مسلمان نوجوانوں کے فرائض - امین احسن اصلاحی

مسلمان نوجوانوں کے فرائض

 

[ایک تقریر جو ۱۹۶۷ء میں پنجاب یونیورسٹی کے شعبۂ اسلامیات میں اساتذہ، طلبہ اور طالبات کے سامنے کی گئی۔]

حضرات اساتذہ اور عزیز طلبہ و طالبات!
میں آپ کی اس ذرہ نوازی کے لیے شکرگزار ہوں کہ آپ نے اپنی اس علمی مجلس میں مجھے تقریر کی دعوت دی۔ میں نے آپ کے نمائندوں سے معذرت کر دی تھی کہ میں کوئی تقریر تو نہیں کروں گا، البتہ آپ کے تجویز کردہ عنوان پر کچھ متفرق باتیں طلبہ و طالبات کے سامنے عرض کر دوں گا۔ تقریر کا معاملہ یہ ہے کہ نوجوانی میں تو آدمی تقریر شوقیہ کرتا ہے، ادھیڑ پن میں فرائض اور ذمہ داریوں کے تحت یہ کام کرنا پڑتا ہے، لیکن بڑھاپے میں آکر یہ چیز بوجھ بن جاتی ہے۔ میرا حال یہ ہے کہ میں جوانی میں بھی اس ذمہ داری سے گھبراتا رہا ہوں۔ اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اب اس دور میں میرے لیے یہ کام کتنا مشکل بن گیا ہو گا۔
بہرحال آپ کا دل رکھنے کے لیے کچھ باتیں کہوں گا، آپ ان کو نصیحت کے طور پر سمجھیے۔ میں اگرچہ اپنے آپ کو نصیحت و موعظت کا اہل نہیں سمجھتا، لیکن آدمی کو بعض حقوق مجرد اس بنیاد پر حاصل ہو جاتے ہیں کہ اس کے بال سفید ہو چکے ہیں۔ مجھے بھی ’بزرگی بعقل است‘ والی بزرگی چاہے حاصل نہ ہوئی ہو، لیکن ’بزرگی بسال‘ والی بزرگی تو بہرحال حاصل ہے۔
نصیحت و حکمت کا معاملہ یہ ہے کہ اگر سننے والوں کے دل نصیحت پذیر ہوں تو اس بات سے کچھ زیادہ فرق پیدا نہیں ہوتا کہ خود نصیحت کرنے والا واعظ بے عمل ہے یا ناصح باعمل۔ سعدی کی وہ حکایت شاید آپ کو یاد ہو کہ ’ازلقمان پر سیدند کہ حکمت از کہ آموختی؟ گفت: از ناداناں!‘ لقمان سے پوچھا گیا کہ آپ نے حکمت کس سے سیکھی؟ انھوں نے جواب دیا کہ نادانوں سے۔ میں یہی توقع آپ سے رکھتا ہوں۔
نوجوانوں کے فرائض سے متعلق مجھے آپ کے سامنے کوئی نئی بات نہیں کہنی ہے۔ میں بھی وہی بات کہوں گا جو بہتوں کی زبانی آپ نے سنی ہو گی۔ بعض باتیں بڑی اہم اور بڑے نکتے کی ہوتی ہیں، لیکن وہ ہر مجلس میں باربار دہرائے جانے کے سبب سے بالکل پامال اور فرسودہ بن کر رہ جاتی ہیں۔ اس وجہ سے سننے والے ان کو کماحقہٗ اہمیت نہیں دیتے۔ یہ صورت حال بڑی افسوس ناک ہے۔ اس طرح ہماری زندگی کے بہت سے بنیادی حقائق نے اپنی اصلی معنویت بالکل کھو دی ہے۔ لیکن حضرات، حقیقت بہرحال حقیقت ہے، اس کو اس کی اصلی قدر و قیمت سے اس لیے محروم نہیں کیا جا سکتا کہ اس کو بہتوں نے بیان کیا ہے یا بہت سے بیان کرنے والوں نے محض رسماً بیان کیا ہے۔
میرے نزدیک انھی مظلوم حقیقتوں میں سے یہ حقیقت بھی ہے کہ ہر قوم کے مستقبل کا انحصار اس کے نوجوانوں پر ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ یہ دنیا کی عظیم سچائیوں میں سے ایک عظیم سچائی ہے۔ خواہ ہم اس کی قدر کریں یا نہ کریں۔ قومیں اپنے رقبوں، اپنی عمارتوں، اپنے باغوں اور چمنوں، اپنے دریاؤں اور پہاڑوں سے باقی نہیں رہتی ہیں، بلکہ اپنی آیندہ نسلوں اور اپنے نوجوانوں سے باقی رہتی ہیں۔ نوجوان اچھے ہوں تو قوم زندہ رہے گی۔ اگر اس کے پاس دریا اور پہاڑ نہ ہوں گے تو وہ اپنے لیے نئے دریا اور نئے پہاڑ پیدا کر لے گی۔ برعکس اس کے، نوجوان مردہ ہوں تو اشبیلیہ، غرناطہ اور قرطبہ کی عظمتیں تعمیر کرنے والے بھی صرف تاریخ کی ایک داستان عبرت بن کے رہ جاتے ہیں۔
