اے کاش - ڈاکٹر وسیم مفتی

اے کاش

 

’’میرا دل چاہتا ہے کہ میں اس کائنات میں بکھر ے ہوئے تمام دکھی لوگوں کے دکھ اپنے دامن میں سمیٹ لوں۔ان لوگوں کی پلکوں پر لرزتے ہوئے آنسو ایک ایک کر کے اپنے دل میں اتار لوں اور خود ایک سمندر بن جاؤں۔میرا ظرف اتنا اعلیٰ ہو جائے کہ بڑی سے بڑی خطا درگزرکروں۔اپنی خواہش کو مٹادوں،میری ذات دوسروں کے لیے وقف ہوکر رہ جائے۔‘‘(امجد کرن سندھو ۔پھول کلیاں:۲ جنوری ۲۰۰۳ء)

یہ ایک بچے کی تحریر ہے جوبچوں کے ہفتہ وار اخبار میں چھپی ۔لکھنے والے کا کرب انتہائی اس اقتباس میں نمایاں ہے، نوع انساں سے بے پایاں ہمدردی بھی اس میں جھلکتی ہے۔ بچوں کے احساسات خالص ہوتے ہیں۔وہ مفادات کی دوڑ میں شامل نہیں ہوتے اور رد عمل کی نفسیات سے بھی محفوظ ہوتے ہیں۔یہ دو محرکات بڑوں کی زندگی میں اہم رول ادا کرتے ہیں،مفادات انھیں انتہائی اقدام پراکسادیتے اور ردعمل ناگزیر کام سے بھی گریز پر مجبورکر دیتا ہے ۔ انھی عوامل کے زیرِ اثرحق غیر مطلوب ہو جاتاہے اور ناحق عین حق بن جاتا ہے۔ جب ہم بچے تھے، ایسی معصوم خواہشیں اوراس طرح کے درد مندانہ خیالات ہمارے دل میں بھی آتے تھے لیکن بڑے ہوئے تو دوسری بچگانہ خواہشوں کے ساتھ یہ خیالات آنے بھی بند ہو گئے۔ ایسے لگتا ہے ہماری رقت جاتی رہی ہے اور ایک خشونت نے اس کی جگہ لے لی ہے ۔ ہم نے عملیت پسندی کو خشونت کا نام دے کرچھپانا شروع کر دیا ہے ۔ دوسروں کا درد محسوس کرنا ،اس کو اپنا کرب بنا لینا اور اس احساس کو بانٹنے کی کوشش کرنا اعلیٰ انسانی جذبہ ہے۔بچوں سے بڑھ کر اسے بڑوں میں ہونا چاہیے لیکن کیا وجہ ہے کہ بڑوں میں یہ قریب قریب مفقودہو گیا ہے؟ 
ٍٍٍٍٍٍٍٍٍانسان غیر محدود خواہشیں لے کر پیدا ہوا ہے لیکن اس کی صلاحیتیں محدودہیں۔وہ پر نہیں لیکن تخیل پرواز رکھتا ہے۔خاکی ہے مگر اس کی نظرافلاک پر ہے۔ وہ زمین پر رہ کر سماو ی خواہشیں پوری کرنا چاہتا ہے حالاں کہ زمین و آسمان میں بہت بعدہے ۔خواہشات اور حقائق کے اس تفاوت کی وجہ سے تمنائیں دم توڑ تی ہیں اور آرزؤں کا خون ہوتا ہے۔کچھ لوگ مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں ، وہ آرزو کو کار عبث سمجھنے لگتے ہیں اورانھیں ہر طرف تاریکی نظر آنے لگتی ہے۔پھر یہ اسی یاسیت میں اپنی زندگی گزار دیتے ہیں،آدرش اور اعلیٰ انسانی مقاصد سے انھیں کوئی واسطہ نہیں رہتا۔یہ دوسروں کا بھلا کیا کریں گے ، خود بھی ڈانو ڈول رہتے ہیں ۔اس کے برعکس کچھ افراد بے حس اور خودغرض بن جاتے ہیں۔وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ پوری مخلوق کا بھلا کرنا ممکن نہیں ، ہاں اپنی کھال میں مست ہوا جاسکتا ہے۔ ایسے لوگ ہر طریقے سے خواہشیں پوری کرلینااپناوتیرہ بنا لیتے ہیں ۔ دوست دوست کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے سے دریغ نہیں کرتااور اپنا مطلب پورا کرنے کے لیے بھائی بھائی کا خون کر دیتا ہے ۔بد قسمتی سے دنیا ایسے لوگوں سے بھری پڑی ہے مگر ایسے اشخاص بھی مل جاتے ہیں جو انسانیت سے ناتا توڑنے پرآمادہ نہیں ہوتے۔ان کی ہر طرح کوشش ہوتی ہے کہ بلند اقدار پر قائم رہا جائے۔ وہ بہت حد تک کامیاب بھی رہتے ہیں لیکن اس دنیاکے کوتاہ وسائل کی طرح یہاں کا انسان بھی محدود قویٰ رکھتا ہے ، اپنی حدود سے آگے جانا اور وسائل سے بڑھ کر کام کرنااس کے لیے ممکن نہیں ہوتا ۔ ہاں کچھ مثالیں ایسے لوگوں کی مل جاتی ہیں جو بظاہر اپنی طاقت اورمیسر ذرائع سے ماورا ہو کرکام کرتے ہیں ۔یہ جن دیو نہیں بلکہ اپنی دھن کے پکے ، لگن کے سچے انسان ہی ہوتے ہیں جو اپنے جنون dedication)) اور اپنی بے خودی و وارفتگی سے ایک مقام پا جا تے ہیں۔ایسے دیوانے ہر مذہب اور نظریے کے لوگوں میں ملتے ہیں ۔دہریے طاغوت ولا دینیت کی خاطر اور مشرکین معبود ان باطلہ کی رضا جوئی کے لیے تن من کی بازی لگا دیتے ہیں۔ ہونا چاہیے کہ خدا پرستوں کی صفیں اس طرح کے افراد سے بھری ہوں لیکن افسوس جب سے عشق کی آگ بجھی ہے،اندھیر ہو گیا ہے۔ 
اﷲ تعالیٰ انصار مدینہ کی صفت بیان فرماتے ہیں۔

