہ دعوت شر وع نہ کی تھی۔حضرت خالد بھی مکہ کے نواح میں تنہا نماز ادا کرتے۔ وہ اپنے والدکی سختی کے باوجود اسلام چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوئے تو اس نے انھیں مکہ کے ریگ زار میں بھوکا پیاسا ڈال دیا۔ تین دن کے بعد وہ وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔
ایک بار حضرت خالد کے والد سعید بن عاص بیمار ہوئے تو کہا: اگر اﷲ نے مجھے اس مرض سے شفا دی تو وادی مکہ میں ابن ابی کبشہ(محمد صلی اﷲ علیہ وسلم)کے رب کی بندگی نہ کی جا سکے گی۔حضرت خالد بولے: اﷲ انھیں شفا نہ دے۔ چنانچہ سعید نے اسی مرض میں وفات پائی۔
اسلام کی طرف سبقت کرنے والے اہل ایمان پر ایذائیں توڑنے میں قریش حد سے گزر گئے، تو آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: اﷲ کی زمین میں بکھرجاؤ۔ پوچھا: کہاں جائیں ،یا رسول اﷲ؟ آپ نے حبشہ کی طرف اشارہ کیا، اور فرمایا: وہاں کے بادشاہ کی سلطنت ظلم و جور سے پاک ہے۔چنانچہ رجب ۵ نبوی میں حضرت عثمان بن مظعون کی قیادت میں پندرہ اصحاب کا پہلا قافلہ سوے حبشہ روانہ ہوا۔پھرکئی مسلمانوں نے حبشہ کا رخ کیا۔ حضرت خا لد بن سعید اور ان کی اہلیہ حضرت امینہ بنت خلف حضرت جعفر بن ابو طالب کی معیت میں حبشہ گئے۔ حضرت خالد کے بھائی حضرت عمرو بن سعید اور ان کی اہلیہ حضرت فاطمہ بنت صفوان بھی ساتھ تھیں۔ اس قافلے کے سڑسٹھ ۱؂ شرکا کو شامل کر کے مہاجرین کی کل تعداد تراسی۲؂ ہو گئی۔
عبیداﷲ بن جحش اور ان کی اہلیہ حضرت ام حبیبہ (اصل نام:رملہ)بنت ابوسفیان نے بھی حبشہ ہجرت کی۔حبشہ پہنچ کر عبیداﷲ کے اپنے الفا ظ میں، ’’ان کی آنکھیں کھل گئیں‘‘ اور وہ مرتد ہو کرنصرانی ہو گئے۔ حضرت ام حبیبہ اسلام پر قائم رہیں تو عبیداﷲ نے انھیں چھوڑ دیا۔ ۷ھ میں آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کا ارادہ کیااور حضرت عمرو بن امیہ ضمری کوپیام دے کر حبشہ روانہ فرمایا۔شاہ حبشہ نجاشی نے اپنی باندی ابرہہ کے ذریعے سے حضرت ام حبیبہ کی مرضی معلوم کی، پھر حضرت جعفر بن ابوطالب اور دیگر مہاجرین حبشہ کو جمع کر کے آپ سے ان کا نکاح پڑھایا۔ آپ کی طرف سے چا ر سو دینار بطور مہربھی ادا کیے۔ حضرت ام حبیبہ نے حضرت خالد بن سعید بن عاص کو اپنا وکیل مقررکیا، انھوں ہی نے دلہن کی طرف سے قبولیت کے کلمات کہے اور مہر کی رقم وصول کی ۔ایک شاذ روایت کے مطابق حضرت عثمان بن عفان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وکیل بنے۔ نجاشی کی ملکاؤں نے حضرت ام حبیبہ کو خوشبو کے تحائف دیے۔ حضرت عمرو بن امیہ کو حبشہ بھیجنے کی دوسری غایت یہ تھی کہ مہاجرین کو مدینہ لایا جائے ۔ طبرانی کی ’’معجم کبیر‘‘ (رقم ۱۴۷۸) میں بیان ہوا ہے:
’’ہجرت مدینہ کو سات برس بیت گئے تو جعفر اور باقی مہاجرین نے یہ کہہ کر مدینہ جانے کی خواہش ظاہر کی کہ ہمارے نبی غالب آ گئے ہیں اور دشمن مارے جا چکے ہیں۔ چنانچہ نجاشی نے زاد راہ اور سواریاں دے کر ان کو رخصت کیا۔‘‘
دو کشتیوں میں پورے آنے والے ان مہاجرین کے نام یہ ہیں: حضرت جعفر بن ابو طالب، ان کی اہلیہ حضرت اسماء بنت عمیس، ان کے بیٹے حضرت عبداﷲ بن جعفر،حضرت خالد بن سعید بن عاص، ان کی اہلیہ حضرت امینہ (:ابن اسحاق یا ہمینہ: ابو معشر) بنت خلف، قیام حبشہ کے دوران میں پیدا ہونے والے ان کے بیٹے حضرت سعید بن خالد اور حضرت امہ(کنیت: ام خالد) بنت خالد، حضرت خالد کے بھائی حضرت عمرو بن سعید بن عاص، حضرت معیقیب بن ابو فاطمہ، حضرت ابو موسیٰ اشعری، حضرت اسودبن نوفل، حضرت جہم بن قیس، ان کے بیٹے حضرت عمرو بن جہم اور حضرت خزیمہ بن جہم، حضرت عامر بن ابو وقاص، حضرت عتبہ بن مسعود، حضرت حارث بن خالد، حضرت عثمان بن ربیعہ، حضرت محمیہ بن جز، حضرت معمر بن عبداﷲ، حضرت ابوحاطب بن عمرو، حضرت مالک بن ربیعہ، ان کی زوجہ حضرت عمرہ بنت سعدی اور حضرت حارث بن عبد قیس۔ سر زمین حبشہ میں وفات پاجانے والے اہل ایمان کی بیوگان بھی کشتیوں میں سوار تھیں۔ مہاجرین کی دونوں کشتیاں صحیح سلامت حجاز (بولا: ابن سعد) کے ساحل پر پہنچ گئیں۔ پھر وہ اونٹوں پر سوار ہو کر مدینہ پہنچے۔ان دنوں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم فتح خیبر سے فارغ ہوئے تھے ،آپ مدینہ لوٹے تو مہاجرین کو خوش آمدید کہا ۔ ابن ہشام کے بیان سے لگتا ہے کہ ام المومنین ام حبیبہ بنت ابو سفیان ان کشتیوں کے مسافروں میں شامل نہ تھیں، جبکہ ابن خلدون نے وضاحت کی ہے کہ وہ لوٹنے والے مہاجرین کی ہم سفرتھیں۔
حضرت خالد بن سعید کی بیٹی حضرت ام خالد بیان کرتی ہیں کہ میرے والد چودہ برس حبشہ میں مقیم رہے۔میں وہیں پیدا ہوئی۔ ۷ھ میں وہ حبشہ سے لوٹے اور نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے خیبرمیں ملاقات کی۔آپ نے لوٹنے والے مہاجرین سے گفتگو فرمائی اور خیبر کی غنیمتوں میں سے حصہ دیا۔ ہم آپ ہی کے ساتھ مدینہ واپس آئے۔میرے والد حضرت خالد عمرۂ قضا کے لیے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ گئے۔ انھوں نے اور میرے چچا حضرت عمرو بن سعید نے فتح مکہ اور غزوۂ تبوک میں حصہ لیا۔حضرت خالد بن سعید حنین اور طائف کی جنگوں میں شریک رہے۔ حضرت خالد کوآپ نے صدقات و زکوٰۃ کی وصولی کے لیے یمن(مذحج) کا عامل (collector) مقرر کیا، آپ کے حکم پر وہ صنعاء کے عامل بھی رہے۔ فیروز دیلمی بھی نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف سے صنعاء پر عامل مقرررہے۔
حضرت خالدبن سعید اور حضرت عمروبن سعید نے حبشہ سے آکر مکہ میں مقیم اپنے مشرک بھائی ابان بن سعید کو قبول اسلام کی دعوت دی، چنانچہ وہ مسلمان ہو کر مدینہ چلے آئے۔
حضرت خالد بن سعید نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اﷲ، ہم نے آپ کے ساتھ بدر کے معرکہ میں حصہ نہیں لیا۔آپ نے جواب فرمایا: خالد، تم پسند نہیں کرتے کہ لوگوں کی ایک ہجرت ہو اور تمھاری دو ہجرتیں۔ حضرت خالد نے کہا: کیوں نہیں؟آپ نے فر مایا: تمھیں دہرااجر ہی ملے گا۔حضرت خالد آپ سے ملنے آئے تو ان کی بیٹی امہ( ام خالد)ان کے ساتھ تھیں۔ انھوں نے بیٹی سے کہا: اپنے چچا ،رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور انھیں سلام کرو۔ام خالدتب چھوٹی تھیں،وہ بیان کرتی ہیں: ’’میں اپنے والد کے ساتھ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس آئی تو زرد قمیص پہن رکھی تھی۔آپ نے فرمایا: ’سنہ ،سنہ‘۔حبشہ کی امہری زبان (amharic) کے اس لفظ کا مطلب ہوتا ہے: خوب صورت۔(میں پیچھے سے آکر آپ سے لپٹ گئی اور) مہر نبوت سے کھیلنے لگی۔ میرے والد نے ڈانٹا تو آپ نے ارشاد فرمایا: اسے کھیلنے دو، پھرتین بار فرمایا: اس قمیص کوخوب پہنو ، خوب استعمال کرو‘‘ (بخاری، رقم ۳۰۷۱)۔
۹ ھ میں بنو علاج کا عمرو بن امیہ عبد یالیل بن عمرو ثقفی کے پاس آیا اور کہا: تمام عرب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا مطیع ہو گیا ہے،اب ہم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ چنانچہ بنو ثقیف نے باہمی مشاورت کے بعد قبول اسلام کے لیے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس ایک وفد بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے حلیف قبائل کے نمائندے بھی اس میں شا مل تھے۔ماہ رمضان میںیہ چھ (یاپندرہ)رکنی وفد مدینہ آیا ۔