حدود کا بے لاگ نفاذ - محمد رفیع مفتی

حدود کا بے لاگ نفاذ

 

عَنِ الزُّھْرِیِّ قَالَ: أَخْبَرَنِیْ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ أَنَّ امْرَأَۃً سَرَقَتْ فِیْ عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ غَزْوَۃِ الْفَتْحِ فَفَزِعَ قَوْمُہَا إِلٰی أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ یَسْتَشْفِعُوْنَہُ، قَالَ عُرْوَۃُ: فَلَمَّا کَلَّمَہُ أُسَامَۃُ فِیْہَا تَلَوَّنَ وَجْہُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَتُکَلِّمُنِیْ فِیْ حَدٍّ مِّنْ حُدُودِ اللّٰہِ؟ قَالَ أُسَامَۃُ: اسْتَغْفِرْلِیْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، فَلَمَّا کَانَ الْعَشِیُّ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ خَطِیْبًا فَأَثْنٰی عَلَی اللّٰہِ بِمَا ہُوَ أَہْلُہُ ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّمَا أَہْلَکَ النَّاسُ قَبْلَکُمْ أَنَّہُمْ کَانُوْا إِذَا سَرَقَ فِیْہِمُ الشَّرِیْفُ تَرَکُوْہُ وَإِذَا سَرَقَ فِیْہِمُ الضَّعِیْفُ أَقَامُوْا عَلَیْہِ الْحَدَّ وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ یَدَہَا ثُمَّ أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِتِلْکَ الْمَرْأَۃِ فَقُطِعَتْ یَدُہَا فَحَسُنَتْ تَوْبَتُہَا بَعْدَ ذٰلِکَ وَتَزَوَّجَتْ، قَالَتْ عَاءِشَۃُ: فَکَانَتْ تَأْتِیْ بَعْدَ ذٰلِکَ فَأَرْفَعُ حَاجَتَہَا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ.(بخاری، رقم ۴۳۰۴۔مسلم، رقم۱۶۸۸، رقم مسلسل۴۴۱۰)زہری کہتے ہیں کہ مجھے حضرت عروہ بن زبیر (رضی اللہ عنہ) نے خبر دی کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں فتح مکہ کے موقع پر چوری کی، اس کی قوم کے لوگ گھبرائے ہوئے اسامہ بن زید (رضی اللہ عنہما) کے پاس آئے تاکہ وہ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) سے اس کی سفارش کریں (کہ اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے)۔ عروہ کہتے ہیں کہ جب حضرت اسامہ نے آپ( صلی اللہ علیہ وسلم) سے اس کی بات کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور آپ نے کہا: کیا تم اللہ کی قائم کردہ حدوں میں سے ایک حد کے بارے میں مجھ سے سفارش کرنے آئے ہو؟ اسامہ نے کہا: یا رسول اللہ، میرے لیے (اللہ سے) مغفرت کی دعا کیجیے۔ پھر دوپہر کے بعدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے خطاب فرمایا۔ اس میں اللہ کے شایان شان اس کی تعریف کی اور پھر فرمایا: اما بعد! تم سے پہلے لوگ اس وجہ سے ہلاک کر دیے گئے کہ جب ان میں سے کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو وہ اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اس پر حد قائم کر دیتے۔ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، اگر محمد کی بیٹی فاطمہ نے بھی چوری کی ہوتی تو میں لازماً اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت پر حد قائم کرنے کا حکم دیا، تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ (راوی کہتے ہیں کہ) اس کے بعد اس نے بہت خالص توبہ کی تھی، چنانچہ اس کی وہ توبہ بہت عمدہ رہی۔ پھر اس نے شادی بھی کر لی۔ حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) فرماتی ہیں کہ اس کے بعد بھی یہ عورت میرے پاس آیا کرتی تھی تو میں اس کی ضرورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا کرتی تھی۔

توضیح:

سورۂ نور میں زنا کی سزا کے نفاذ کے حوالے سے ارشاد باری ہے:

وَلاَ تَاخُذْکُمْ بِھِمَا رَاْفَۃٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ.(النور۲۴:۲)’’اللہ کے اس قانون کونافذکرنے میں ان کے ساتھ کسی نرمی کا جذبہ تمھیں دامن گیر نہ ہونے پائے۔‘‘

مراد یہ ہے کہ کسی مسلمان کے لیے اللہ کے قانون کو نافذ کرتے ہوئے مجرم کے لیے کسی قسم کی کوئی نرمی، مداہنت یا چشم پوشی کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔ سزا کے معاملے میں نہ مرد و عورت کا کوئی فرق کیا جائے گا، نہ امیر اور غریب کا۔ خدا کے مقرر کردہ حدود کا بے لاگ اور بے رو رعایت نفاذ ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت کا لازمی تقاضا ہے، جس سے گریز کرنے والوں کا ایمان ہی معتبر نہ ہو گا۔
چنانچہ، جب چوری کے ایک معاملے میں شریعت کی بیان کردہ حد میں مجرم کی ناجائز رعایت کا مطالبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا گیا تو آپ نے اس پر سخت تنبیہ فرمائی اور یہ واضح کیا کہ حدود کا نفاذبے لاگ طریقے سے ہونا چاہیے۔

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت فروری 2012
مصنف : محمد رفیع مفتی
Uploaded on : Sep 09, 2017
495 View