یہی نکتہ ہے کہ دنیا کی ہر زندہ رہنے والی قوم نے سب سے زیادہ اہمیت اپنے نوجوانوں کی اصلاح و تربیت کو دی ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جن قوموں کو یہ بات عزیز ہوتی ہے کہ صفحۂ عالم میں ان کا مادی وجود بھی قائم رہے اور ان کی معنوی ہستی بھی کارفرما رہے، انھوں نے اپنے بام و در کی آرایش کے بجاے اپنے آگے آنے والے اخلاف کی تہذیب و تربیت کو سب سے زیادہ اہمیت دی ہے۔ میں تاریخ کا طالب علم نہیں ہوں، لیکن سپارٹا کے لوگوں سے لے کر آج تک قابل ذکر قوموں کے جو حالات سرسری طور پر معلوم ہوئے ہیں، ان کی بنا پر یہ بات پورے اعتماد کے ساتھ کہتا ہوں کہ رومی و یونانی ہوں یا انگریز و امریکن، دنیا کے نقشے پر کوئی پایدار نقش اسی قوم نے چھوڑا ہے جس نے اپنی آنے والی نسل کی فکر کی ہے۔ سپارٹا والوں کے متعلق میں نے کہیں پڑھا ہے کہ وہ اپنی عمارتوں میں کوئی تراشا ہوا پتھر لگانے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ ان کا تصور یہ تھا کہ عمارتوں میں تراشے ہوئے پتھر لگانا قوم کے اندر تن آسانی اور تعیش پسندی کے رجحان کی دلیل ہے۔ اسی طرح اپنی آیندہ نسلوں کی صحت مندی کے معاملے میں، میں نے سنا ہے کہ وہ اس قدر حساس تھے کہ اس کے لیے انھوں نے بعض ظالمانہ طریقے بھی اختیار کر لیے تھے، مثلاً یہ کہ وہ کمزور بچوں کو سرے سے زندہ ہی نہیں رہنے دیتے تھے۔
ہمارے ہاں، یعنی اسلام میں، اولاد کی اصلاح و تربیت کا جو اہتمام رہا ہے، اس کے لیے دوسری چیزوں سے قطع نظر کر کے اگر صرف قرآن ہی پر نظر ڈالیے تو اس کی اہمیت واضح کر دینے کے لیے وہ کافی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وصیت اپنی اولاد کو، حضرت اسحق و حضرت یعقوب علیہماالسلام کی وصیت و نصیحت اپنی ذریت کو، حضرت لقمان کی تلقین اپنے بیٹے کو۔ یہ ساری سرگذشتیں اسی لیے بیان ہوئی ہیں کہ ہم ان سے یہ سبق حاصل کریں کہ اچھے اسلاف کے نام اور کام اچھے اخلاف ہی سے باقی رہنے ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام کی سرگذشت پڑھیے تو دل تڑپ تڑپ جاتا ہے کہ ان کو اپنے بیٹے کی نااہلی کا کتنا غم تھا اور انھوں نے اصلاح و تربیت کے لیے کیا کیا زحمتیں اٹھائیں اور کس کس طرح اپنے رب کے آگے آہ و فغاں کی۔
حضرات، یہ چیز بالکل فطرت انسانی ہے۔ افراد ہوں یا قومیں ان کا مادی اور معنوی وجود ان کے اخلاف ہی کے واسطے سے باقی رہتا ہے اور اس بقا کی خواہش ایک امرفطری ہے۔ جس قوم کے اندر یہ خواہش مردہ ہو جاتی ہے یا اس کے لیے جو اہتمام مطلوب ہے، وہ اس کے اندر باقی نہیں رہتا تو وہ قوم دنیا کے نقشے سے مٹ جاتی ہے۔
اس وجہ سے مبارک ہے وہ قوم جس کے ذمہ دار اجتماعی بقا کے اس رمز سے آشنا ہیں اور وہ آنے والی نسل کو ان عظیم ذمہ داریوں کے لیے تیار کر رہے ہیں جو ان کے کندھوں پر آنے والی ہیں۔ لیکن عزیز طلبہ اور طالبات، میں یہاں اجتماعیات کے ایک اور رمز سے بھی آپ کو آگاہ کر دینا ضروری سمجھتا ہوں، وہ یہ کہ مستقبل کی ذمہ داریاں بہرحال آپ کے کندھوں پر آنے والی ہیں اور مستقبل آپ کو اپنے باٹ اور اپنی ترازو سے تولے گا۔ وہ اس معاملے میں کسی رو رعایت اور کسی عذر و معذرت کے قبول کرنے کا روادار نہ ہو گا۔ اگر آپ اپنی ذمہ داریوں کے لیے نااہل ثابت ہوں گے تو وہ اس بنا پر آپ کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کرے گا کہ آپ کے پچھلوں نے آپ کے معاملے میں اپنی ذمہ داریاں کما حقہٗ ادا نہیں کیں۔ انھوں نے ادا کیں یا نہیں کیں؟ یہ سوال خارج از بحث ہو جائے گا۔ کسوٹی پر آپ ہوں گے نہ کہ ہم! فیصلہ آپ کی اہلیت و نااہلیت کا ہو گا نہ کہ ہماری! جواب دہ آپ ہوں گے نہ کہ آج کے لوگ! اگر آپ نااہل ثابت ہوں گے تو زمانہ آپ کے خلاف بے لاگ فیصلہ سنا دے گا اور دنیا کے نقشے سے آپ کا وجود مٹ جائے گا:

