کیاحقیقت پسندی جرم ہے؟ خورشید احمد ندیم

کیاحقیقت پسندی جرم ہے؟

 

حقیقت پسندی اورآئیڈیلزم میں توازن انسانی زندگی کابنیادی مطالبہ ہے۔زندگی آئیڈیل سے محروم ہوجائے تو بے مقصد ہوجاتی ہے اورقدم اٹھاتے وقت اگرحقائق کی تکذیب کی جائے تو المیے جنم لیتے ہیں۔انسانی تاریخ اس حقیقت پر مہرتصدیق ثبت کر تی آگے بڑھ رہی ہے۔میرے نزدیک دونوں میں کوئی تضاد نہیں اورتوافق ممکن ہے ۔ آئیڈیل کاتعلق مقصد سے ہے اور حقیقت پسندی کاحکمت عملی سے ۔آئیڈیل منزل ہے اور حقیقت پسندی زاد راہ۔ سفرکبھی آئیڈیل کے سفینے پرطے نہیں ہوتے، اس کے لیے سیارۂ حقیقت چاہیے۔دنیابھرکے ادیب اورشعرا اس امر کورومانویت کارنگ تودے سکتے ہیں، لیکن کبھی اس امرواقعہ کاانکار نہیں کرسکتے کہ چناب کی بپھری موجوں پرکچے گھڑے سے سفرممکن نہیں ہے۔
ہم مسلمانوں کاایک المیہ یہ ہے کہ ہم انفرادی سطح پر اس توازن کی تلاش میں رہتے ہیں، لیکن اگر معاملہ قومی اورملی امور سے متعلق ہوتوپھرہربات میں مثالیت پسندی کامظاہرہ کرتے ہیں۔جب اس کے نتیجے میں المیے جنم لیتے ہیں تو انشا پردازی سے ان المیوں پرپھولوں کی چادرچڑھاتے اور موت کوزندگی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔حالانکہ موت کبھی زندگی نہیں ہوتی۔
آئیے دیکھیں کہ انفرادی زندگی میں ہم کیاکرتے ہیں۔ہم میں سے کوئی جب شادی کرنا چاہتاہے تواس کی نظر میں جیون ساتھی کاایک مثالی تصورہوتاہے۔جب یہ آئیڈیل حاصل نہیں ہوتاتو ہرعقل مندآدمی حقیقت پسند ہو جاتا ہے۔ وہ اردگرد دیکھتاہے اوریہ سوچتاہے کہ جوکچھ میسرہے، اس میں سے بہترکیاہے۔اس کی بنیادپرفیصلہ ہوتااورگھر بس جاتاہے۔اسی طرح ہم میں سے ہرکوئی اپنے ذہن میں گھرکا ایک تصوررکھتاہے۔اس کے درودیوار، کمروں اور آسایشوں کے بارے میں اس کا ایک خواب ہوتاہے۔جب زمینی حقائق اس خواب کی تعبیر میں حائل ہوتے ہیں تو ایسا کبھی نہیں ہوتاکہ وہ دیواروں سے سر پھوڑ لے۔ پھر وہ موجود وسائل کی بنیاد پر گھر لیتا اور رہنے لگتا ہے۔ اسلام آباد، لاہور اورکراچی کی کچی بستیوں اورمضافات میں رہنے والوں میں سے کون ہے جوای سیون، ماڈل ٹاؤن اور ڈیفنس میں نہیں رہناچاہتا۔لیکن اس کا عملی فیصلہ زمینی حقائق ہی کی بنیاد پرہوتاہے کہ اس نے کہاں رہنا ہے۔ہم میں سے ہرکوئی ایک اچھی گاڑی چاہتا ہے۔ جب یہ آئیڈیل میسر نہیں ہوتا تو پھر ہم سائیکل ،موٹرسائیکل یاپھرمہران وغیرہ پرہی اکتفاکرتے ہیں۔
