احرام میں موذی جانور کو مارنا - ساجد حمید

احرام میں موذی جانور کو مارنا

 

شرح موطا

روی۱ أن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: خمس۲ من الدواب کلہن فاسق یقتلن فی الحل والحرم منہن:۳ الحیۃ والعقرب والفارۃ والکلب العقور والحدیا.۴
’’ روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جانوروں کی پانچ (قسمیں) ہیں، جو سب کے سب موذی۱ ہیں۔انھیں عام حالات اور حالت احرام ۲ میں بھی ماراجاسکتا ہے، ان میں سے کچھ یہ ہیں: سانپ، بچھو، جنگلی چوہے،درندے اور شکرے۔‘‘ ۳

ترجمے کے حواشی

۱۔اس کے لیے عربی میں فاسق کا لفظ آیا ہے۔یہاں اس سے مراد موذی جانور ہیں ، جو آمادۂ اذیت ہو جائیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صفت کو بیان علت کے لیے یہاں ذکر کیا ہے۔یہ علت یہ بتا رہی ہے کہ تمام جان داروں کی زندگی کااحترام کیا جائے گا، لیکن جب کو ئی جانور ہمارے لیے فاسق یعنی اذیت اور جان و مال کے نقصان کا باعث بننے لگے تو اسے مار کر بھگایا بھی جا سکتا ہے اور اگر اس سے اس کی اذیت سے بچاؤ ممکن نہ ہو تو اسے جان سے مارا بھی جا سکتا ہے ۔ یہی اجازت حاجی اور ’معتمر‘ کے لیے ہے۔
جو جانور موذی نہیں ہیں، لیکن تنگ کرنے لگیں، انھیں صرف ماربھگانا ہی درست ہے، مسند احمد کی روایت ۱۱۰۰۳ میں آپ کا فرمان نقل ہوا ہے : ’ویرمی الغراب ولا یقتلہ‘، محرم کوے کو بس کنکر مارے ،جان سے نہ مارے۔
۲۔حج میں شکار اور کسی بھی زندہ جانور کے مارنے سے منع کیا گیا ہے۔لیکن جس طرح حرام مہینوں میں اگر دشمن حملہ کردے تو جنگ کی ممانعت کے باوجود دشمن کے خلاف جوابی اقدام کی اجازت ہے، اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جن جانوروں سے ’’فسق ‘‘کا اندیشہ ہو، انھیں مارا جا سکتا ہے۔
۳۔یہ تمام جانور دراصل اپنی نوع کے لیے مثال بن کر آئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض روایتوں میں شکرے کی جگہ چتکبرے کوے اور بچھو کی جگہ بھڑ کا ذکر بھی آیاہے۔ یعنی رینگنے والے جانورجیسے سانپ، درندے جیسے بھیڑیا، پرندے جیسے شکرا اور عقاب، کیڑے جیسے بچھو اور بھڑ،چھوٹے جانور جیسے چوہے، موذی جانوروں کی قسموں کی علامت ہیں۔ایسے جانوروں کو محرم بھی اس وقت مار سکتا ہے ،جب وہ اسے اذیت دیں۔یعنی یہ درست نہیں کہ محرم ان جانوروں کو خواہ مخواہ مارے۔