حضرت ابوبکر نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو ان کی آمد کی اطلاع دی۔وہ آپ سے ملے۔ آپ نے ان کے ٹھہرنے کے لیے ان کی خواہش کے مطابق مسجد نبوی کے ایک کونے میں خیمہ لگوادیا۔ ہر روز عشا کے بعدآپ ان کے پاس آ کر بیٹھتے اور بات چیت کرتے۔ بنو ثقیف کے لوگ آپ کی بیعت کرنے کے ساتھ ایک معاہدہ تحریر کرنا چاہتے تھے جس میں آپ کی طرف سے عائد کردہ شرائط کے علاوہ بنوثقیف کے لیے پروانۂ امن درج ہو۔ حضرت خالد بن سعیدنے بنو ثقیف کے خیمے اور آپ کے درمیان بھاگ دوڑ کرمذاکرات مکمل کرائے اور جب معاہدہ طے پاگیا تو انھوں نے اسے تحریر بھی کیا۔ آپ کی طرف سے انھیں کھانا بھیجا جاتا تو وہ پہلے حضرت خالد کو کھلاتے اور پھر خود کھاتے۔آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے بنو ثقیف کی اس شرط کو رد کر دیا کہ لات کے صنم کوتین سال تک منہدم نہ کیا جائے۔ انھوں نے اس مدت کو کم کر کے لات کو ایک سال، پھر ایک ماہ تک ثابت و سالم رکھنے کا مطالبہ کیا توبھی آپ نے قبول نہ فرمایا۔ انھوں نے نماز کی چھوٹ مانگی توآپ نے سخت تہدید کرتے ہوئے فرمایا: ’’اس دین میں کوئی بھلائی نہیں جس میں نماز نہ ہو۔‘‘بنوثقیف کے مطیع ہو جانے کے بعد آپ نے حضرت عثمان بن ابو العاص ثقفی کو ان کا امیر مقرر فرمایا۔ وہ جوان تھے اور اسلام کے احکام سیکھنے سکھانے اور قرآن مجید پڑھنے پڑھانے کے بہت حریص تھے۔
۱۰ ھ میں بنو مراد کے فروہ بن مسیک رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے ملنے آئے اور اسلام قبول کیا۔آپ نے انھیں بارہ اوقیہ(اونس)سونا،ایک عمدہ نسل کا اونٹ اور عمان کی پوشاک عطا کی اور مراد،زبید اور مذحج قبائل کا عامل مقرر کیا۔آپ نے صدقات کی وصولی کے لیے حضرت خالد بن سعید بن عاص کو ان کے ساتھ روانہ فرمایااورانھیں ایک خط دیا جس میں فرض صدقات کی تفصیل درج تھی۔حضرت خالد کی عمل داری نجران ،رمع اورزبیدکے درمیانی علاقے پر محیط تھی ،وہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی وفات تک اسی عہدے پر کام کرتے رہے اور وہیں مقیم رہے۔
۱۱ھ میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم مرض وفات میں مبتلا ہوئے۔آپ کی بیماری کی خبر سن کر مسیلمہ کذاب نے یمامہ میں اور اسود عنسی نے یمن میں شورش برپا کر دی۔ اسود اپنی شعبدہ بازی اور سحر بیانی سے لوگوں کی عقل پر پردہ ڈال لیتا تھا ۔حضرت خالدکے ساتھی عمرو بن معدیکرب مرتد ہو کر اس سے مل گئے۔حضرت خالدانھیں روکنے کے لیے گئے توان میں باہم جنگ ہوئی۔حضرت خالد نے وار کر کے ان کی تلوار کا پرتلا کاٹ دیا جس سے ان کے کاندھے پر بھی چوٹ آئی۔وہ دوبارہ حملہ کرنا چاہتے تھے کہ عمروگھوڑے سے کود کر پہاڑ پر چڑھ گئے۔ حضرت خالد نے ان کی صمصامہ نامی تلوار اور گھوڑے پر قبضہ کر لیا۔آخرکاراسود عنسی نے عمروبن حزام(یاحرام) اور عامل حضرت خالد بن سعید کو یمن سے نکال باہر کیا اور خود حضرت خالد کے مکان میں براجمان ہو گیا۔ دونوں عامل مدینہ لوٹ آئے تو تمام یمن اسود کے قبضے میں آگیا ۔عمروبن معدیکرب بعد میں گرفتار ہو کر سیدنا ابوبکر کے سامنے پیش ہوئے اور ارتداد سے رجوع کر کے پھر داخل اسلام ہوئے۔حضرت خالد بن سعید کا عمرو کی تلوار اور گھوڑا ضبط کرنا ایسا عمل تھا جسے فقہ اسلامی میں خاص اہمیت دی گئی۔سقوط ایران کے بعدشاہ خسرو(کسریٰ)کا تاج، زیورات اور پوشاکیں عامۃ المسلمین کے ملاحظے کے لیے مدینہ بھیجے گئے تو اسے حضرت خالد بن سعید کے اس عمل کے مشابہ قرار دیا گیا۔
ایک روایت ہے کہ آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی چاندی کی انگوٹھی جس پرمحمد رسول اﷲ نقش تھا،حضرت خالد بن سعید نے آپ کو دی تھی۔
