جامع الوقوت - ساجد حمید

جامع الوقوت

 

شرح موطا

اوقات کے عام مسائل

[۲۱] حدثنی یحییٰ عن مالک عن نافع عن عبد اللّٰہ بن عمر : ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: اَلَّذِیْ تَفُوْتُہُ صَلَاۃُ الْعَصَرِ کَأَنَّمَا وُتِرَ اَہْلُہُ وَمَالُہُ.
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی عصرچھوٹ گئی، تو گویا اس سے اس کے اہل و عیال اور مال و دولت چھین لیے گئے۔‘‘ 

شرح

مفہو م و مدعا

اس روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ نماز عصر کا ضائع ہوناایک مسلمان کے لیے ایسا ہے گویا کہ اس کا سب کچھ لٹ گیا ہو اور اس کے بیوی بچے بھی اس سے چھین لیے گئے ہوں۔یہ نماز کے چھوٹ جانے پر ہونے والے زیاں کا بیان ہے۔
نماز عصر کی اہمیت بعض اور پہلووں سے بھی بیان ہو سکتی ہے، لیکن آپ نے اسے مال و دولت اور اہل و عیال کے ساتھ خاص کیا ہے۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ جس چیز کی محبت آدمی کو زیادہ ہوتی ہے، وہ اس کا مال اور آل اولاد ہی ہے۔ اسی وجہ سے اس نقصان کو سامنے رکھا گیا ہے ، تاکہ بات سمجھنے میں آسان اور ترغیب میں موثر ہو جائے۔
دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی معاشرت میں بازار سر شام بند ہو جاتے تھے۔ لوگ بالعموم مغرب کے وقت اپنے گھروں میں ہوتے تھے۔ اس لیے عصر اور اس کے بعد کا وقت بازار کے خاتمہ کے قریب ہونے کی وجہ سے مصروفیت کا وقت بن جاتا تھا۔اس میں دکان سے اٹھ کر نماز کے لیے جانا گاہکوں سے محروم ہونے کے مترادف تھا۔ شاید اس پہلو سے آپ نے یہ فرمایا تھا کہ جو اس مال کے لیے اور بچوں کے لیے کمانے کی وجہ سے عصر چھوڑ کر بیٹھا رہے گا، ا س کو یہ احساس رہنا چاہیے کہ اس کی عصر کیا چھوٹی ہے، سب کچھ ہی لٹ گیا ہے۔
اس مضمون کی تین تعبیریں ممکن ہیں ایک یہ کہ عصر کی نماز جیسا کہ ہم نے ذکر کیا چونکہ مصروفیت میں آتی تھی، اس وجہ سے یہ صلوٰۃ وسطیٰ کہلائی اور اسی وجہ سے اس کی اہمیت بڑھ گئی ۔ یہ اہمیت سلبی پہلو سے ہے۔ یعنی اس پہلو سے کہ آدمی کی نماز ضائع نہ ہو جائے۔ اس لیے کہ قرآن مجید میں یہ فرمایا گیا ہے :

حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ والصَّلاَۃِ الْوُسْطیٰ وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ.(البقرہ ۲: ۲۳۸)
’’نمازوں کی حفاظت کرو، اور نماز وسطیٰ کی، اور اللہ کے حضور میں فرماں برداری سے کھڑے رہو۔‘‘