متن کے حواشی

۱۔اس روایت کا ابتدائی حصہ صحیح مسلم، رقم ۱۱۹۸ سے لیا گیا ہے۔ تھوڑے بہت فرق کے ساتھ یہ روایت ان مقامات میں وارد ہوئی ہے:صحیح مسلم، رقم۱۱۹۸، ۱۱۹۹، ۱۲۰۰؛ صحیح بخاری، رقم ۱۷۳۰، ۱۷۳۱، ۱۷۳۲، ۳۱۳۶، ۳۱۳۷؛ سنن ابی داود، رقم ۱۸۴۶،۱۸۴۷،۱۸۴۸؛ صحیح ابن حبان، رقم ۳۹۶۱،۳۹۶۲، ۵۶۳۲، ۵۶۳۳؛ مسند ابی یعلیٰ، رقم ۲۴۲۸، ۲۶۹۳، ۴۵۰۳، ۵۴۲۸، ۵۴۹۷، ۵۵۴۴؛ السنن الکبریٰ، رقم ۳۸۱۱، ۳۸۱۲، ۳۸۱۳،۳۸۱۵، ۳۸۱۶، ۳۸۱۷، ۳۸۱۸، ۳۸۶۵ ، ۳۸۷۰،۳۸۷۱ ،۳۸۷۲، ۳۸۷۳، ۳۸۷۴؛ مسند احمد، رقم ۲۳۳۰، ۲۳۳۱، ۴۴۶۱، ۴۵۴۳، ۴۷۳۷، ۴۸۵۱، ۴۸۷۶، ۴۹۳۷، ۵۰۹۱، ۵۱۰۷، ۵۱۳۲، ۵۱۶۰، ۵۳۲۴، ۵۴۷۶، ۵۵۴۱، ۱۱۰۰۳، ۲۴۰۹۸، ۲۴۶۱۳، ۲۴۷۰۵، ۲۴۹۵۵، ۲۵۳۴۹، ۲۵۳۵۰، ۲۵۷۱۹، ۲۵۷۲۰، ۲۵۹۸۸، ۲۶۱۷۵، ۲۶۲۶۶، ۲۶۲۷۳، ۲۶۲۸۷، ۲۶۹۰۰، ۲۶۴۸۲، ۲۷۱۷۸، ۶۲۲۸،۶۲۲۹،۱۱۷۷۲؛ السنن البیہقی الکبریٰ، رقم ۹۸۱۱، ۹۸۱۲، ۹۸۱۳، ۹۸۱۴، ۹۸۱۵، ۹۸۱۶، ۹۸۱۷، ۹۸۱۸، ۹۸۱۹،۹۸۲۰، ۹۸۲۱،۹۸۲۲، ۹۸۲۳، ۹۸۲۴، ۹۸۳۱، ۹۸۳۲، ،۱۹۱۴۴، ۱۹۱۴۵، ۱۹۱۴۶، ۱۹۱۴۷،۱۹۱۴۸، ۱۹۱۵۰؛ سنن ابن ماجہ، رقم ۳۰۸۷،۳۰۸۸، ۳۰۸۹؛ سنن الدارمی، رقم ۱۸۱۶، ۱۸۱۷؛ صحیح ابن خزیمہ، رقم ۲۶۶۵ ، ۲۶۶۶، ۲۶۶۷، ۲۶۶۸، ۲۶۶۹؛ المسند، رقم۶۱۹؛ سنن الترمذی، رقم ۸۳۷، ۸۳۸؛ سنن النسائی، رقم ۲۸۲۸، ۲۸۲۹، ۲۸۳۰، ۲۸۳۲، ۲۸۳۳، ۲۸۳۴، ۲۸۳۵، ۲۸۸۱، ۲۸۸۲، ۲۸۸۷، ۲۸۸۸، ۲۸۸۹، ۲۸۹۰، ۲۸۹۱؛ مصنف عبد الرزاق، رقم ۸۳۷۴، ۸۳۷۵، ۸۳۸۴، ۸۳۸۵؛ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۱۴۸۲۱، ۱۴۸۲۲، ۱۴۸۳۵، ۱۴۸۳۶، ۱۴۸۳۷، ۱۴۸۳۳؛ مسند ابی یعلیٰ، رقم ۱۱۷۰۔
۲۔ایک روایت میں چارجانوروں کا ذکر بھی ہے(مسلم، رقم ۱۱۹۸) لیکن ہم نے پانچ والے متن کو کثرت روایت کی وجہ سے ترجیح دی ہے۔
۳۔جانوروں کے نام مختلف روایتوں سے لیے گئے ہیں، اس لیے کہ اس روایت میں کوے کا بھی ذکر ہے جو ہمارے خیال میں فاسق کے تحت صریحاً نہیں آتا ، جس طرح سانپ، بچھو، درندے اور شکرے وغیرہ آتے ہیں۔ اس لیے ان ناموں کو ہم نے ترجیح دی ہے جو دوسری روایتوں میں مذکور ہیں۔یہ نام درج ذیل روایتوں سے لیے گئے ہیں:سانپ، درندے، چوہے اور شکرے کے نام صحیح مسلم، رقم ۱۱۹۸، جبکہ بچھوکا نام صحیح مسلم، رقم ۱۱۹۹ سے لیا گیا ہے۔
