حضرت مسعود بن قاری رضی ﷲ عنہ اور بنو قارہ - ڈاکٹر وسیم مفتی

حضرت مسعود بن قاری رضی ﷲ عنہ اور بنو قارہ

 

حضرت مسعود بن قاری کے والد کا نام ربیعہ (یاربیع یا عامر ) تھا، عمرو بن سعد ان کے دادا اور عبدالعزیٰ بن حمالہ (یا محلم) سکڑ داداتھے۔ خزیمہ بن مدر کہ قریش کے جد مضرکے پوتے تھے۔ان کے بیٹے ہون مسعود کے دسویں، جبکہ ان کے بھائی کنانہ بن خزیمہ نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کے چودھویں جد تھے۔ قارہ ہون بن خزیمہ کے بیٹوں عضل اور دیش کا لقب تھا۔ بنوکنانہ کے حکم (قاضی) یعمر بن شداخ نے جب ان بھائیوں کے کنبوں کو بنوکنانہ اور قریش میں بانٹ دینے کا فیصلہ سنایا تویہ اکٹھے ہوکر ڈٹ گئے، تب قارہ (لفظی معنی: سیاہ چٹان ،چھوٹا پہاڑ) ان کا لقب ہو گیا۔ اس موقع پر قارہ کے ایک شخص نے یہ شعرکہا:

دعونا قارۃ لا تنفرونا
فنجفل مثل أجفال الظلیم

(ہمیں ایک مضبوط پہاڑ کی طرح(مجتمع) رہنے دو ،اس طرح تتر بتر نہ کرو کہ ہم شتر مرغ کی طرح دور دور نکل جائیں)

ابن اسحاق کی روایت کے مطابق حضرت مسعود بن قاری کے چھٹے جد غالب بن محلم کابھائی دیش بن محلم اوراس کا بیٹا عضل اس لقب سے ملقب ہوئے۔ ابن عبدالبر اور ابن حجر نے ہون بن خزیمہ ہی کو قارہ قرار دیا ہے، جبکہ زبیری قارہ کو عضل اور دیش کا تیسرابھائی بتاتے ہیں ۔قارہ خاندان کے افراد ماہر تیر اندازتھے۔ایک بار قارہ اور بنو اسدکے دو افراد کا جھگڑاہو گیا۔ قاری نے اسدی سے کہا: تم چاہوتو میں تمھارے ساتھ کشتی کروں،دوڑ لگانے کا یا تیر اندازی کا مقابلہ کر لوں؟ اسدی نے تیر اندازی کا انتخاب کیا تو قارہ کے شخص نے کہا:

قد انصف القارۃ من راماہا

( قارہ سے انصاف کیا جس نے اس سے تیراندازی کا مقابلہ کیا، یعنی ایک چٹان پر تیر پھنکنے والا نامراد ہی ہوتا ہے)