تِلْکَ اُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْ لَّھَا مَا کَسَبَتْ وَلَکُمْ مَا کَسَبْتُمْ.(البقرہ ۲: ۱۳۴)

اگر آپ یہ محسوس بھی کرتے ہیں کہ آج آپ کے ذمہ دار آپ کے حق کو صحیح طور پر نہیں ادا کر رہے ہیں جب بھی آپ اپنے فرض کو پہچاننے کی کوشش کریں اور مستقبل میں اپنے بل بوتے پر اپنی بازی جیتنے کی تیاریاں کریں۔ لائق اولاد باپ کی کمزوریوں کو اپنی کمزوریوں کے لیے عذر نہیں بناتی، بلکہ اپنی محنت و قابلیت سے اپنا نام بھی روشن کرتی ہے اور باپ کا نام بھی۔
عزیز طلبہ و طالبات، اگر آپ میرا نقطۂ نظر اچھی طرح سمجھ گئے ہیں تو اب میں آگے بڑھتا ہوں اور یہ عرض کرتا ہوں کہ قوم کی خلافت و وراثت سنبھالنے کے لیے آپ کا مقدم فرض یہ ہے کہ آپ اپنے آپ کو ہر اعتبار سے صحت مند اور تندرست نسل بنانے کی کوشش کریں۔ ہر اعتبار سے صحت مند اور تندرست بنانے کا مطلب یہ ہے کہ جسمانی، عقلی اور ایمانی و اخلاقی تینوں ہی اعتبارات سے! جب تک ان تینوں ہی اعتبارات سے ہمارے نوجوان تندرست نہ ہوں، اس وقت تک نوجوانوں کے اندر فتوت پیدا نہیں ہو سکتی اور جب تک ان کے اندر فتوت نہ پیدا ہو، اس وقت تک وہ اس ملت کی خلافت و وراثت کے حامل ہونے کے اہل نہیں ہو سکتے جس کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی قوموں کی امامت کے منصب پر مامور فرمایا ہے۔ اب میں بالاختصار صحت کے ان تینوں پہلوؤں پر کچھ باتیں آپ کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں:

صحت جسمانی

جسمانی صحت کی اہمیت میرے نزدیک اس پہلو سے نہیں ہے کہ آپ کوئی بین الاقوامی شہرت حاصل کرنے والے پہلوان یا گھونسہ باز بن جائیں۔ میں سانڈ اور کٹے کی صحت پر گفتگو نہیں کر رہا ہوں، بلکہ انسان کی صحت پر گفتگو کر رہا ہوں۔ انسان کے لیے صحت جسمانی کی اہمیت اس پہلو سے ہے کہ یہ چیز عقلی اور اخلاقی صحت کے لیے بمنزلہ بنیاد ہے۔ عقل کے نشوونما اور اعلیٰ ایمانی اور اخلاقی تقاضے پورے کرنے کے لیے جسمانی صحت بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ کمزور، مریض اور ناتواں جسم کے اندر عقل بھی مریض و ناتواں ہوتی ہے اور ضعیف الاعضا اور ضعیف القویٰ لوگ ایمانی و اخلاقی تقاضے بھی پورے کرنے میں ضعیف ہوتے ہیں۔ اگرچہ یہ لازم نہیں کہ جس کا جسم تندرست ہو، اس کی عقل اور اس کا اخلاق بھی تندرست ہو۔ بہت سے لوگ جسماً بڑے تندرست ہوتے ہیں، لیکن عقلی اور اخلاقی اعتبار سے بالکل احمق اور سفلہ ہوتے ہیں۔ تاہم یہ بات اپنی جگہ پر ایک حقیقت ہے کہ عقلی و اخلاقی تندرستی کے لیے جسمانی تندرستی بھی ضروری ہے۔
میں کوئی طبیب یا ڈاکٹر نہیں ہوں۔ اور نہ میرے پیش نظر اس وقت صحت کے لوازم و شرائط پر کوئی خطبہ دینا ہے۔ میں ایک عام آدمی کی حیثیت سے جانتا ہوں کہ جسمانی صحت کے لیے چند چیزیں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ ان کا اہتمام حتی الامکان ہر شخص کے لیے ضروری ہے:
