اخلاقی انحطاط - ابو یحییٰ

اخلاقی انحطاط

دنیا پرستی کے فتنہ نے ہمیں بدترین اخلاقی زوال سے دوچار کر دیا ہے۔ معاشرے کو مستحکم رکھنے والی ہماری اعلیٰ اقدار ماضی کا ایک قصہ بن کر رہ گئی ہیں۔ معاشرے میں اس وقت اگر کوئی قدر پوری قوت کے ساتھ زندہ ہے تو وہ صرف زرپرستی کی قدر ہے۔ دنیا پیسے سے ملتی ہے۔ چنانچہ لوگ پیسہ کمانے کو زندگی کا واحد مقصد قرار دے دیتے ہیں۔ اس دھن میں لوگ حلال و حرام، خیر و شر اور نیک و بد کے ہر امتیاز کو بھول جاتے ہیں۔
ہمارے ہاں اس معاملہ میں صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ مذہبی پابندیوں کا لحاظ تو دور کی بات ہے عام انسانی اخلاق، جن سے غیر مسلم بھی پہلو تہی نہیں کرتے، لوگوں کے لیے بے معنی ہو چکے ہیں۔ بازار میں دستیاب کسی شے کے متعلق ہم یہ بات اعتماد سے نہیں کہہ سکتے کہ یہ ملاوٹ سے پاک ہے۔ اس معاملے میں ہماری بے حسی اس درجہ میں پہنچ چکی ہے کہ غذا اور دوا جیسی اشیاء بھی، جن پر زندگی اور موت کا انحصار ہے اور دنیا کے کسی مہذب ملک میں ان چیزوں میں ملاوٹ کا تصور نہیں کیا جا سکتا، ہمارے ہاں خالص نہیں ملتیں۔ رشوت نے ہمارے ہر قانون کو عملاََ غیر موثر کر دیا ہے۔ جس معاشرے میں ہر ناجائز کام رشوت دے کر ممکن ہو اور رشوت کے بغیر کوئی جائز کام ممکن نہ ہو وہاں قانون اور ضابطے کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔
مسلمان کی تعریف یہ ہے کہ اس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں مگر ہمارے ہاں مال و دنیا کی خاطر کسی کی بھی جان، مال اور عزت و آبرو کو نقصان پہنچانا ایک بہت معمولی بات ہے۔ ہر ظلم، ہر خیانت اور ہر ناجائز کام جس سے پیسہ مل سکتا ہو ہم بلا جھجک اس کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اس صورتحال کا سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ یہ انحطاط کم ہونے کے بجائے روز بروز بڑھتا چلا جارہا ہے۔ یہ صورتحال اگر تبدیل نہ ہوئی تو اس کے بدترین نتائج پورے معاشرے کو بھگتنے پڑیں گے۔

________

بشکریہ: ریحان احمد یوسفی
مصنف : ابو یحییٰ
Uploaded on : May 25, 2016
870 View