آپ اس فہرست کوجتناچاہیں دراز کرلیں، آپ کوہرعقل مند آدمی حقیقت پسند نظرآئے گا۔اکثرلوگ عملاً آئیڈیل کوفراموش کردیتے ہیں، لیکن جو یادرکھتے ہیں وہ تدریجاً حقائق کے اعتراف کے ساتھ قدم بڑھاتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں اوریہی زندگی میں مطلوب ہے۔یہ لوگ آئیڈیل حاصل نہ کرسکیں تواس کے کچھ قریب ضرورپہنچ جاتے ہیں۔ہم اپنی اصطلاح میں جن لوگوں کوکامیاب یاسیلف میڈ (Self made)قراردیتے ہیں، ان میں سے کوئی ایسانہیں ہوتاجو حقائق کی تکذیب کرتاہو۔حقائق کایہ اعتراف انسانوں میں مسلسل محنت، صبراورمستقل مزاجی کا مزاج پیداکرتاہے اور یوں وہ آگے بڑھتامنزل تک پہنچ جاتاہے۔
یہی لوگ جب ایک اجتماعی وجوداختیارکرتے ہیں تو منزل اور راستہ، دونوں کے بارے میں مثالیت پسند ہو جاتے ہیں اورپھر المیوں پرالمیے جنم لیتے رہتے ہیں۔مثال کے طورپر فلسطین کامسئلہ دیکھیے۔یہ بات اب جھٹلاناممکن نہیں کہ مشرق وسطیٰ سے اسرائیل کاوجودختم نہیں ہوسکتا۔فلسطینیوں کے لیے واحد ممکن حل، جوان کے مفادمیں ہے، یہی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ان کی بھی ایک آزاد ریاست قائم ہوجائے۔ہم اس کااعتراف کرنے کے لیے تیار نہیں اورہمارا اصرارہے کہ مشرق وسطیٰ کواسرائیل کے ناجائز وجود سے پاک کردیں گے۔اس اصرار نے فلسطینیوں کی کئی نسلوں کوتباہ کردیااورہرنئے روڈمیپ میں مجوزہ فلسطینی ریاست کاجغرافیہ سمٹتاچلاجارہاہے۔اسی طرح کشمیر کے بارے میں دواوردوچار کی طرح واضح ہے کہ یہ کسی عسکری جدوجہد سے آزاد نہیں ہوسکتا۔پاکستان کاچیف آف آرمی سٹاف کئی مرتبہ یہ بات کہہ چکاہے کہ کشمیرجنگ سے آزادنہیں ہوسکتا۔لیکن اس کے باوجود ہمیں اصرار ہے کہ کشمیر جہاد سے آزادہوگا۔اس کانتیجہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ہرکشمیری گھرمیں ایک ایساالمیہ جنم لے چکاہے جس کی کسک کئی نسلوں تک محسوس کی جاتی رہے گی۔چیچنیاکے نقشے پرایک نظرڈالنے ہی سے یہ معلوم ہوجاتاہے کہ اس کی آزادی ممکن نہیں ہے۔وہ چاروں طرف سے روس میں گھراہواہے، لیکن ہم بضدہیں کہ چیچنیا کو آزاد کرائیں گے۔ اس فہرست کوبھی آپ جتنا چاہیں طویل کرلیں، ہرجگہ یہ نظرآتاہے کہ مسلمان منزل اورراستے، دونوں میں مثالیت پسند ہیں۔ مجھے تو یہ محسوس ہوتاہے کہ اس طرزعمل نے ایک نفسیاتی مرض کی صورت اختیارکرلی ہے۔یہی وجہ ہے کہ لوگ حقیقت پسندی کااستہزاکے لہجے میں ذکرکرتے اور اس کویوں بیان کرتے ہیں کہ جیسے یہ کوئی انتہائی ناپسندیدہ فعل ہے۔نفسیاتی مرض یہی ہوتاہے کہ چیزوں کی ترتیب الٹ جاتی ہے۔