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی وفات کے ایک ماہ بعدحضرت خالد بن سعیدیمن سے مدینہ چلے آئے۔ان کے بھائی عمروتیما وخیبر سے اور ابان بحرین سے اپنی ذمہ داریاں چھوڑ کر آ گئے۔ سیدنا ابوبکر نے پوچھا: تم کیوں لوٹ آئے ہو؟ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے مقرر کردہ عمال سے بہتر کون عامل ہو سکتا ہے۔اپنے مناصب پر واپس چلے جاؤ۔ انھوں نے کہا: ہم ابواحیحہ(سعید بن عاص) کی اولاد ہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد کسی کا عامل نہ بنیں گے۔
حضرت خالد یمن سے آئے تو ریشمی چوغہ پہن رکھا تھا، سیدنا عمر اور سیدنا علی سے ان کی ملاقات ہوئی۔ حضرت عمر دیکھتے ہی چلائے: اس کا جبہ پھاڑ پھینکو،ریشم پہنے ہوئے ہے، حالاں کہ یہ زمانۂ امن میں ہمارے مردوں کے لیے ممنوع ہے۔چنانچہ آس پاس کھڑے ہوئے لوگوں نے جبہ پھاڑ اتارا۔ حضرت ابوبکر کی بیعت ہو چکی تھی، لیکن حضرت خالد نے دو ماہ (دوسری روایت:تین ماہ) تک ان کی بیعت نہ کی ۔وہ کہتے تھے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے امارت مجھے دی تھی، پھر اپنی وفات تک معزول نہ فرمایا۔حضرت خالد بن سعید حضرت علی اور حضرت عثمان سے ملے اور سوال کیا: اے ابوالحسن (علی)، اے بنی عبد مناف (عثمان)، امر خلافت میں کیا تم مغلوب ہو گئے تھے؟تم کیسے راضی ہو گئے کہ کوئی اور والی خلافت بن کر تم پر حکومت کرنے لگے؟ حضرت علی نے کہا: تم اسے مغلوب ہونا کہتے ہو یا انتخاب خلافت سمجھتے ہو؟ حضرت ابوبکر نے ان کی بات کو اہمیت نہ دی، لیکن حضرت عمر نے برا مانااور خوب ڈانٹا۔ حضرت خالد بن سعید نے بنوہاشم سے کہا: تم اونچے درختوں اور خوش ذائقہ پھلوں والے لوگ ہو۔ہم تمھارے پیرو ہیں۔ چنانچہ جب سب بنو ہاشم نے حضرت ابوبکر کی بیعت کر لی تو وہ بھی آمادہ ہو گئے۔ حضرت خالد حضرت ابوبکر کے پاس آئے اور پوچھا: کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کی بیعت کر لوں؟ انھوں نے جواب دیا: میں چاہتا ہوں کہ آپ اس صلح و سلامتی میں شریک ہو جائیں جس میں باقی اہل اسلام داخل ہو چکے ہیں۔ حضرت خالد نے کہا: آج شام کا وعدہ ہے، میں آپ کی بیعت کر لوں گا۔ شام کے وقت حضرت خالد آئے تو ابو بکر منبر پر بیٹھے اور حضرت خالد نے بیعت کی۔
۱۳ھ میں خلیفۂ اول نے شام کی طرف فوج بھیجی توسب سے پہلے حضرت خالد بن سعید کو سالار مقررکرکے پرچم عطا کیا۔وہ پرچم لے کر گھر آ گئے۔اسی اثنا میں حضرت عمرنے ان سے کہا: آپ نے حضرت خالد بن سعید کو سالار بنا دیا، حالاں کہ وہ(آپ کی خلافت کے بارے میں) کیا کچھ کہہ چکے ہیں۔ حضرت ابوبکرنے اسی وقت ابوارویٰ دوسی کو حضرت خالد کے گھر بھیجا۔ انھوں نے حضرت خالد سے کہا: خلیفۂ رسول اﷲنے حکم دیا ہے کہ ہمارا پرچم واپس کردیا جائے۔حضرت خالد نے پرچم لوٹا کر کہا: واﷲ، آپ کے سپہ سالار بنانے نے ہمیں خوش کیانہ آپ کا معزول کرنا برا لگا۔ حضرت ام خالد کہتی ہیں کہ پھر حضرت ابو بکرمیرے والد سے معذرت کرنے آئے اور ان سے وعدہ لیا کہ حضرت عمر سے کچھ نہ کہیں گے۔ چنانچہ میرے والد وفات تک حضرت عمر کے لیے دعاے رحمت کرتے رہے۔حضرت خالد بن سعید کو ہٹانے کے بعد حضرت ابوبکر نے حضرت یزید بن ابوسفیان کو سات ہزار کی فوج کاکمانڈر مقرر کیا اور وہی علم ان کے ہاتھ میں دے دیا ۔