۱۔ سادہ اور ستھری غذا۔
۲۔ تازہ اور صاف ہوا۔
۳۔ محنت اور ورزش۔
۴۔ ضبط نفس۔
جہاں تک سادہ اور ستھری غذا کا تعلق ہے، اس کا اہتمام اگر آپ کے لیے بہت آسان نہیں تو زیادہ مشکل بھی نہیں ہے، بشرطیکہ آپ غذائیات کے متعلق کچھ علم اور تجربہ حاصل کر لیں اور اس کے لیے کچھ زحمت اٹھانے اور کچھ اہتمام رکھنے کی اپنے اندر عادت پیدا کر لیں۔ آپ اس بات سے واقف ہوں گے کہ صحت کے لیے نہ بہت قیمتی غذا کی ضرورت ہے، نہ اس کے لیے تنوعات اور چٹخاروں کی احتیاج ہے۔ اگر آپ غیرضروری اور مضر صحت چیزوں کا استعمال ترک کر دیں اور چٹخاروں کے درپے نہ ہوں تو آپ میں سے ہر شخص اگر نہیں تو اکثر لوگ بہ آسانی اپنے لیے صاف ستھری غذا کا اہتمام کر سکتے ہیں اور اگر آپ سادہ غذا اور سادہ لباس کو جماعتی حیثیت سے اختیار کرنے کا اپنے اندر ولولہ پیدا کریں تو آپ اس کو فیشن کی حیثیت بھی دے سکتے ہیں اور اس سے ہر شخص کی مشکل آسان ہو سکتی ہے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ ہم کھانا تو مغلوں کے دور زوال کا پسند کرتے ہیں اور لباس انگریزوں اور فرانسیسیوں کے دور زوال کا! ہماری یہ زوال پسندی ہمارے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔ آپ لوگوں نے تو تاریخ پڑھی ہے۔ آپ کو معلوم ہو گا کہ مغلوں نے ایوان نعمت کے یہ دستر خوان جس وقت بچھائے ہیں، یہ تاریخ کا وہ منحوس دور ہے جب انھیں دلی کا لال قلعہ انگریزوں کے لیے خالی کر دینا پڑا۔ اس دستر خوان کے ساتھ ان کی حکومت کی بساط بھی الٹ گئی۔ جس دور میں انھوں نے یہ تمام ممالک فتح کیے ہیں، اس دور میں وہ ان لذات سے ناآشنا تھے۔ اس زمانے میں تو ان کے نوجوانوں کا یہ حال تھا کہ وہ خشک گوشت کے ٹکڑے اپنے گھوڑے کی زین کے نیچے رکھ لیتے۔ جب وہ گھوڑے کے پسینے سے کچھ نرم ہو جاتے تو جہاں بھوک لگتی، اس کو چاب لیتے۔ اس غذا نے ان کے اندر یہ طاقت پیدا کی کہ جدھر کا انھوں نے رخ کیا، ادھر کی دنیا الٹ دی۔ کم و بیش یہی حال انگریزوں کا بھی رہا ہے۔ جس دور میں انھوں نے تمام دنیا کو زیرنگیں کیا ہے، ان کے نوجوانوں کی سخت جانی و سخت کوشی مثالی رہی ہے۔ یہ دور تو ان کے زوال کا دور ہے اور یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم اس کو ان کی ترقی کا دور سمجھتے ہیں۔
صاف ستھری ہوا کے لیے آپ صبح خیزی کی عادت پیدا کیجیے۔ صبح خیزی کی عادت ہمیشہ سے بیدار بخت لوگوں کی عادت رہی ہے۔ آپ کو علامہ اقبال کا وہ شعر یاد ہو گا جس میں انھوں نے فرمایا ہے کہ جس سحر سے شبستان وجود لرزتا ہے وہ طلوع آفتاب سے نہیں پیدا ہوتی، بلکہ مومن کی اذان سے پیدا ہوتی ہے! اس اذان سے دنیا کو آپ ہی نے آشنا کیا، لیکن اب آپ خود اس کی لذتوں سے ناآشنا ہو گئے۔ سویرے اٹھیے، دوسروں کو خواب غفلت سے جگائیے۔ خالق کائنات کی بندگی کیجیے۔ اور پھر کھلے میدانوں اور چمنستانوں میں، جن کی آپ کے اس شہر میں کمی نہیں ہے، سیر کیجیے اور تازہ ہوا کا لطف اٹھائیے۔
ورزش اور محنت کا مقصود اپنے آپ کو سخت کوش اور سخت جان بنانا ہے تاکہ آپ چاق و چوبند رہیں، سردی اور گرمی کو برداشت کر سکیں، بھوک اور پیاس کا مقابلہ کر سکیں اور وقت پڑنے پر سخت سے سخت مشقت جھیل سکیں۔ بہترین ورزش وہ ہے جو آدمی کو میدان جنگ کی سختیوں کے لیے تیار کرے۔ ہمارے اسلاف میں اسی قسم کی ورزش کا ذوق و شوق تھا۔ آپ بھی اپنے اندر اس کا شوق پیدا کیجیے۔ نزاکت عورتوں کے لیے حسن ہے، لیکن نوجوانوں کے لیے اس سے بڑا کوئی عیب نہیں۔
