نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تشریعی مقام - عمار خان ناصر

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تشریعی مقام

(نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریعی حیثیت کے انکار کے حوالے سے ایک سوال کا جواب)

جو حضرات قرآن مجید کے ابلاغ وتبلیغ سے ہٹ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریعی مقام کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں،میرے خیال میں ان کی غلطی حسب ذیل نکات کی روشنی میں واضح کرنے کی کوشش کرنی چاہیے: ۱۔ ایک مسلمان اصلاً واساساً اور براہ راست قرآن پر ایمان نہیں لاتا، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لاتا ہے۔ کیونکہ قرآن کو خدا کا کلام ماننے سے پہلے اس کو پیش کرنے والی ہستی کو اللہ کا پیغمبر ماننا ضروری ہے۔ پیغمبر کے واسطے کے بغیر خدا کے کلام تک رسائی یا اس پر ایمان کی کوئی صورت ممکن نہیں۔ ۲۔ کسی انسان کو پیغمبر ماننے کا مطلب ہی یہ ہے کہ وہ خدا کی طرف سے اس کا دین لوگوں تک پہنچانے پر مامور ہے اور وہ جو چیز بھی اس اعلان کے ساتھ لوگوں کو دے گا کہ یہ خدا کا دین ہے، اسے ماننا لازم ہوگا۔ چنانچہ وہ خدا کے نازل کردہ کلام کے طور پر کوئی چیز پیش کرے یا اس کے علاوہ کوئی حکم یا ہدایت یہ کہہ کر لوگوں کو دے کہ یہ خدا کا دین ہے، ہر صورت میں اس کے پیش کردہ دین کو ماننا اور اس کی اطاعت کرنا واجب ہے۔ فرض کریں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی رسالت کا اعلان کرنے کے بعد کلام الٰہی کے طو رپر قرآن کو سرے سے پیش ہی نہ کرتے اور اس کے بجائے محض یہ فرماتے کہ میں خدا کا رسول ہوں اور اس حیثیت سے تمھیں فلاں بات کا حکم دیتا اور فلاں بات سے روکتا ہوں تو بھی اس کی اطاعت بدیہی طور پر لازم ہوتی، کیونکہ اس کے بغیر آپ کو ”رسول“ ماننے کا کوئی مطلب ہی نہیں بنتا۔ دوسرے لفظوںمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مستقلاً اور مطلقاً واجب الاطاعت ہونا قرآن پر ایمان لانے سے مقدم ہے، وہ اس پر موقوف نہیں کہ اس کے حق میں قرآن سے دلیل پیش کی جائے۔ یہ بات کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مستقلاً مطاع ہیں، قرآن سے بھی ثابت ہے، لیکن اس پر موقوف نہیں۔ فرض کر لیں کہ پورے قرآن میں کہیں یہ بات مذکور نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت مطلقاً فرض ہے، تب بھی صورت حال میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا، کیونکہ یہ چیز قرآن پر ایمان سے پہلے آپ کو ”رسول“ مان کر الگ سے تسلیم کی جا چکی ہے۔ قرآن، رسول کے مقام ومنصب کی تعیین کے لیے ماخذ نہیں۔ وہ تو خود کلام الٰہی کی حیثیت سے اپنا استناد تسلیم کرانے میں اس کا محتاج ہے کہ اسے رسول کی تائید وتصدیق حاصل ہو۔ البتہ اگر قرآن نے کسی مقام پر رسول کی ذمہ داری اور منصب اور اس کے دائرہ کار کی کوئی ایسی تحدید بیان کی ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پیغمبر اللہ کا کلام لوگوں تک پہنچانے کے علاوہ کوئی اختیار نہیں رکھتا تو یقینا وہ زیر بحث آنی چاہیے۔ ہمارے فہم کے مطابق قرآن میں کوئی ایسی تحدید بیان نہیں ہوئی۔ اگر کسی آیت یا بعض آیات سے کسی کو شبہ ہوا ہے تو ان مقامات کو سیاق وسباق کی روشنی میں الگ الگ زیر بحث لانا چاہیے۔ ۳۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح امت کو قرآن دیا ہے، اسی طرح قرآن کے علاوہ بھی بہت سے احکام اور ہدایات بطور دین دی ہیں اور ان کی پابندی امت پر لازم ٹھہرائی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دین کی اس دوسری صورت کی نسبت اسی طرح یقینی ہے جس طرح قرآن کی نسبت یقینی ہے۔ امت جس طرح اپنے دور اول سے آج تک قرآن کو اس حیثیت سے مانتی آئی ہے کہ یہ اللہ کا وہ کلام ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دیا ہے، اسی طرح قرآن سے الگ دین کے ایک مفصل عملی ڈھانچے اور اس کی تعبیر وتشریح کے ضمن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو بھی اسی حیثیت سے اور اسی یقین کے ساتھ مانتی چلی آ رہی ہے کہ اللہ کے رسول نے یہ چیزیں بھی دین ہی کی حیثیت سے امت کو دی ہیں۔ بعض جزوی امور کی نسبت آپ کی طرف درست ہونے یا نہ ہونے میں یقینا اہل علم کے مابین اختلاف ہوتا رہا ہے، لیکن اصولی طور پر قرآن سے باہر بھی دین کا پایا جانا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس کی نسبت کو یقینی سمجھنا امت کے اہل علم کے ہاں ہمیشہ متفق علیہ اور اجماعی رہا ہے۔ اس لحاظ سے قرآن کے اندر اور قرآن سے باہر پائے جانے والے ”دین“ کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثبوت یکساں درجے کا ہے۔ اگر قرآن سے باہر پائے جانے والے دین کی نسبت اور ثبوت میں امت کا اجماع اور تعامل قابل اعتبار نہیں تو وہ قرآن کی نسبت او ر ثبوت کے معاملے میں بھی قابل اعتماد نہیں ہو سکتا۔ ہذا ما عندی والعلم عند اللہ

بشکریہ مکالمہ ڈاٹ کام، تحریر/اشاعت 30 نومبر 2016
مصنف : عمار خان ناصر
Uploaded on : Dec 01, 2016
697 View