’خمس من الدواب کلہن فاسق یقتلن فی الحل والحرم ‘ کی جگہ ’ خمس فواسق یقتلن‘ (مسلم، رقم ۱۱۹۸ کے تحت دوسری روایت، مسند ابی یعلیٰ، رقم ۴۵۰۳) (پانچ موذی جنھیں قتل کیا جاسکتا ہے) کے الفاظ آئے ہیں۔ اسی طرح مسلم، رقم ۱۱۹۸ کے تحت چھٹی روایت میں ہے کہ ’امر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بقتل خمس فواسق فی الحل والحرم‘ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام اور عام دنوں میں پانچ موذی جانوروں کو مارنے کا حکم دیا)۔اسی طرح مسلم، رقم ۱۱۹۹ میں ’خمس لا جناح علی من قتلہن فی الحل والاحرام‘ (عام حالات اور حالت احرام میں پانچ موذی جانوروں کو مارنے والے پر کوئی گناہ نہیں )کے الفاظ آئے ہیں۔اس سے ملتے جلتے مسلم، رقم ۱۱۹۹ کے تحت دوسری روایت کے الفاظ یہ بھی ہیں: ’خمس من الدواب لیس علی المحرم فی قتلہن جناح‘ (جانوروں میں سے پانچ ایسے ہیں جن کے مارنے سے محرم پرکوئی گناہ نہیں)۔ مسلم، رقم ۱۱۹۹کے تحت پانچویں روایت میں ہے: ’خمس لا جناح فی قتل ما قتل منہن فی الحرم‘ (پانچ جانور ایسے ہیں، جن میں سے کوئی مارا جائے تو حرم میں بھی اس کا گناہ نہیں ہے)۔مسلم، رقم ۱۱۹۹ ساتویں روایت میں ہے: ’خمس من قتلہن وہو حرام فلا جناح علیہ فیہن‘ (پانچ موذی، جس نے انھیں حالت احرام میں مارا تو ان کے معاملے میں اس پر کوئی گناہ نہیں ہے)۔ بخاری، رقم ۱۷۳۱ میں ہے: ’خمس من الدواب لا حرج علی من قتلہن‘ (پانچ موذی جن کے مارنے میں کوئی حرج نہیں ہے)۔ ابو داؤد، رقم ۱۸۴۷میں ’خمس قتلہن حلال فی الحرم‘ (پانچ موذی جن کو حرم میں مارنا حلال ہے)کے الفاظ آئے ہیں۔ ابو داؤد، رقم ۱۸۴۶ اورابن حبان، رقم ۹۳۶۱میں ہے: ’ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم سئل عما یقتل المحرم‘ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا محرم کون سے جانوروں کو مارسکتا ہے؟) سنن الکبریٰ، رقم ۳۸۱۳ ’ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اذن فی قتل خمس من الدواب‘۔ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ موذی جانوروں کے مارنے کی اجازت دی )۔
روایتوں میں جن جانوروں کے نام آئے ہیں ان کی تفصیل یوں ہے:
ہم نے متن میں ’الحدیا‘ کو اختیار کیا ہے۔ بہت سے طرق میں اس کی جگہ ’الحدأۃ‘ کا لفظ آیا ہے۔ دونوں ایک ہی پرندے کے نام ہیں۔ یہ نام ان حوالوں کے تحت دیکھا جا سکتا ہے:مسلم، رقم ۱۱۹۸، ۱۲۰۰۔ بخاری، رقم ۱۷۳۱، ۱۷۳۲۔ ابو داؤد، رقم۱۸۴۶۔ صحیح ابن حبان، رقم۳۹۶۱ وغیرہ۔