یعنی جس طرح کے وقت میں یہ نماز آتی ہے ، اس میں اس کے چھوٹ جانے کا امکان بڑھ جاتا ہے ۔ اس لیے اس نماز کے بارے میں زیادہ ہشیار اور بیدار رہنے کی ضرورت ہے۔ یہی معاملہ ہر اس نماز کا ہے ، جو مصروفیات یا اہم مشاغل کے درمیان میں آجائے۔
اس روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی اہمیت کو بیان کیا ہے ۔اس صورت میں یہ روایت سزا یا گناہ کی مقدار کا تعین نہیں کرے گی ، بلکہ یہ محض جرم کی سنگینی کا بیان ہوگا۔یعنی ایک آدمی جو اپنی عصر ضائع کر بیٹھا ، اس نے گویا اپنا سب کچھ ضائع کردیا۔اس میں متکلم کا منشا محض احساس شدت کو پیدا کرنا ٹھہرے گا نہ کہ مقدارسزا کا تعین۔ اس لیے کہ یہ بات بعید از قیاس ہے کہ آدمی ہر نماز پڑھتا ہو ، اور اس کی صرف ایک عصر چھٹ جائے تو اسے سب کچھ سے محرو م کردیا جائے۔ البتہ یہ بات ہو سکتی تھی کہ کسی نے زندگی بھر عصر چھوڑی ہو تو تب یہ سزا ہو سکتی تھی۔لیکن اس صورت میں یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ ایک نمازی مسلمان کی عصر کی نماز سے کوئی دشمنی ہو اور ہمیشہ عصر ہی کو چھوڑدیتا ہو۔
دوسرے یہ کہ آپ نے یہ بات کسی خاص پس منظر میں فرمائی ہو: مثلاً اس شخص کے بارے میں جو ساری نمازیں منافقت سے پڑھتا رہے، اور عصر کے وقت دکان داری کے نقصان کے پیش نظراس کی منافقت اسے عصر ضائع کرنے پر مجبور کردیتی ہو،تو ایسے شخص کے بارے میں بلاشبہ یہ وعید ہو سکتی ہے ۔
تیسرے یہ کہ کسی وجہ سے کسی کی عصر چھوٹ گئی ہو اور اس نے آپ سے سوال کیا ہو توآپ نے بات کو عصر کے پہلو ہی سے بیان کردیا ہو۔ لیکن یہ وعید اصلاً تارک نماز کی ہونہ کہ تارک عصر کی ۔ علامہ ابن عبد البر نے ’’التمہید‘‘ میں یہ رائے اختیار کی ہے:

و قد یحتمل أن یکون ہذا الحدیث خرج علی جواب السائل عمن تفوتہ صلاۃ العصر، فلا یکون غیرہا بخلاف حکمہا فی ذلک. و یحتمل أن یکون خصت بالذکر، لأن الاثم فی تضییعہا أعظم. والتاویل الاول أولی. (۱۴: ۱۲۲)
’’اس بات کا پورا امکان ہے کہ عصر کے بارے میں یہ بات کسی سائل کے جواب میں کہی گئی ہو، جس نے عصر ضائع کربیٹھنے والے کے بارے میں سوال کیا ہو۔ اس صورت میں باقی نمازیں اس حکم سے نہیں نکلیں گی۔ اس بات کا بھی امکان ہے کہ خاص عصر ہی کا ذکر کیا گیا ہو کہ اس کے ضائع کرنے کا گناہ سب سے زیادہ ہو۔ لیکن پہلی تاویل ہی زیادہ بہترہے۔‘‘

شارحین و فقہاکے ہاں نماز کے ضائع ہونے کے معنی میں اختلاف ہے اور ضائع کرنے کی کیفیت میں بھی۔ مختلف فقہا اور شارحین نے ضائع ہونے کا مطلب افضل وقت کا نکل جانا، جماعت کافوت ہوجانا، یا قضا ہوجانا لیا ہے۔ اسی طرح یہ اختلاف بھی ہے کہ ضائع کرنے والے نے جان بوجھ کر نماز چھوڑی یا غلطی سے نکل گئی۔
ان باتوں کا فیصلہ کرنے کے لیے ہمارے پاس متن میں قرائن موجود نہیں ہیں۔ البتہ دوسرے طرق سے کچھ چیزیں معلوم ہوتی ہیں، جن کو ہم دیگر طرق کے تحت دیکھیں گے۔ یہاں اتنی بات جان لینی چاہیے کہ زیادہ تر طرق سے اسی بات کی تائید ہوتی ہے کہ اس سے مراد نماز کا قضا ہونا ہی ہے۔ اور اسی طرح یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ یہاں عمداً نماز ترک کرنا ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر تھا۔ اس لیے کہ بھول چوک سے نماز رہ جانے میں کوئی سزا نہیں ہے ، (البقرہ ۲:۲۸۶) بشرطیکہ آدمی یاد آتے ہی نماز ادا کرلے۔