حضرت ابوبکر نے حضرت خالد بن سعید کو معزول کرنے کے بعد پوچھا: کون سا کمانڈر تمھیں زیادہ پسند ہے؟ تو انھوں نے کہا: میرے چچا زاد، حضرت شرحبیل بن حسنہ۔وہ قرابت داری کے علاوہ مجھے دینی طورپر بھی محبوب ہیں، کیونکہ وہ رسول اﷲ صلی اﷲعلیہ وسلم کے زمانے سے میرے دینی بھائی رہے ہیں۔چنانچہ حضرت خالد نے حضرت شرحبیل کے ساتھ رہنا پسند کیا۔ حضرت ابوبکر نے حضرت شرحبیل بن حسنہ کو نصیحت کی کہ تم پر جب کوئی ایسا معاملہ آن پڑے کہ کسی متقی اور خیرخواہ کی راے کی ضرورت محسوس ہوتو سب سے پہلے حضرت ابوعبیدہ بن جراح اور حضرت معاذ بن جبل سے رجوع کرنا ،حضرت خالد بن سعید تیسرے شخص ہونے چاہییں۔ان لوگوں ہی کے ہاں تم نصیحت و خیر خواہی پاؤ گے۔ان سے مشورہ کیے بغیر راے قائم نہ کر لینا۔ حضرت خالد بن سعید کا حق پہچاننا۔ آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو وہ والی تھے،میں نے بھی انھیں والی بنایا، پھر معزول کر دیا۔امید ہے ،اس سے بھی ان کا دینی طور پر بھلا ہی ہواہو گا۔
حضرت ابو بکرحضرت خالد کو پسند کرتے اور ان کی عزت افزائی کرتے تھے ۔ جیش اسامہ کے کامیاب لوٹنے کے بعد انھوں نے مرتدین کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے گیارہ فوجیں ترتیب دیں۔ دوسرے صحابہ کے ساتھ حضرت خالد کو بھی ایک فوج کا سالار مقرر کرکے پرچم عطا کیا۔ حضرت عمر نے منع کیا اور کہا: یہ ناکارہ اور کم عقل ہے،اس نے ایسی جھوٹی باتیں کی ہیں جن کااثر دیر تک رہے گا۔ حضرت ابوبکرنے اب ان کی سخت راے کو اہمیت نہ دی اور حضرت خالدبن سعید کے جیش کو شام کی سرحدپر واقع شمالی حجاز کے مقام تیما کی طرف امدادی دستے کے طورپر بھیج دیا۔ تیما کے نخلستان کی طرف بھیجتے ہوئے ان کونصیحت کی کہ اپنی جگہ ڈٹے رہنا،اطراف کے لوگوں کواپنے ساتھ شامل ہونے کی دعوت دینا۔ صرف ان لوگوں کو بھرتی کرنا جومرتد نہ ہوئے ہوں۔انھی سے قتال کرنا جو جنگ کریں۔ تیما پہنچ کر آس پاس کے بہت سے لوگ حضرت خالد سے آملے۔رومیوں کو اطلاع ملی تو انھوں نے بھی اپنے زیر اثر عرب قبائل بہرا، کلب، سلیخ، تنوخ،لخم، جذام اور غسان سے فوجیں اکٹھی کر لیں۔ حضرت خالد نے حضرت ابوبکر کو صورت حال لکھ بھیجی تو انھوں نے ہدایت کی کہ پیش قدمی کرو،گھبراؤ مت اور اﷲ سے مددطلب کرو۔حضرت خالد یہ جواب ملتے ہی آگے بڑھے۔ دشمن فوج کے قریب پہنچے تو اس کے سپاہی ایسے خوف زدہ ہوئے کہ میدان جنگ چھوڑ کر بھاگ گئے۔جیش اسلامی ان کی سرزمین پر قابض ہو گیا تو وہاں کی اکثریت حلقۂ بگوش اسلام ہو گئی۔
حضرت خالد نے فتح کی خبرخلیفۂ اول کو بھیجی تو انھوں نے مزید پیش قدمی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اتنا آگے نہ بڑھ جانا کہ پیچھے سے حملہ ہو جائے۔حضرت خالد پیش قدمی کر کے اس مقام پر فروکش ہوئے جو آبل ،زیزا اور تسطل کے مابین واقع ہے۔باہان(یا ماہاب) نامی رومی پادری ان کے مقابلے پرآیا۔ حضرت خالد نے اس کی فوج کو تہ تیغ کر دیا۔ اسے شکست دینے کے بعد مدینہ سے کمک طلب کی۔چنانچہ سب سے پہلے ولید بن عقبہ ان کی مدد کو پہنچے۔ اس وقت یمن اوراس کے اطراف کے رضاکار مدینہ آئے ہوئے تھے۔ ان کے علاوہ تہامہ، عمان، بحرین اور سرو کے لوگ مختلف معرکوں میں کامیاب ہو کر وہاں پہنچے تھے۔خلیفۂ اول نے ہدایت جاری کی کہ ان میں سے جو فوجی تبدیلی کے خواہاں ہیں ،ان کوتبدیل کر دیا جائے۔ چنانچہ اکثرسپاہی رخصت ہو گئے اور نئے تازہ دم لوگوں نے ان کی جگہ لے لی۔ اس نئی فوج کا نام ’’جیش بدال‘‘ پڑ گیا۔ حضرت عکرمہ بن ابو جہل حضرموت کی بغاوت سے فارغ ہو کر مدینہ پہنچے تھے، حضرت ابوبکر نے اس جیش کی قیادت انھیں سونپ کر حضرت خالد بن سعید کی طرف روانہ کر دیا۔ابھی اور دستے آنے والے تھے، لیکن حضرت خالد بن سعید دو بار فتح حاصل کرنے کے بعد حد سے زیادہ پر اعتماد ہو چکے تھے۔ انھوں نے اس طمع میں کہ جنگ کی کامیابی کا سہرا ان کے سر بندھے، مزید کمک کاانتظار کیے بغیر رومی فوج پر حملہ کرنے کا پروگرام بنا لیا۔ حضرت ذو الکلاع حمیری، حضرت عکرمہ بن ابوجہل اور حضرت ولید بن عقبہ ان کے ساتھ تھے۔ حضرت خالد آگے بڑھتے گئے، حتیٰ کہ شام کے علاقے مرج الصفر تک پہنچ گئے۔ فوج کی پشت خالی ہونے سے رومیوں کو بدلہ لینے کا موقع مل گیا ۔ رومی سپہ سالار باہان تجربہ کار جنگجو تھا، اپنی فوج لے کر دمشق کو چل پڑا،حضرت خالد نے ایلیا تک اس کا پیچھا کیا۔ انھیں خبر بھی نہ ہوئی کہ مرج الصفر کے مقام پر وہ پلٹا اور اسلامی فوج کا محاصرہ کر کے اس کا پشت کا راستہ کاٹ دیا۔اس طرح ایک دستہ حضرت خالدسے الگ ہو گیا۔ باہان نے حملہ کر کے سب افراد کو شہید کر دیا۔ حضرت خالد کا بیٹا سعید بھی ان میں شامل تھا۔ بیٹے کی شہادت کی خبر سنی تو حضرت خالد نے ہمت ہار دی۔ حضرت عکرمہ کو قیادت سپرد کرتے ہوئے وہ اور حضرت ولید سواروں کا ایک دستہ لے کر ایسے فرار ہوئے کہ مدینے کے قریب ذوالمروہ پہنچ کر دم لیا۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت خالد کے بیٹے سعید پانی تلاش کر رہے تھے یا بارش سے بچ کر کہیں بیٹھے تھے۔ اس موقع پر حضرت عکرمہ بن ابو جہل نے فوج کا دفاع کیااور باہان(یا ماہان) کو مار بھگایا۔ حضرت ابوبکر بہت ناراض ہوئے ، انھوں نے حضرت خالد کو خط لکھا کہ تمھیں آگے بڑھنے کا شوق تو ہے، لیکن پھر بزدلی سے جان بچا کر بھاگ آتے ہو۔ انھوں نے ان کو ذوالمروہ ہی میں پڑے رہنے کا حکم دیا اور مدینہ آنے سے روک دیا،البتہ ان کے ساتھ آئے ہوئے فوجیوں کو حضرت شرحبیل بن حسنہ اور حضرت معاویہ بن ابو سفیان کی قیادت میں واپس بھیج دیا۔کچھ عرصہ کے بعد انھیں مدینہ آنے کی اجازت ملی تو انھوں نے حضرت ابوبکر سے معافی مانگی۔ حضرت ابوبکر نے کہا: اگر میں حضرت عمر اور حضرت علی کا کہنا مانتا تو حضرت خالد بن سعید سے بچ کر رہتا۔ دوسری روایت کے مطابق حضرت خالد حضرت ابوبکر کی زندگی میں مدینہ نہ آ سکے۔ ان کی وفات کے بعد حضرت عمر خلیفہ بنے توحضرت خالد بن سعید اور حضرت عقبہ بن ولید سے راضی ہو گئے اور انھیں مدینہ آنے کی اجازت دے دی۔ حضرت ابوبکرنے جنگ سے فرار ہونے کی پاداش میں انھیں شام کی طرف لوٹا کرکہا تھا کہ اب میں تمھیں اچھی طرح آزمانا چاہتا ہوں۔جاؤ ،جس امیر کے ساتھ چاہتے ہو، مل جاؤ۔ چنانچہ یہ دونوں فوج میں شامل ہو گئے اور سخت معرکوں میں بڑے کارہاے نمایاں انجام دیے۔
حضرت خالد بن سعید کے ساتھ میدان جنگ سے بھاگے ہوئے تین ہزار فوجی بعد میں جنگ یرموک میں شریک ہوئے۔سیف بن عمر کی روایت کے مطابق جسے طبری اور ابن کثیرنے اختیار کیا ہے، یہ جنگ فتح دمشق سے پہلے ۱۳ھ میں لڑی گئی۔ طبری کا کہنا ہے کہ حضرت خالدبن سعید خود بھی اس عظیم معرکہ میں شریک تھے۔ انھوں نے حضرت خالد بن ولید کے بنائے ہوئے ہزار ہزار سپاہیوں پر مشتمل چالیس (یا چھتیس) دستوں میں سے ایک کی قیادت کی۔اس معرکہ میں وہ شدید زخمی ہوئے اور پھر صحت یاب ہوگئے ۔
ایک معرکے میں حضرت خالد بن سعید نے ایک مشرک کو جہنم واصل کیا تو اس کے ریشمی کپڑے خود پہن لیے۔وہ حضرت عمروبن عاص کے ساتھ پھر رہے تھے اور لوگ ان کو حیرانی سے دیکھ رہے تھے۔ حضرت عمرو نے کہا: کیا دیکھ رہے ہو؟ جس کا دل چاہتا ہے ،حضرت خالد جیسا کارنامہ کرے، پھر حضرت خالد کی طرح کا لباس پہن لے۔