ضبط نفس، صحت کے نہایت اہم لوازم میں سے ہے۔ جب تک آپ اپنی خواہشات، اپنے جذبات اور اپنی شہوات پر کنٹرول کرنا نہیں سیکھیں گے، اس وقت تک ان تمام تدبیروں کے باوجود بھی، جن کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے، آپ حقیقی صحت نہیں حاصل کر سکیں گے۔ اس زمانے میں ایسے نوجوان بہت کم نظر آتے ہیں جن کے چہروں پر فتوت کا جمال نظر آتا ہو۔ معاف کیجیے گا میں آپ پر کوئی طعن نہیں کر رہا ہوں۔ میرا مطلب یہ ہے کہ اس زمانے میں نوجوانوں کو دیکھیے تو عام طور پر چہرے کملائے ہوئے اور آنکھیں دھنسی ہوئی، رنگ اڑے ہوئے، گال پچکے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس کا سبب صرف یہ نہیں ہے کہ اس زمانے میں غذا خالص نہیں مل رہی ہے، بلکہ اس میں بڑا دخل ہے نگاہ کی آوارگی، دل کی ہرزہ گری اور جذبات و خواہشات کی بے راہ روی کو اور یہ چیزیں وہ ہیں جو نہ صرف غارت گرِ اخلاق و دین و ایمان ہیں، بلکہ غارت گرِ حسن و صحت بھی ہیں۔ آپ اگر اپنے جذبات و خواہشات کو ضبط میں رکھنا سیکھ جائیں تو آپ دیکھیں گے کہ نان جویں کھا کر بھی آپ کے چہروں پر اس جمال فتوت کا عکس نظرآئے گا جو علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر تھا۔
حضرات، میں جس جمال کا ذکر کر رہا ہوں، اس کا تعلق جسم کی جلد اور اس کے رنگ و روغن سے نہیں ہے، بلکہ اس کا منبع باطن کی صحت ہے۔ جس کے باطن میں صحت ہوتی ہے، وہ ضابط نفس ہوتا ہے۔ قرآن میں اس کے لیے ’حصور‘ کا لفظ آیا ہے۔ اس صفت کے مدارج و مراتب ہیں، لیکن باطن میں یہ نور اسی صفت سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ نور حضرت مریم علیہا السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کی وراثت ہے۔ جس کے اندر اس نور کی کوئی جھلک ہو گی، اس کی چمک اس کی پیشانی کے افق پر نظر آئے گی اور خوش قسمت ہے وہ نوجوان جو اس جمال یوسفی میں سے کوئی حصہ پائے۔ جن پیشانیوں پر اس جمال کی کوئی کرن ہوتی ہے، اگر ان کا رنگ کالا بھی ہو تو وہ رشک آفتاب و ماہتاب ہوتی ہیں۔
حضرات، اصلی روحانی طاقت کا خزانہ بھی اسی ضبط نفس کے اندر ہے۔ جو اپنے نفس سے شکست کھا جاتا ہے، وہ ہر ایک سے مار کھا جاتا ہے۔ برعکس اس کے جو اپنے نفس پر فتح پا جاتا ہے، وہ ہر میدان میں شیطان کو زیر رکھتا ہے۔ ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تم میں پہلوان وہ نہیں ہے جو دوسروں کو پچھاڑ لے، بلکہ اصلی پہلوان وہ ہے جو اپنے نفس کو پچھاڑ لے۔

صحت عقلی

حضرات، عقلی صحت کے لیے یہ ضروری ہے کہ آپ ماضی و حاضر کے عقلی و فکری اندوختوں سے فائدہ اٹھائیں اور پھر اپنی عقل کو کام میں لا کر اس اندوختہ میں اگر کچھ اضافہ کر سکیں تو اضافہ کریں۔ انسانیت کا اصل خزانہ درحقیقت یہی عقلی و فکری خزانے ہیں۔ اسی کے تحفظ، بقا اور ترقی کے لیے یہ کالج، یونیورسٹیاں، لائبریریاں اور لیبارٹریاں قائم ہیں اور آپ درحقیقت اسی لیے اس جامعہ میں جمع ہوئے ہیں کہ آپ اپنی عقل کو درست کریں۔
عقل انسان کے اندر خدا کا بخشا ہوا نور ہے۔ یہی چیز انسان کو حیوان سے ممیز کرتی ہے۔ دنیا میں ساری بہار اسی کی لائی ہوئی ہے۔ انسانیت کے گل سرسبد وہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنی عقلوں کو استعمال کیا، اس لیے کہ آج انسانیت کے اندوختہ میں جو کچھ بھی ہے، انھی کا عطیہ ہے۔