یہ کہہ کر اس نے تیر نکالا اور اسدی کے دل میں ترازو کر دیا۔دوسری روایت کے مطابق یہ مصرع اس وقت کہا گیا جب بنوبکر اور قریش میں جنگ ہوئی،قارہ نے قریش کا ساتھ دیا اور ان کی تیر اندازی سے قریش کو فتح حاصل ہوئی۔
زمانۂ جاہلیت میں کنانہ ،مزینہ ،حکم اور قارہ قبیلوں کے افراد اور ان کے مفرور غلام جتھے بنا کر تہامہ کے پہاڑوں میں چھپ جاتے اور گزرنے والے قافلوں اور مسافروں کو لوٹتے۔ظہور اسلام کے بعدعرب ایک منظم مملکت میں ڈھل گیاتو انھیں احساس ہوا کہ وہ اپنی سابقہ روش برقرار نہ رکھ سکیں گے۔وہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس آئے اور امان چاہی۔ آپ نے ابی بن کعب کو بلا کر یہ فرمان لکھوایا: ’’ بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم۔محمد نبی رسول اﷲ(صلی اﷲ علیہ وسلم)کی طرف اﷲ کے آزاد بندوں کو یہ تحریر لکھ کر دی جاتی ہے،اگر یہ( ڈاکو) ایمان لے آئیں اور (مجرمانہ روش چھوڑ کر) نماز ادا کریں اور زکوٰۃ دیں تو ان میں سے جو غلام ہیں،آزاد کر دیے جائیں گے اورمحمد صلی اﷲ علیہ وسلم ان کے مولا ہوں گے اور جو کسی قبیلہ سے تعلق رکھتا ہو گا، اسے (اس کے سابق آقا) کے پاس نہ لوٹایا جائے گا۔(زمانۂ جاہلیت میں) لوٹے ہوئے مال اور قتل کیے ہوئے مقتولوں کی دیت بھی ان سے وصول نہ کی جائے گی۔البتہ ان کے لیے ہوئے قرض قرض خواہوں کو واپس کیے جائیں گے اورکسی پر ظلم و زیادتی روا نہ رکھی جائے گی۔ جو (راہ زن) اپنے دین پر قائم رہے گا ،اسے اس کے ہم مذہبوں میں واپس بھیج دیا جائے گا۔‘‘
مکہ میں اہل ایمان کا جینا دوبھر ہو گیا تو رسو ل اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے اولو العزم صاحب سیدنا ابوبکر نے بھی آپ کی اجازت سے حبشہ ہجرت کرنے کا ارادہ کر لیا۔ مکہ سے پا نچ ایام کی مسافت پر واقع مقام برک غماد پہنچے تو انھیں قبائلی سردارابن دغنہ (اصل نام:مالک یا حا رث بن زید ) ملے اور کہا: میں آپ کو پناہ فراہم کروں گا۔ آپ جیسے صلۂ رحمی کرنے والے اور بے کسوں کا سہارا بننے والے نیک دل انسان کو مکہ سے نکلنا نہیں چاہیے۔ چنانچہ وہ واپس ہو لیے۔ امام بخاری (رقم ۳۹۰۵) نے ابن دغنہ کو سیدقارہ(ہون بن خزیمہ کی اولاد)، جبکہ ابن اسحاق نے سید احابیش قرار دیا ہے ۔ احابیش احبوشۃ کی جمع ہے،قریش ،کنانہ اور خزاعہ قبیلوں کے افراد جنھوں نے مکہ کے حُبشی نامی پہاڑ کے نزدیک اکٹھے ہو کر عہد و پیمان کیا، احبوشہ کہلاتے ہیں۔ابن اسحاق یہ بیان کرنے کے بعد کہ ابن دغنہ عبد مناۃ بن کنانہ کی ذریت ہیں ، وضاحت کرتے ہیں کہ حارث بن عبد مناۃ کے علاوہ ہون بن خزیمہ اور بنو خزاعہ کی شاخ بنومصطلق بھی احابیش میں شامل ہیں۔ ابن دغنہ کی کنیت سے معروف ایک اور صحابی بھی ہیں جن کا اصل نام ربیعہ بن رُفیع سلمی ہے،ان کا ذکرغزوۂ حنین کے ضمن میں آتا ہے ۔
مدینہ میں موجودمسعودکے اہل خانہ بنو قاری کہلاتے تھے۔
مسعودکی کنیت ابو عمیرہے۔
مسعود بن قاری بنوعبد مناف بن زہرہ کے حلیف تھے۔
مسعودبن قاری قدیم الایمان ہیں،رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے دارارقم جانے سے پہلے وہ نعمت اسلام سے سرفراز ہو چکے تھے۔ ’السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ‘* کی فہرست ابن اسحاق نے مرتب کی اور ابن ہشام نے ’’السیرۃ النبوےۃ‘‘ میں نقل کی۔ گمان غالب ہے کہ اس کی ترتیب اتفاقی نہیں، بلکہ واقعاتی اور تاریخی (chronological) ہے ۔اس کی رو سے اسلام کی طرف لپکنے والے خوش نصیبوں میں مسعود بن قاری کانمبر تئیسواں ہے۔