’الغراب الابقع‘:چتکبرا کوا۔ مسلم، رقم ۱۱۹۸ کے تحت دوسری روایت،بعض میں محض ’الغراب‘ مثلاً مسلم، رقم ۱۱۹۸ کے تحت تیسری روایت غیر مرفوع روایت میں ’الغراب العقعق‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ ایک کوے جیسارنگ دار پرندہ ہے (مصنف ابن ابی شیبہ ۱۴۸۳۴)۔ کوے کا ذکر ان مقامات میں بھی آیا ہے: مسلم، رقم ۱۱۹۸، ۱۱۹۹، ۱۲۰۰۔ بخاری، رقم۱۷۳۱، ۱۷۳۲، ۱۷۳۶، ۱۷۳۷۔ سنن ابی داؤد، رقم ۱۸۴۶۔ ابن حبان، رقم ۳۹۶۱، ۳۹۶۲، ۵۶۳۲، ۵۶۳۳۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم ۲۴۲۸، ۲۶۹۳، ۴۵۰۳، ۵۴۲۸، ۵۴۹۷، ۵۵۴۴۔ السنن الکبریٰ ۳۸۱۱ تا ۳۸۱۸ ۳۸۶۵، ۳۸۷۰تا ۳۸۷۴۔ مسند احمد، رقم ۲۳۳۰، ۴۴۶۱، ۴۵۴۳، ۴۷۳۷، ۴۸۵۱، ۴۸۷۶، ۴۹۳۷، ۵۰۹۱، ۵۱۲۳، ۵۱۶۰، ۵۳۲۴، ۵۴۷۶، ۵۵۴۱، ۲۴۰۹۸، ۲۴۶۱۳، ۲۴۷۰۵، ۲۴۹۵۵، ۲۵۳۴۹، ۲۵۳۵۰، ۲۵۷۱۹، ۲۵۹۸۸، ۲۶۱۷۵، ۲۶۲۶۶، ۲۶۲۷۳، ۲۶۲۸۷، ۲۶۹۰۰، ۲۶۴۸۲، ۲۷۱۷۸۔ سنن البیہقی الکبریٰ، رقم ۹۸۱۱تا ۹۸۱۸، ۱۹۱۴۴تا ۱۹۱۴۸۔ سنن ابن ماجہ، رقم ۳۰۸۷، ۳۰۸۸۔ دارمی، رقم ۱۸۱۶، ۱۸۱۷۔ ابن خزیمہ، رقم ۲۶۶۶۔
و اضح رہے کہ مسند احمد کی روایت ۱۱۰۰۳ کے الفاظ یوں ہیں: ’ویرمی الغراب ولا یقتلہ‘ (محرم کوے کو کنکر سے مار بھگائے، اسے جان سے نہ مارے)۔
’الاسد‘، ’الذئب‘ ، ’الزنبور‘: شیر، بھیڑیا اور بھڑکا نام، مثلاً مسند ابن یعلیٰ، رقم ۵۵۴۴ میں آیا ہے۔
’فویسقۃ‘ السنن الکبریٰ، رقم ۳۸۱۷ : چھوٹی چوہیا، اصل میں اس چوہیا کو کہتے ہیں کہ جو وقت سے پہلے بل سے نکل آئے۔ یہ اس کے شریر اور ہوشیار ہونے سے کنایہ ہے۔ بعض روایتوں میں اس کا یہ نام آنے کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صبح دیکھا کہ ایک چوہیا دیے کی بتی لے بھاگی تھی جس سے گھر میں آگ لگ سکتی تھی۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۱۴۸۳۳ وغیرہ)۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۱۴۸۳۳ میں اس کے لیے ’الفارۃ الفویسقۃ‘ (شریر چوہیا) کے الفاظ بھی آئے ہیں۔
’السبع العادی‘:خونی درندہ، یہ الفاظ مثلاً مسند احمد، رقم ۱۱۰۰۳ میں آئے ہیں۔
دارمی، رقم ۱۸۱۷میںیہ بھی لکھا ہے کہ بعض لوگ ’الکلب العقور‘ (چیر پھاڑ کرکھانے والا درندہ) کی جگہ ’الکلب الاسود‘ (کالا کتا) بتاتے ہیں۔ یہ ظاہر ہے محض توہم پرستی کا نتیجہ ہے۔ ان روایتوں میں فاسق کی جو علت بیان ہوئی ہے، اس کے تحت یہ نہیں آتا۔
’النمر‘:چیتا،یہ نام صحیح ابن خزیمہ، رقم ۲۶۶۶میںآیا ہے۔
مسند احمد، رقم ۱۱۷۷۲ میں ’الحیۃ‘ کے بجائے ’الأفعی‘ (بدطینت زہریلے سانپ) کا لفظ آیا ہے۔
بیہقی، رقم ۱۹۱۵۰ میں ’الوزغ‘ (چھپکلی )کا نام بھی آیا ہے۔عرب اسے بھی ’فویسقۃ‘ کہہ لیتے ہیں۔

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت ستمبر 2006
مصنف : ساجد حمید
Uploaded on : Oct 25, 2018
112 View