ان دانش وروں اور عاقلوں کی کوشش سے ہمارے علوم میں اب اتنا اضافہ ہو گیا ہے کہ کسی ایک انسان کے بس میں یہ نہیں ہے کہ ان سب کا احاطہ کر سکے۔ اگر آپ اپنی تمام توانائیاں صرف کر دیں تو زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتے ہیں کہ کسی ایک فن میں آپ کمال حاصل کر لیں۔ میرے نزدیک آج علم میں ادنیٰ درجہ یہی ہے کہ آپ کسی ایک فن میں کمال حاصل کر لیں اور اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ آپ اس فن میں درجۂ کمال سے آگے بڑھ کر درجۂ اجتہاد حاصل کر لیں تاکہ آپ اس فن پر کچھ اضافہ کر کے اپنے بعد والوں کے لیے کوئی علمی وراثت چھوڑ سکیں۔ دنیا ہر لمحہ ترقی کی طرف جا رہی ہے۔ اس کی ہم قدمی کے لیے ضروری ہے کہ ہمارے نوجوان اس علمی و عقلی جدوجہد میں کسی سے پیچھے نہ رہیں، ورنہ انھیں ہر میدان میں پیچھے رہنا پڑے گا۔
اگر آپ میری اس بات کی اہمیت اچھی طرح سمجھ گئے ہیں تو لازم ہے کہ آپ دو باتوں کا اہتمام کریں:
ایک اس بات کا کہ آپ اپنے اوقات کا لمحہ لمحہ اعلیٰ قدر و قیمت رکھنے والی علمی و فنی چیزوں کے مطالعہ پر صرف کریں۔ ادنیٰ درجے کی چیزوں پر اپنا وقت ضائع کرنا اپنے اوپر حرام قرار دے لیں۔ تیسرے درجہ کی چیزیں تو درکنار، دوسرے درجے کی چیزیں بھی آپ کے لیے اضاعت وقت کے حکم میں داخل ہیں۔ اس زمانے کے نوجوانوں کو جب میں سرسری، سطحی، عامیانہ اور مزخرف چیزیں پڑھتے دیکھتا ہوں تو مجھے بڑی حیرت ہوتی ہے۔ ناقص اور بے مغز چیزیں پڑھنا فاسد اور مسموم غذا سے زیادہ انسان کے لیے مہلک ہے۔ اس زمانے میں پریس کی سہولت نے جس طرح علوم کے انبار لگا دیے ہیں، اسی طرح خرافات کے بھی انبار لگا دیے ہیں اور بدقسمتی سے ہمارے نوجوان اسی دوسری قسم کے انبار سے زیادہ رغبت رکھتے ہیں۔ اس پر مزید ستم یہ ہے کہ اس زمانے میں وہ لٹریچر بھی بہت بڑی مقدار میں شائع ہو رہا ہے جو مولانا حالی رحمہ اللہ کے الفاظ میں ’عفونت کے لحاظ سے سنڈاس سے بھی بدتر ہے‘۔ اس قسم کی چیزیں کسی قوم کے نوجوان اس زمانے میں پڑھتے ہیں جب اس قوم کی موت کاوقت قریب ہوتا ہے۔ آپ اپنی قوم کے لیے موت کے بجاے زندگی کے پیام بر بنیں۔ اس معاملے میں آپ یورپ اور امریکا کی قوموں کی ریس نہ کریں۔ قومی عروج و زوال کے فلسفہ کی رو سے اب ان قوموں کا دم واپسیں ہے۔
دوسری اس بات کا اہتمام آپ کے لیے ضروری ہے کہ اس فکری و عقلی تربیت کے دور میں آپ اپنے دائرہ کے باہر کے سیاسی معاملات و مسائل میں عملاً کوئی حصہ نہ لیں۔ اس دور میں آپ ان میں عملاً کوئی حصہ لینے کے بجاے ان میں حصہ لینے کی اپنے اندر پختہ قابلیت پیدا کریں۔ کل ساری ذمہ داریاں آپ کے سر پر آنے والی ہیں۔ آپ ہی یونیورسٹیوں اور کالجوں کو سنبھالیں گے۔ آپ ہی اخباروں کے ذمہ دار ہوں گے۔ آپ ہی عدالتوں اور کچہریوں میں ہوں گے۔ آپ ہی قوم کے لیڈر، اسمبلیوں کے ممبر، صوبوں کے گورنر، ملک کے وزیر، ملک کے صدر اور باہر کے ملکوں میں ملک کے نمایندہ اور سفیر ہوں گے۔ اونچی سے اونچی کرسی پر آپ ہی بیٹھیں گے اور ملک و قوم کی باگ آپ کے ہاتھ میں ہو گی۔ ان ذمہ داریوں کے لیے آپ اپنے آپ کو تیار کریں۔ یہ تیاری کوئی آسان کام نہیں ہے کہ آج آپ کو پرائے جھگڑوں میں ٹانگ اڑانے کا موقع مل سکے۔ آپ کو کوئی غلط فہمی نہ ہو۔ میرا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ سیاست میں کوئی حصہ ہی نہ لیں۔ ضرور حصہ لیں، لیکن یہ حصہ لینا فکری و نظری نوعیت کا ہو۔ آپ اپنے ملک کے معاملات و مسائل کو اچھی طرح سمجھیں۔ ان کے حل سوچیں اور ان کے لیے اپنے کو تیار کریں، لیکن ان میں عملی مداخلت نہ کریں۔ خام کاروں کی مداخلت معاملات کو سنوارتی نہیں بلکہ بگاڑتی ہے۔ مولانا محمد علی جوہر رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مرتبہ فرمایا تھا کہ ’بعض لوگ پکنے سے پہلے سڑ جایا کرتے ہیں۔‘ غالباً ان کا اشارہ ایسے ہی لوگوں کی طرف رہا ہو گا جو قبل ازوقت اپنے آپ کو رموز مملکت کا ماہر سمجھنے لگتے ہیں اور قوم کے معاملات کو حل کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ پکنے سے پہلے سڑنے کی کوشش نہیں کریں گے۔

ایمانی و اخلاقی صحت

عزیز طلبہ و طالبات، اب میں چند باتیں ایمانی و اخلاقی صحت سے متعلق عرض کروں گا۔
سب سے پہلے اس بات کو یاد رکھیے کہ ایمانی و اخلاقی صحت عقلی صحت سے کوئی علیحدہ شے نہیں ہے، بلکہ یہ اسی کا تکملہ اور تتمہ ہے۔ جس طرح عقل، انسانیت کا نور ہے، اسی طرح ایمان عقل کا نور ہے۔ جس طرح انسان کو حیوان سے ممیز کرنے کے لیے خدا نے عقل عطا فرمائی ہے، اسی طرح عقل کو جلا دینے کے لیے خدا نے ایمان کی روشنی عطا فرمائی ہے۔ عقل بڑی نعمت ہے، لیکن اس میں یہ نقص بھی ہے کہ وہ بسا اوقات اسی دنیا کی فانی اور محدود لذتوں اور کاوشوں میں گھر کے رہ جاتی ہے جس کے سبب سے وہ ان حقائق کو نہیں دیکھ پاتی جن پر انسانی زندگی کی ابدیت کی بنیادیں ہیں۔ یہ کوتاہی ایک بڑی خطرناک کوتاہی ہے۔ اس کے سبب سے انسان کا زاویۂ نگاہ بہت تنگ، اس کے حوصلے بہت پست، اس کی چاہتیں بالکل مادی اور سفلی اورا س کی اخلاقی اقدار بالکل خود غرضانہ اور مفاد پرستانہ ہو کے رہ جاتی ہیں۔
عقل انسانی کو اس دلدل سے نکالنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے وحی کا نور بھیجا ہے جو دنیا کو حضرات انبیا علیہم السلام کے ذریعہ سے ملا ہے۔ یہ نور عقل انسانی کی رہنمائی ابدیت کی منزلوں کی طرف کرتا ہے اور اس کو اس معراج پر پہنچاتا ہے جہاں فرش اور عرش، دونوں کے ڈانڈے مل جاتے ہیں۔ یہاں انسان اپنی حقیقی قدر و قیمت سے آشنا ہوتا ہے۔ اس پر یہ راز کھلتا ہے کہ وہ ایک ابدی وجود رکھتا ہے۔ اس کو یہاں مرنے کے بعد پھر جینا بھی ہے۔ اس کے اقوال، اعمال اور عقائد، سب ایک ابدی قدر و قیمت رکھتے ہیں، اس وجہ سے اسے ان کو اسی دنیا کے نفع و ضرر کے محدود پیمانوں سے نہیں ناپنا تولنا چاہیے، بلکہ مرنے کے بعد کی زندگی کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔ اسے اسی حیات چند روزہ کے لیے نہیں جمع کرنا چاہیے، بلکہ اصلی فکر اس حیات ابدی کے لیے ہونی چاہیے جو شروع ہو کر کبھی ختم ہونے والی نہیں ہے۔