آج ہماری ضرورت ہے کہ ہم ملی اور قومی امورمیں آئیڈیلزم اورحقیقت پسندی میں ویساہی توازن پیداکریں جیسا کہ ہم ذاتی زندگی میں کرتے ہیں۔منزل ہمارے سامنے رہنی چاہیے، لیکن زاد راہ وہی لیاجاسکتاہے جو میسر ہے۔ اس کی ایک اچھی مثال علامہ اقبال ہیں۔اقبال اپنی شاعری میں مثالیت پسندہیں اورممولے کوشہباز سے لڑاتے نظر آتے ہیں، لیکن انھوں نے جب بھی مسلمانوں کے عملی مسائل کاتجزیہ کیاہے، وہ ہمیشہ حقیقت پسندی پرمبنی رہاہے۔ مثال کے طورپروہ اپنی شاعری میں نیل کے ساحل سے لے کرتابخاک کاشغر، حرم کی پاسبانی کے لیے مسلمانوں کو ایک دیکھناچاہتے ہیں، لیکن عملاًوہ جانتے ہیں کہ اب مسلمانوں کی کسی عالمی خلافت یاسیاسی نظام کاقیام ممکن نہیں۔ چنانچہ وہ اس کاحل بتاتے ہیں کہ مسلمان قومی ریاستوں(Muslim Nation States) کوانفرادی حیثیت میں منظم ہوناچاہیے اورتمام توجہ اپنی انفرادی تعمیرپردینی چاہیے۔اس کے بعد دوسرے مرحلے میںیہ ہوسکتاہے کہ ان کی کوئی اقوام متحدہ وجودمیں آجائے۔مسلم اقوام متحدہ کامطلب یہ نہیں کہ ان کاانفرادی تشخص ختم ہوجائے، بلکہ اس کی یہی صورت ہوسکتی ہے کہ وہ کچھ مقاصد کی مل کر آبیاری کریں۔نظری اعتبار سے او آئی سی اوراس تصورمیں کوئی فرق نہیں۔
اقبال کی یہی حقیقت پسندی برصغیرکی تقسیم کے معاملے میں بھی نظرآتی ہے۔ اپنی شاعری میں وہ ’’مسلم ہیں ہم وطن ہے ساراجہاں ہمارا‘‘کہتے نظرآتے ہیں۔لیکن عملاًوہ یہ جانتے ہیں کہ یہ بات پورے ہندوستان کے حوالے سے بھی ممکن نہیں۔چنانچہ وہ اس کے بھی ایک خطے ہی پراکتفاکرلیتے ہیں۔اللہ کے آخری رسول کی پوری حیات مبارکہ آئیڈیلزم اور حقیقت پسندی کا حسین ترین امتزاج ہے۔ ان کے بارے میں اللہ کا فیصلہ یہی تھا کہ وہ رسول ہیں اس لیے انھیں ہر صورت میں غالب رہنا ہے۔ ان کی مدد کو آسمان سے فرشتے بھی اتر سکتے تھے اور اترتے رہے، لیکن چونکہ انھوں نے ہمارے لیے ایک اسوۂ حسنہ چھوڑنا تھا، اس لیے سیرت کے مراحل میں حدیبیہ، احد اور احزاب جیسے مقامات موجود ہیں۔
آج مسلمانوں کی خیرخواہی کا یہی تقاضاہے کہ انھیں ملی اورقومی امورمیں وہی رویہ اختیارکرنے کی تلقین کی جائے جس کامظاہرہ وہ اپنی انفرادی زندگی میں کرتے ہیں۔ملاعمر جیسے لوگوں کی نیک نیتی زیربحث نہیں، لیکن اس طرز عمل کو آئیڈیل ثابت کرنے کانتیجہ اس کے سواکچھ نہیں کہ مسلمانوں کی تاریخ میں المیوں کاتسلسل جاری رہے۔

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت جولائی 2005
مصنف : خورشید احمد ندیم
Uploaded on : Jun 13, 2018
173 View