جمہوریت اور مسلم سماج - خورشید احمد ندیم

جمہوریت اور مسلم سماج

 

مسلم معاشرے کی فکری اور نفسیاتی ساخت کیا جمہوریت کے لیے ساز گار نہیں ہے؟

طیب اردوان کے ہاں روز بروز نمایاں ہوتے آمرانہ رجحانات نے اس سوال کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے۔ مسلم دنیا میں ہونے والا ہر واقعہ، مسلمان معاشرے کی ساختیاتی ترکیب کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔جس طرح مغربی معاشرے کے واقعات سے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اجتماعیت کے باب میں کیا رجحانات ہیں جو فروغ پذیر ہیں، اسی طرح ان واقعات سے جانا جا سکتا ہے کہ مسلم سماج کی بناوٹ کن رحجانات کو قبول کر نے میں گرم جوش ہے اور کن کے بارے میں اس کا رویہ سرد مہری کا ہے۔ Structuralism آج علم البشریات کا اہم مو ضوع ہے۔ ہمارے ہاں چونکہ علمی سطح پر واقعات کی تفہیم کی کوئی مقامی روایت مستحکم نہیں ہو سکی، اس لیے مسلم سماج کو سمجھنے کی ذمہ داری بھی بڑی حد تک مغرب ہی نے اٹھائی ہے۔ ایک آدھ استثنیٰ کے ساتھ، میرے علم میں نہیں ہے کہ مولانا مودودی کے بعد، کسی صاحب فکر نے یہ کام کیا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ فوکویاما اور ہنٹنگٹن سے لے کر جان ایسپوسیٹوتک، یہ اہل علم مغرب میں پائے جاتے ہیں جنہوں نے مسلم معاشروں میںہونے والے اہم واقعات کو دیکھا اور ان سے بعض بنیادی سوالات کے جواب تلاش کرنے کی سعی کی ہے، جن میں سے ایک سوال مسلم سماج اور جمہوریت کے باہمی تعلق کے بارے میں ہے۔ 

ایران کے انقلاب ، افغانستان میں طالبان کی حکومت، سوڈان میں عمر عبدالبشر کا اقتدار، عرب بہار اور اب اردوان گولن کشمکش کو سامنے رکھتے ہوئے، اَن گنت مقالات اورمضامین لکھے گئے ہیں جن میں یہ سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے کہ مسلم دنیا میں جمہوریت کے فروغ کے امکانات کتنے ہیں۔ میرے نزدیک بھی یہ سوال بہت اہم ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ مسلم معاشروں کے سیاسی استحکام کامسئلہ بڑی حد تک اس کے جواب پر منحصر ہے۔

امر واقعہ یہی ہے کہ بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں، جب نو آبادیاتی دور کے بعد مسلم ممالک نے اپنے نئے سفر کا آغاز کیا تو ان میں جو شخصیات نمایاں ہوئیں اور جنہیں عوامی مقبولیت بھی حاصل ہوئی، وہ تدریجاً آمرانہ طرز حکومت کی طرف ہی بڑھتی گئیں۔ جمال عبدالناصر، سوکارنو، معمرقذافی، ذوالفقار علی بھٹو ، مسلم دنیا میں ابھرنے والی ہر شخصیت نے جمہوری اقدار کو پامال کیا۔ آزادیٔ رائے اور سیاسی مخالفت کوجس طرح بالجبر ختم کرنے کی کوشش ہوئی، ان گنت دردناک داستانیں ان کی یادگار ہیں۔

اکیسویں صدی میں بھی یہ رجحانات غالب ہیں۔ بادشاہوں کا معاملہ تو الگ رہا، ایران ملائشیا اور اب ترکی جہاں عوام کی اکثریت نے لوگوں کو اقتدار تک پہنچایا وہاں بھی سیاسی مخالفین کو برداشت نہیں کیا جارہا۔ ایران کے چند مذہبی رہنماؤں نے مخالفین سے جو سلوک کیا، مہاتیر محمد نے انور ابراہیم کی ساری عمر اور صلاحیتوںکو جس طرح برباد کیا اور اب اردوان صاحب جس طرح کا معاملہ اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ کر رہے ہیں، ان سب واقعات کو سامنے رکھیں تو اس سوال کا اٹھنا ناگزیر ہے کہ کیا مسلم معاشرے کی ساخت جمہوریت کے لیے سازگار نہیں ہے؟

اکثریت کے اندازِ فکر کو دیکھتے ہوئے، میرا جواب تو اثبات میں ہے۔ حکومت کے باب میں مسلمان معاشروں میں جو انداز ِنظر فروغ پذیر رہا، اس میں ارتکازِ اختیار ہی کا نظریہ مقبول رہا۔ مسلم نفسیات کے تحت الشعور میں سیاسی قیادت کا جو تصور ہے، وہ ایک فرد واحد کا ہے جو زمین پر انصاف اور عدل کی علامت ہے۔ ہمارے تاریخی شعور نے اسے عمر فاروقؓ یا عمرؒ بن عبدالعزیز کی صورت میں مجسم کیا۔ آج ہم جس مثالی طرز حکمران کی بات کرتے ہیں اس میں یہ فرد واحد ہے جو ایک طرف بطور قاضی القضاۃ فیصلے سنا رہا ہے، دوسری طرف بطور سپہ سالار میدان جنگ میں دادِ شجاعت دے رہا ہے، تیسری طرف سادگی کا پیکر ہے اور پیوند زدہ کپڑے پہنے درخت کے نیچے سو رہا ہے۔ چوتھی طرف اس کی ہیبت کا یہ عالم ہے کہ عالمی قوّتیں اس کے خوف سے کانپ رہی ہیں۔اس پیکر کا نام، صلاح الدین ایوبی بھی ہے، محمود غزنوی بھی ہے۔ ہمارا عظیم مفکر حسرت سے سوال اٹھاتا ہے ؎