لغوی مسائل

یہ روایت تشبیہ کے اسلوب میں ہے، اس کے معنی وعید کے بھی ہو سکتے ہیں، اور محض جرم کی سنگینی کا احساس دلانے کے بھی۔ہمارے خیال میں شعور و احساس کو بیدار کرنے ہی کے لیے یہ انداز اختیار کیا گیا ہے۔
اگرچہ عام طور سے یہ تاویل کی گئی ہے کہ’ وتر اہلہ و مالہ‘، میں ’وتر‘ کا نائب فاعل وہ شخص ہے، جس کی نماز جاتی رہی۔’ اہلہ و مالہ‘مفعول ثانی ہیں، اس لیے منصوب ہیں۔’ وتر ‘کا فعل دو مفعول بھی لے لیتا ہے۔ جیسے قرآن مجید میں ہے: ’ولن یَتِرَکم اعملکم‘(محمد۴۷:۳۵) اور وہ تمھارے اعمال میں کمی نہیں کرے گا۔
امام مالک رحمہ اللہ سے اس کی نحوی تحلیل مختلف کتابوں میں نقل ہوئی ہے، جیسے مسلم کی شرح نووی میں ہے یا زرقانی نے بھی اس کا حوالہ دیا ہے(۱:۲۹)۔ انھوں نے’ اہلہ‘ا ور’ مالہ‘ کو مرفوع لیا ہے۔ جس کا مقدرانھوں نے یوں کھولاہے:’نُزِع اہلُہ و مالُہ منہ‘، یعنی اس سے اس کا مال و اولاد چھین لیے گئے۔اس لیے ہم نے اوپر متن حدیث کے اعراب امام مالک ہی کی ترجیح پر لگائے ہیں۔البتہ جمہور کی رائے اس میں بہتر اور واضح ہے۔لیکن معنی میں دونوں سے ایک ہی نتیجہ نکلتا ہے۔
’وتَر رجلا‘کے معنی ہوں گے ، اس نے آدمی کواکیلا و تنہاکردیا۔اس کے بہت سے معنی بتائے گئے ہیں ۔ ہمارے خیال میں نماز کے چھوٹ جانے سے آدمی نمازسے محروم رہا ہے، اس لیے محرومی کی نوعیت کی بات ہی آگے بیان ہونی چاہیے۔ یعنی عصر چھوٹنا اتنا بڑا نقصان ہے ،جتنا آدمی کا سب کچھ چھن جائے اور وہ اکیلا اور کنگال ہو کررہ جائے۔
عصر کے نقصان کو مال و اولاد کے چھننے کے برابر قراردینا تلازمہ کے طور پر ہوا ہے۔یعنی جس مال و اولاد کے لیے وہ دکان پر بیٹھا تھا، اسی کی رعایت سے یہ بات کہہ دی گئی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ یہ موازنہ اس وجہ سے کیا گیا ہے کہ عصر کا یہ چھوٹ جانا مادی منفعت ہی کی وجہ سے ہوا تھا ، اس لیے اسی نقصان کو ایک طرح سے معنوی مجانست کے اصول پر بیان کیا گیا ہے۔

درایت

قرآن و سنت سے تعلق

قرآ ن مجید میں بیان صلوٰۃ وسطی کا ایک اطلاق نماز عصر پر کیا گیا ہے ۔ اس روایت میں اسی نماز کی اہمیت بیان ہوئی ہے۔
قرآن مجید سے دوزخ میں جانے والوں کے بارے میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اہل و عیال سے محروم ہوں گے ۔ جبکہ اصحاب جنت اپنے اہل خانہ کے پاس شاداں و فرحاں جائیں گے اور اپنا نامۂ اعمال انھیں بصدمسرت دکھائیں گے(الحاقہ ۶۹: ۱۹)۔لیکن یہ واضح ہے کہ محض ایک عصر چھٹ جانے سے یہ سزا ملنے والی نہیں ، بلکہ یہ اس منافقانہ نماز کی سزا ہو سکتی ہے ، جس کے ساتھ انسان کی پوری زندگی گزری ہو۔

دیگر متون

عن بریدۃ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم :من ترک صلاۃ العصر فقد حبط عملہ.(بخاری ، رقم ۵۲۸)
’’حضرت بریدہ کہتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے عمداً عصر کی نماز ترک کی، اس کے عمل ضائع گئے۔‘‘

عن بن عمر قال سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول : من ترک العصر متعمدا حتی تغرب الشمس فکانما وتر اہلہ ومالہ.(مسند احمد ، رقم ۴۸۰۵)
’’ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے عصر کی نماز کو جان بوجھ کر چھوڑے رکھا حتیٰ کہ سورج ڈوب گیا ، تو اس کا ایسا نقصان ہوا جیسا کہ اس کے اہل و عیال اور مال و منال کو اس سے چھین لیا گیا ہو۔‘‘

أن نوفل بن معاویۃ قال سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول: من الصلوٰت صلاۃ، من فاتتہ فکانما وتر اہلہ ومالہ قال بن عمر سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول ہی صلاۃ العصر.(نسائی ، رقم ۴۷۹)
’’نوفل بن معاویہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ نمازوں میں سے ایک نماز ہے کہ جس نے اسے ضائع کردیا ، تو یوں سمجھو اس نے اپنے مال اور اہل وعیال کو کھو دیا۔ ابن عمر فرماتے ہیں کہ میں نے آپ کو یہ بھی فرماتے سنا کہ یہ نماز، نمازعصر ہے۔‘‘