باقی اہل ایمان کی طرح مسعودبن قاری نے بھی مدینہ ہجرت کی۔آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے عبید بن تیہان کے ساتھ ان کی مواخات قائم فرمائی۔ مسعودبن قاری نے جنگ بدر،جنگ احد ،جنگ خندق ، جنگ خیبر ،جنگ حنین اور باقی تمام غزوات میں شرکت کی۔
مشہور یہی ہے کہ حضرت مسعودبن قاری نے ۳۰ھ میں وفات پائی۔ تاہم زہری کا کہنا ہے کہ انھوں نے غزوۂ خیبر میں شہادت پائی۔ ان کی عمر ساٹھ سال سے کچھ اوپر تھی۔ان کے کوئی اولاد نہ ہوئی۔
معرفۃ الصحابہ کی کتب میں بنوقارہ کے ایک اور صحابی حضرت مسعودبن عمرو قاری(غفاری:ابن ہشام ،عمروبن قاری: ابن کلبی) کا ذکر آتا ہے۔ جنگ حنین کے اختتام پر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے غنائم جمع کر کے جعرانہ لے جانے کی ذمہ داری ان کو سونپی۔ اسیروں اور مال غنیمت کی حفاظت کے لیے آپ نے حضرت مسعودبن عمروکومتعین فرمایا اور خود طائف تشریف لے گئے۔ طائف فتح کرنے کے بعد آپ جعرانہ لوٹے اوراسیروں اور مال غنیمت کی تقسیم فرمائی۔ ابن سعد کہتے ہیں کہ یہ روایت کہ مسعود کے ایک بھائی حضرت عمروبن ربیع تھے جو نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے اور غزوۂ بدر میں شرکت کی، پاےۂ ثبوت کو نہیں پہنچی۔
قارہ کے دیگر افراد میں حضرت مسعود بن قاری کے پوتے عبدالرحمن بن عبد قاری، عبدالرحمن کے بیٹے محمد اور ابراہیم اوران کے بھتیجے ابراہیم بن عبداﷲ مشہور ہیں۔ ہشام بن محمد کلبی کہتے ہیں کہ حضرت مسعود بن قاری کے پڑپوتے محمد بن عبدالرحمن نے اہل مدینہ کے بارے میں مروان بن حکم کی بات رد کی ۔بہت کھوج کے باوجود ہمیں اس قضیے کی تفصیل معلوم نہ ہو سکی۔ تاہم اس سے ملتا جلتا واقعہ مسلم کی روایت ۳۲۹۵ میں بیان ہوا ہے ۔اموی حکمران مروان بن حکم نے ایک بار عوام کے سامنے خطبہ پڑھا۔اس نے مکہ اور اہل مکہ کا ذکر کرتے ہوئے مکہ کی حرمت کا حکم بیان کیا، جبکہ مدینہ ، اہالیان مدینہ اور حرمت مدینہ کاتذکرہ تک نہ کیا۔مشہور صحابی حضرت رافع بن خدیج پکار اٹھے: کیا وجہ ہے کہ آپ نے مکہ اوراس کے سکان کا ذکر خیر کرتے ہوئے مکہ کی حرمت بیان کی اور مدینہ کا حرم ہونا اور اس کے باشندگان کا اہل حرم ہونا نہ بتایا،حالاں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے دو سیاہ و سنگلاخ میدانوں کے مابین واقع شہر مدینہ کوحرم قرار دیا ہے ۔آپ کا یہ فرمان ہمارے پاس یمنی قبیلہ خولان کے بنے ہوئے چمڑے کے ایک ٹکڑے پر لکھا ہوا موجود ہے، اگر چاہیں تو ہم دکھا دیں؟ مروان چپکا ہو رہا اور کہا: اس فرمان نبوی کا کچھ حصہ میں نے بھی سن رکھا ہے۔
مطالعۂ مزید: جمہرۃ النسب (ابن کلبی)، السیرۃ النبوےۃ(ابن ہشام)، الطبقات الکبریٰ (ابن سعد)، تاریخ الامم و الملوک (طبری)، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب (ابن عبدالبر)، اسدالغابہ فی معرفۃ الصحابہ (ابن اثیر)، تاریخ الاسلام (ذہبی)، البداےۃ والنہاےۃ (ابن کثیر)، فتح الباری (ابن حجر)، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ (ابن حجر)، عمدۃ القاری (عینی)، المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام (جواد علی)۔

 

* التوبہ ۹: ۱۰۰۔ 

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت جنوری 2016
مصنف : ڈاکٹر وسیم مفتی
Uploaded on : Jan 25, 2018
308 View