کیا نہیں اور غزنوی کارگہِ حیات میں

بیٹھے ہیں کب سے منتظر اہل حرم کے سومنات 

دلچسپ بات یہ ہے کہ مستقبل کے باب میں بھی ہم ایک ''السلطان العادل‘‘ ہی کی راہ دیکھتے ہیں جو تشریف لائیں گے تو یہ زمین انصاف سے بھر جائے گی۔ ہمارا ماضی ایک فرد ِواحد کے دم سے آباد ہے اور مستقبل بھی اسی کے خیال سے روشن ہے۔ ہماری علمی روایت بھی افراد ہی سے منسوب ہے۔ یہ اسی اندازِ نظر (mindset ) کا شاخسانہ ہے کہ جمہوری حکمران بھی اختیارات کے حوالے سے بادشاہ بننا چاہتے ہیں۔ نواز شریف صاحب کا پہلا دورِاقتدار لوگوں کو یاد ہو گا جب انہوں نے بھی ایسا ہی قانون منظور کرانا چاہا۔ یہی فکر ہے کہ جب کوئی عالم مذہبی وسیاسی تحریک اٹھاتا ہے تو یہی نظریہ پیش کرتا ہے کہ امیرکو کسی شوریٰ کی رائے کا پابند نہیں ہونا چاہیے۔طیب اردوان بھی اسی راہ کے مسافر ہیں۔

میرا احساس ہے کہ یہ اندازِ نظر اس لٹریچر سے وجود میں آیا جو عباسیوں کے عہد میں مرتب ہوا۔ تاریخ ، فقہ یا علم سیاسیات ، ہر علم میں اسی اندازِ فکر کی جھلک ہے۔ہماری روایت میں انفرادی دانش سے اجتماعی دانش کی طرف بڑھنے کاکوئی رجحان نہیں پایا جاتا۔ اس میںصرف ایک استثنیٰ ہے اور وہ امام ابو حنیفہؒ کا ہے۔ امام کے دو بڑے علمی کارنامے ہیں۔ ایک یہ کہ انہوں نے اجتماعی دانش کو بروئے کار لانے کے لیے پہلی بار ادارہ بنایا۔ ان کے شاگردوں کی ایک مجلس تھی ، جس میں مسئلہ زیر بحث آتاتھا۔ اس پہ سب اپنی آراء دیتے اور یوں بحث سے جو موقف مرتب ہوتا، اسے لکھ لیا جاتا۔ امام صاحب کا دوسرا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے نصوص اور روایت کی تفہیم کو عقلِ عام اور انسانی تجربے کے ساتھ مر بوط کیا۔

اپنے اس رجحان کے باعث مخالفین نے ان کے حلقے کو ''اصحاب رائے‘‘ قرار دے کرمستردکرنے کی کوشش کی۔ افسوس کہ بعد کے حنفی امام ابو حنیفہ اور ان کے شاگردوں کی آراء کے مقلدِ محض بن گئے اور ان کی اصل علمی روایت کے جانشین نہ بن سکے، الاماشااﷲ۔اکثریت کے نزدیک فقہ حنفی صرف اس بات کا نام ہے کہ مسئلہ زیرِ بحث میں قدیم فقہا کی آرا بیان کر دیں۔

جمہوریت سیاسی امور میں اجتماعی دانش کے بروئے کار آنے کا نام ہے۔ اسلام بھی اسی کا قائل ہے۔ رسالت مآب ﷺکے بعد دین کی دعوت اور فروغ کا مشن کسی فرد واحد کو نہیں، بنی اسماعیل کو اجتماعی حیثیت میںمنتقل کیا گیا۔ختم نبوت کا ایک مفہوم یہ بھی ہے۔ قرآن مجید نے کہا : '' ہم نے تمہیں درمیان کی جماعت بنایا تاکہ تم لوگوں پر حق کی شہادت دینے والے بنو اور رسول تم پر شہادت دے۔‘‘(البقرہ143:2)۔اسلام کو لوگوں نے اس زاویے سے نہیں سمجھا۔اس لیے آج بھی یہ خیال پیش کیا جاتا ہے کہ سماج میں چند صالحین ہونے چاہئیں جو کسی طرح سے اقتدار پر قبضہ کرلیں تو دنیا میں خیر پھیل جائے گا۔ظاہر ہے کہ اس تعبیر کی روشنی میں اجتماعی دانش کا کوئی تصور آگے نہیں بڑھ سکتا۔

آج مسلم اندازِ نظر (mindset)میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ یہ انفرادی دانش سے اجتماعی دانش کی طرف رجوع ہے۔ جب تک یہ نہیں ہو تا،تب تک یہ سوال اٹھتا رہے گا کہ مسلم معاشرے کی ساخت کیا جمہوریت کے لیے سازگار ہے؟ 

------------------------------------

 

بشکریہ روزنامہ دنیا

تاریخ اشاعت 30 جولائی 2016

مصنف : خورشید احمد ندیم
Uploaded on : Sep 01, 2016
797 View