حضرات، اس وحی الٰہی کا آخری اور کامل صحیفہ قرآن مجید ہے جس کا نازل کرنے والا اللہ تعالیٰ اور جس کو لانے والے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اس وجہ سے آپ کو اپنی روحانی و ایمانی صحت کے لیے اللہ تعالیٰ کی اس کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔ ان سے روشنی حاصل کیے بغیر نہ آپ کی عقل اس عالم فانی کی تنگ ناے سے باہر نکل سکتی، نہ آپ کے اخلاق و کردار میں آفاقیت و ابدیت پیدا ہو سکتی ہے۔ آپ کو یاد رکھنا چاہیے کہ آپ صرف دنیا کی قوموں میں سے ایک قوم نہیں ہیں جس کو جغرافیہ کی حد بندیوں نے پیدا کیا ہو، بلکہ آپ خلافت الٰہی کے وارث، خیر امت اور زمین میں خدا کے قانون عدل و قسط کے علم بردار اور گواہ ہیں۔ آپ قوموں کے مقلد یا ان کے حریف نہیں، بلکہ اپنے منصب کے لحاظ سے ان کے ہادی و مرشد ہیں۔ آپ کو صرف اپنے ہی لیے نہیں جینا ہے، بلکہ اس پوری خدائی کے لیے جینا ہے۔ آپ کی دنیا اسی عالم آب و گل تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کے ساتھ ایک ناپیدا کنار عالم آخرت کا عالم بھی جڑا ہوا ہے۔ اس وجہ سے وہ محدود نگاہ جو ابھی تک چاند و مریخ تک بھی نہ پہنچ سکی، آپ کے لیے کافی نہیں ہے، بلکہ آپ نے دنیا کو عرش کا بھی سراغ دینا ہے۔ اسی طرح وہ کردار جو نسلی و قومی تعصبات کے خمیر سے پیدا ہوتا ہے، وہ آپ کے شایان شان نہیں ہے، بلکہ وہ کردار آپ کا حصہ ہے جس پر صفات الٰہی کا عکس اور نور محمدی کا جمال ہو۔
اسی کتاب و سنت کے تعلق اور فیض سے ہمارے نوجوانوں کے اندر وہ فتوت پیدا ہو گی جو علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے اندر تھی۔ ہم مسلمانوں میں بوڑھوں کے لیے نمونہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہیں جن کو ’ذوشیبۃ المسلمین‘ (مسلمانوں کے بڑے بوڑھے) کہا جاتا تھا۔ ادھیڑوں کے لیے مثال فاروق اعظم اور عثمان غنی رضی اللہ عنہم ہیں۔ دونوں غازی، دونوں فاتح، دونوں شہید اور دونوں خدا کی زمین میں خدا کے قانون عدل و قسط اور حکومت الٰہیہ کے مظہر! اسی طرح نوجوانوں کے لیے مثال اور نمونہ علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ ہیں! جن کی بابت آپ نے سنا ہو گا کہ ’لافتٰی إلَّا علی لا سیف إلَّا ذوالفقار‘۔ اور ہاں، عزیز طالبات، آپ بھی سن لیں کہ آپ کے لیے مثال عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ جن کے علم و عقل کا یہ عالم تھا کہ ان کی روایات اور ان کے اجتہادات پر ہماری فقہ کی بنیادیں استوار ہوئیں اور جن کے زہد و تقویٰ اور طہارت کی شہادت قرآن مجید نے دی۔
عزیز نوجوانو، آپ اپنے اندر یہ فتوت پیدا کیجیے۔ یہ فتوت صرف جسمانی بلوغ، خون کے ہیجان، رگ پٹھوں کی قوت اور مرغن غذاؤں سے نہیں پیدا ہوتی، بلکہ ضبط نفس، عقلی صحت اور ایمانی و اخلاقی تندرستی سے پیدا ہوتی ہے۔
ہماری قوم کو آج سب سے زیادہ ضرورت اسی چیز کی ہے۔ ہم آج اپنے ملک میں جن چیزوں کی کمی سے دوچار ہیں، یہ ساری کمیاں پوری ہو جائیں گی، لیکن جو اخلاقی زوال ہمارے ہر طبقے میں عموماً اور نوجوانوں کے طبقے میں خصوصاً نمایاں ہو رہا ہے۔ یہ وہ مرض ہے جو اگر جڑ پکڑ گیا تو اس کا علاج ناممکن ہو گا۔ ہمارا حاضر جیسا کچھ بھی ہے، لیکن مستقبل کا انحصار تمام تر آپ کی صلاحیتوں پر ہے۔ میری دعا ہے کہ میری یہ معروضات آپ کے دل میں گھر کریں۔ آپ اپنے فرض کو پہچانیں اور آپ کے روز و شب، آپ کے اشغال و معمولات اور آپ کے ظاہر و باطن میں وہ تبدیلی نمایاں ہو جو آپ کے دعا گووں اور آپ سے امیدیں باندھنے والوں کو ایک روشن مستقبل کی بشارت دے۔
(ماہنامہ میثاق لاہور ۔ اپریل ۱۹۶۷ء، بہ حوالہ مقالات اصلاحی ۲/ ۳۶۵)

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت اپریل 2016
مصنف : امین احسن اصلاحی
Uploaded on : Mar 29, 2018
359 View