’وَ یؤْثِرُوْنَ عَلیٰ اَنْفُسِھِمْ وَ لَوْکَانَ بِھِمْ خَصَاصَۃٌ‘،  (الحشر: ۹) ’’اور یہ اپنے آپ پر(مہاجرین یا دوسرے اہلِ ایمان کو) ترجیح دیتے ہیں خواہ خود محتاجی کا شکار ہوں‘‘۔

جب مکہ سے اہلِ ایمان ہجرت کر کے مدینے آئے ،انصار نے اپنے باغات ، اپنی تجارتوں اور اپنے مویشیوں میں مہاجرین کو حصہ دار بنا لیا۔ پھر جب یہودی اپنی جائیدادیں چھوڑ کر مدینہ سے گئے اور بحرین کا علاقہ اسلامی مملکت میں شامل ہوا توانصار نے یہ سب کچھ بھی مہاجرین کو دے دیا، صرف دو تین غریب انصاریوں نے کچھ حصہ لیا ۔انصار کی یہ بے مثال قربانی بعد کے مسلمانوں کے لیے ایک قابل تقلید نمونہ بنی۔حضرت ابو ہریرہ کی روایت ہے، ایک مہمان نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس آیاتو آپ نے اپنی ازواج کے پاس پیغام بھیجا ۔وہاں سے جواب ملا ،ہمارے پاس مہمانی کے لیے صرف پانی ہی ہے ۔تب آپ نے دریافت فرمایا ،کون اس شخص کی مہمان نوازی کرے گا؟ایک انصاری،ابو طلحہ نے ذمہ داری اٹھائی او ر اپنے گھر لے جا کربیوی سے کہا ،رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے مہمان کی خاطر مدارات کرو۔اس نے کہا ہمارے پاس توصرف بچوں کا کھانا ہے۔انصاری نے کہا کھانا تیار کرو اور بچوں کو سلا دو ۔جب وہ مہمان کے ساتھ کھانے بیٹھے توبہانے سے چراغ گل کر دیا،خودبھوکے سوئے اور اپنے حصے کا کھانا مہمان کو کھلادیا۔ (بخاری:۳۷۹۸)حضرت عبداﷲ بن عمر روایت کرتے ہیں ، ایک صحابی کے گھرتحفے میں بکری کی سری آئی تو انھوں نے یہ کہہ کراپنے ہمسائے کے ہاں بھیج دی کہ میرا وہ بھائی اور اس کا کنبہ مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہے۔اس نے بھی یہی الفاظ کہے اور سری اگلے ہمسائے کے گھر روانہ کی ، اس طرح سات گھروں سے ہوتی ہوئی وہ واپس پہلے گھر میں آگئی۔ (مستدرک حاکم:۳۷۹۹)
حقیقت میں مہمان نوازی ازل سے انسانی نفسیات میں رچی بسی ہے۔ ہر قبائلی سوسائٹی میں مہمان کی ضرورت کو مقدم رکھا جاتاہے چاہے اس کے لیے پیٹ پر پتھر کیوں نہ باندھنا پڑے۔ شہری تہذیبوں میںیہ روایت دم توڑ رہی ہے کیوں کہ معاش پیچیدہ ہونے کی وجہ سے شہروں میں آپا دھاپی کا ماحول ہوتا ہے اورہر آدمی اپنی الجھنوں میں گرفتار ہوتاہے۔ رشتوں کے کم زور پڑنے سے اس روایت میزبانی یا جذبہ قربانی پر کاری ضرب لگی، البتہ تکلف کچھ مہذب معاشروں میں رواج پاگیا ۔ ’ ’پہلے آپ ،پہلے آ پ ‘‘ اسی تہذیب کا ثمرہ ہے۔ ٹھوس بنیادیں نہ رکھنے کی وجہ سے یہ بھی مؤثرروایت نہ بن سکا۔ دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرنا اور اس کو بانٹناکئی شعبے رکھتاہے۔اسی قبیل میں بچوں، بوڑھوں اور کم زوروں کا خیال رکھنا آتا ہے ۔مذہب و ملت سے قطع نظر انسانی ہم دردی رکھنا اسی کااہم جزو ہے۔ حضرت عبداﷲ بن عمرو روایت فرماتے ہیں، رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا، ’’الراحمون یرحمہم الرحمٰن ، ارحموا أھل الأرض یرحمکم من فی السماء۔رحم کرنے والوں پر خدائے رحمان رحم فرماتا ہے۔ اہلِ زمین پر رحم کرو ،جو آسمان میں ہے وہ تم پر رحم کرے گا‘‘۔(ترمذی:۱۹۲۴)یہ درد مندی جانوروں کوبھی ایذا پہنچانے سے روکتی ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ کی روایت ہے ،رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ایک آدمی کو دورانِ سفر میں سخت پیاس لگی تو اس نے ایک کنویں میں اتر کر پانی پیا ۔جب وہ نکلا تو اس نے دیکھا کہ ایک کتا پیاس کی شدت سے گیلی مٹی چاٹ رہا ہے۔اس نے سوچا کہ اس کتے کو پیاس سے اسی طرح تکلیف ہو رہی ہے جیسے مجھے ہوئی تھی۔وہ پھر کنویں میں اترا،اپنی جوتی کو پانی سے بھرا ،اسے منہ میں دبا کر باہر نکلااور کتے کو پانی پلا دیا۔اﷲ تعالیٰ نے اس کی نیکی کو قبول کرتے ہوئے اس کی بخشش کردی۔ حاضرین صحابہ نے پوچھا ،کیا جانوروں سے نیکی کا بھی ہمیں صلہ ملے گا؟ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا،’’ہر جگرتر(زندہ جان)میں اجر ملے گا۔‘‘(مسلم : ۵۸۵۹)
دوسروں کے درد کو محسوس کرنا ،ان کے دکھوں کا مداوا کرنااور کسی ذی روح کی تکلیف کو اپنا کرب بنا لینا انتہائی بلند انسانی جذبہ ہے۔کاش یہ الفاظ ایک بچے کے بجائے کسی بڑے کے قلم سے نکلے ہوتے ’’میرا دل چاہتا ہے کہ میں اس کائنات میں بکھر ے ہوئے تمام دکھی لوگوں کے دکھ اپنے دامن میں سمیٹ لوں۔ان لوگوں کی پلکوں پر لرزتے ہوئے آنسو ایک ایک کر کے اپنے دل میں اتار لوں اور خود ایک سمندر بن جاؤں۔میرا ظرف اتنا اعلیٰ ہو جائے کہ بڑی سے بڑی خطا درگزرکروں۔اپنی خواہش کو مٹادوں،میری ذات دوسروں کے لیے وقف ہوکر رہ جائے۔‘‘

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت ستمبر 2012
مصنف : ڈاکٹر وسیم مفتی
Uploaded on : Jun 12, 2018
253 View