ایک روایت کے مطابق حضرت خالد بن سعید مرج الصفر میں رومیوں کے ہاتھوں شہید ہوئے، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ مرج الصفر کے شہید حضرت خالد بن سعید نہیں، بلکہ ان کے بیٹے حضرت سعید بن خالد تھے۔ان کی شہادت جنگ اجنادین میں ہوئی جو ۲۸ ؍ جمادی الاولیٰ ۱۳ھ (۳۰ ؍ جولائی ۶۳۴ء)کو رملہ اور بیت جبرین کے قریب واقع مقام اجنادین پر حضرت ابوعبیدہ بن جراح یا حضرت عمروبن عاص کی کمان میں رومی بازنطینی فوج سے لڑی گئی۔ حضرت خالد بن سعید اس میں شریک تھے۔ ان کے علاوہ ان کے بھائیوں حضرت عمرو بن سعید اور حضرت ابان بن سعید نے بھی اسی معرکہ میں جام شہادت نوش کیا۔
حارث بن ہشام کی بیٹی ام حکیم حضرت عکرمہ بن ابوجہل کے عقد میں تھیں۔ حضرت عکرمہ جنگ یرموک (ایک روایت: ۱۳ھ، دوسری روایت:۱۵ھ) میں شہید ہوئے۔ حضرت یزید بن ابوسفیان نے عدت پوری ہونے کے بعد ام حکیم کو زواج کا پیغام بھیجا، لیکن حضرت خالد بن سعید دوران عدت ہی میں انھیں پیام نکاح دے چکے تھے۔ چنانچہ انھوں نے چار سو دینار مہرکے عوض حضرت خالدکے نکاح میں آنا منظور کیا۔ فوج آگے بڑھ کر مرج الصفرکے مقام پر پہنچی توحضرت خالد نے ولیمہ کرنا چاہا۔ حضرت ام حکیم نے کہا: کچھ تاخیر کر لیں، حتیٰ کہ اﷲ ان فوجوں کو منتشر کردے۔ حضرت خالد نے کہا: میرادل کہتا ہے کہ میں دشمن فوج کا مقابلہ کرتے ہو ئے مار ا جاؤں گا۔ام حکیم مان گئیں تو حضرت خالد نے صفر کے مقام پر اس پل کے قریب شب زفاف منائی جسے بعد میں ام حکیم کا پل کہا جانے لگا ۔ اگلی صبح انھوں نے دوستوں اور ساتھیوں کوولیمہ کھلایا۔ ولیمے سے فارغ ہوئے ہی تھے کہ رومی فوج نے لڑائی کے لیے اپنی صفیں باندھ لیں۔ایک رومی فوجی تمغے لگا کر مبارزت کے لیے نکلا۔ حضرت ابوجندل بن سہیل اس کی طرف بڑھے، لیکن حضرت ابوعبیدہ نے منع کر دیا۔ پھر حضرت حبیب بن مسلمہ آئے اور ا سے جہنم کے گھا ٹ اتار کر واپس ہوئے۔ اب حضرت خالد بن سعید نے مبارزت کی اور کچھ دیر دوبدو جنگ کرنے کے بعد شہید ہو گئے۔دونوں فوجوں میں شدید لڑائی شروع ہوئی تو حضرت ام حکیم نے کپڑے سمیٹے اور زرہ لے کر جنگ میں شامل ہو گئیں۔ انھوں نے اس خیمے کی لکڑی اکھاڑی جس میں حضرت خالدبن سعید کے ساتھ ان کی سہاگ رات گزری تھی اور اس کے وار کر کے سات رومیوں کو جہنم رسید کیا۔ اس جنگ میں مسلمانوں نے فتح حاصل کی۔ حضرت خالد بن سعید کے قاتل کا نام اسلم تھا۔اس کا کہنا ہے کہ میں نے انھیں شہید کیا تو دیکھا کہ نورکا ایک منار آسمان کی طرف بلند ہو رہا ہے۔
حضرت خالد بن سعید وجیہہ اور خوب صورت تھے۔ان کی اہلیہ امینہ (یا ہمینہ)بنت خلف کا تعلق بنو خزاعہ(یا بنوثقیف) سے تھا۔ قیام حبشہ کے دوران میں ان کے ہاں سعید اور امۃ کی ولادت ہوئی۔سعید بے اولاد رہے۔امۃ بنت خالد کا بیاہ حضرت زبیر بن عوام سے ہوااور عمرو اور خالد نے جنم لیا۔ حضرت زبیر کے بعد ان کا نکاح حضرت سعید بن عاص سے ہوا، انھوں نے نوے برس کی عمر پائی۔ ابن سعد کاکہنا ہے کہ اب (ہمارے زمانے میں) حضرت خالد بن سعید کی نسل باقی نہیں رہی۔
آں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام رافع (یا ابو رافع)کا اصل نام ابراہیم تھا، ابوالبہی ان کی کنیت بتائی جاتی ہے ۔ایک روایت کے مطابق وہ آپ کے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب کی ملکیت میں تھے، انھوں نے اپنی ملکیت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو ہبہ کی اور آپ نے ان کوآزاد کر دیا۔دوسری روایت کے مطابق جو کم مشہور ہے، وہ حضرت خالد کے والدسعید بن عاص کے مملوک تھے،سعید کی وفات کے بعدان کی ملکیت اس کے بیٹوں کو منتقل ہوئی۔ حضرت خالد کے تین بھائیوں نے اپنے حصے آزاد کر دیے ۔ ابورافع نے ان مشرک بھائیوں کے ساتھ جنگ بدر میں حصہ لیا،وہ تینوں مارے گئے۔ حضرت خا لدنے اپنا حصہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کو دے دیااور آپ نے ابورافع کو آزاد کر دیا۔
حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ رفاعہ قرظی کی بیوی تمیمہ بنت وہب نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کیا: میں رفاعہ کے عقد میں تھی کہ انھوں نے مجھے طلاق بائن(تیسری طلاق) دے دی۔میں نے عبدالرحمن بن زبیر سے بیاہ کرلیا۔اس کا عضو تناسل کپڑے کی جھالر کی طرح نرم ہے۔کیا تو رفاعہ کے پاس واپس جانا چاہتی ہے؟آپ نے دریافت کیا اور حکم فرمایا: ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا جب تک تو اس(دوسرے شوہر عبدالرحمن) کا ذائقہ نہ چکھ لے اور وہ تجھ سے محظوظ نہ ہو لے۔ اس موقع پر حضرت ابوبکر آپ کے پاس بیٹھے تھے اورحضرت خالد بن سعید دروازے پر کھڑے آپ کی طرف سے داخلے کی اجازت کے منتظر تھے۔حضرت خالد نے کہا: ابوبکر، کیا آپ نے اس کی بات نہیں سنی جو نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے سامنے پکارپکار کر کہہ رہی تھی؟ (بخاری، رقم ۲۶۳۹۔ مسلم، رقم ۳۵۱۷)۔ حدیث کے دوسرے طریق میں رفاعہ اور حضرت خالد کی گفتگو کی کچھ تفصیل بیان ہوئی ہے۔رفاعہ کی بیوی تمیمہ نے اپنی اوڑھنی کی جھالر پکڑ کرآپ کو دکھائی اور کہا: اس جھالر جیسا۔حضرت خالدبن سعید نے حضرت ابوبکر سے کہا: آپ اسے جھڑکتے کیوں نہیں؟ (کیسی بے شرمی کی باتیں) رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے سامنے پکار پکار کرکر رہی ہے (بخاری، رقم ۵۷۹۲)۔
حضرت خالدکو کاتبین وحی میں شمار کیا جاتا ہے۔ حضرت ابی بن کعب اور حضرت زید بن ثابت حاضرنہ ہوتے تو حضرت خالد یا موقع پر موجود کوئی کاتب صحابی وحی تحریر کرتے۔ حضرت ام خالد بنت خالد کہتی ہیں کہ میرے والد پہلے شخص تھے جنھوں نے ’بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم‘ تحریر کی۔نبی صلی اﷲ علیہ نے حضرت خالد سے یہ مکتوب لکھوایا:

’’’بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم‘۔ یہ وہ قطعۂ زمین ہے جومحمدرسول اﷲ (صلی اﷲ علیہ وسلم ) نے راشد بن عبدرب (ربہ) سلمیٰ کو عطا کیا۔آپ نے انھیں (مکہ سے تین میل کی مسافت پر واقع)پہاڑوں میں رہاط کے مقام پر دو تیر کی مار جتنا(لمبا:قریباً اڑھائی سو گز)اور ایک تیر کی مار کے برابر(چوڑا:قریباًسواسو گز) قطعہ عنایت کیا ہے۔ جو ان کا حق لینے کی کوشش کرے ،اس کا کوئی حق نہ ہو گا۔راشد کا حق ہی درست مانا جائے گا۔‘‘

یہ فرمان حضرت خالد بن سعیدنے تحریر کیا۔ کہاوت ہے کہ اقتدار دانائی سکھا دیتا ہے۔حضرت خالدبن سعید یمن پر، حضرت ابان بن سعید بحرین پر اور حضرت عمرو بن سعیدتیمااور خیبر پرحکمران رہے،اس لیے مشہور ہو گیا کہ شام کے مفتوحہ شہروں میں کوئی ایسا نہ تھاکہ جہاں حضرت سعید بن عاص کے بیٹوں میں سے کسی نے وفات نہ پائی ہو۔
مطالعۂ مزید: السیرۃ النبوےۃ (ابن ہشام)، الطبقات الکبریٰ (ابن سعد)، الجامع المسند الصحیح (بخاری)، تاریخ الامم والملوک (طبری)، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب (ابن عبدالبر)، المنتظم فی تواریخ الملوک والامم (ابن جوزی)، الکامل فی التاریخ (ابن اثیر)، اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ (ابن اثیر)، تاریخ الاسلام (ذہبی)، سیر اعلام النبلاء (ذہبی)، البداےۃ والنہاےۃ (ابن کثیر)، کتاب العبر و دیوان المبتداء والخبر (ابن خلدون)، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ (ابن حجر)، سیرۃ النبی (شبلی نعمانی)۔

_____

* التوبہ۹: ۱۰۰۔
۱ ؂    چھیاسی: ابن ہشام، ابن کثیر۔
۲؂ ایک سو ایک:ابن کثیر، ایک سو آٹھ:ابن جوزی۔

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت اکتوبر 2014
مصنف : ڈاکٹر وسیم مفتی
Uploaded on : Aug 09, 2018
33 View