ان تمام متون میں یہ بات واضح ہے کہ زیر بحث روایت میں نماز کو جان بوجھ کر چھوڑناپیش نظر ہے اور یہ کہ اس میں نماز ضائع ہونے سے نماز قضا ہونا مراد ہے۔
ایک روایت اس مضمون کی ہے جس میں نماز عصر کو فجر کی طرح مشہود قرار دیا گیا ہے:

عن ابی ہریرۃ أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: یتعاقبون فیکم ملائکۃ باللیل وملائکۃ بالنہار، ویجتمعون فی صلاۃ الفجر، وصلاۃ العصر ثم یعرج الذین باتوا فیکم فیسألہم، وہو أعلم بہم،کیف ترکتم عبادی؟ فیقولون: ترکناہم وہم یصلون واتیناہم وہم یصلون. (بخاری، رقم ۵۳۰)
’’ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے باری باری صبح اور شام کے وقت تمھارے بیچ میں اترتے ہیں۔اور ان دونوں وقتوں میں اترنے والے فرشتے فجر اورعصر کے وقت اکٹھے ہوتے ہیں۔ پھر وہ فرشتے جو رات تمھارے بیچ میں رہے تھے، وہ اللہ کی طرف صعود کرتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ جاننے کے باوجود ان سے پوچھتے ہیں : میرے بندوں کو کس حالت میں چھوڑ کرآئے ہو؟ وہ بولیں گے جب ہم نے انھیں چھوڑا تو وہ نماز میں تھے ، اور جب ہم ان کے پاس گئے تو اس وقت بھی وہ نماز میں تھے۔‘‘

احادیث باب پر نظر

اس روایت کے الفاظ سے بظاہر عصر کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ عصر کی اہمیت احادیث میں دو پہلووں سے بیان ہوئی ہے۔ ایک یہ کہ اسے’ صلٰوۃ وسطیٰ‘قرار دیا گیا ہے اور دوسرے یہ کہ اوپر بیان کردہ احادیث میں اس کے تارک کو دوطرح کی وعیدسنائی گئی ہے: ایک حبط اعمال کی اور دوسرے سب کچھ لٹ جانے جیسے نقصان کی ۔
’صلٰوۃ وسطیٰ‘ کے موضوع کے تحت ہم ان شاء اللہ موطا کے باب’ الصلٰوۃ الوسطی‘ہی میں بحث کریں گے۔البتہ دوسری اہمیت جو یہاں بتائی گئی ہے ، اسے صرف عصر کی اہمیت قرار نہیں دینا چاہیے، وہ اصلاً جانتے بوجھتے نماز چھوڑنے پر وعید ہے، عصر یہاں ایک خاص محل میں مذکور ہے ۔ یہ بات احساس زیاں کی بیداری کے لیے ہے کہ عصر کا چھٹ جانا ایک نہایت نقصان دہ عمل ہے۔

روایت

یہ روایت موطا کے ساتھ ساتھ مسلم ، بخاری اور صحاح ستہ کی دوسری کتب میں بھی آئی ہے۔ بخاری نے یہی روایت امام مالک کے حوالے سے ہی اپنی کتاب ’’صحیح بخاری ‘‘ میں رقم ۵۲۷ کے تحت درج کی ہے ۔امام مالک سے آگے اس کی سند بھی یہی ہے۔یعنی :’مالک عن نافع عن عبد اللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہما‘۔
یہ روایت اسی طرح کی تبدیلیوں سے گزر کر ہم تک پہنچی ہے جس طرح کی تبدیلیاں پیچھے’ متلفات بمروطہن‘ (رقم۴) والی روایت میں ہم نے دیکھیں کہ کس طرح’ مہاجرات، نساء النبی‘ا ور ’نساء المؤمنین‘ کے الفاظ نے ایک دوسرے کی جگہ لے کر بات کو ایک پہلوسے کس قدر الجھا دیا تھا۔ ٹھیک ایسا ہی معاملہ اس روایت میں ہواہے کہ ایک خاص محل کی روایت تھی جسے راویوں نے بالمعنٰی روایت کرتے ہوئے ایک عمومی اصول کی صورت دے دی ہے۔

____________
بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت دسمبر 2005
مصنف : ساجد حمید
Uploaded on : Feb 15, 2018
499 View