محمد عربی کی نبوت - جاوید احمد غامدی

محمد عربی کی نبوت

 

اس دنیا میں جتنے بڑے آدمی ہوئے ہیں، اُن سب کے بارے میں یہ بات بغیر کسی استثنا کے اور بے خوف تردیدکہی جاسکتی ہے کہ اپنے جس فکر و اسلوب کے حوالے سے وہ اب پہچانے جاتے ہیں، اس تک پہنچنے کے لیے اخذو اکتساب اور ترک و اختیار کے اُن سب مراحل سے انھیں لازماً گزرنا پڑا جو ہر انسان کو اس راہ میں پیش آتے ہیں۔ وہ اپنی جن صلاحیتوں اور جس ذہنی اثاثے کے ساتھ دنیا کے سامنے آئے، اس میں بتدریج ترقی ہوئی۔ وہ رفتہ رفتہ نیچے سے اوپر کی طرف اٹھے۔ ان کے فکر و اسلوب میں درجہ بدرجہ تبدیلی ہوئی اور بہت کچھ ماننے اور پھر چھوڑ دینے کے بعد ہی وہ کسی مقام پر جا کر کھڑے ہوئے۔ اس سرزمین کی ایک نابغہ شخصیت اقبال کو دیکھیے۔ انھوں نے جو کچھ ابتدا میں کہا اور جس طرح کہا، وہ بھی ہمارے سامنے ہے اور ان کے قلم نے بعد میں جو لعل و گہر بکھیرے، انھیں بھی ہم دیکھتے ہیں۔ ہم نے ’’مسجد قرطبہ‘‘ بھی پڑھی ہے اور جس شخص نے اُردونظم کا یہ تاج محل تخلیق کیا ہے، اس کے زمانۂ طالب علمی کا کلام بھی دیکھا ہے۔ اس بے مثال شاعر کی تخلیقات میں نقطۂ نظر کا جو ارتقا اور فکر و اسلوب کی جو تبدیلیاں ہم نے دیکھی ہیں، وہی ہم سقراط و فلاطون، کانٹ اور ہیگل، نیوٹن اور آئن اسٹائن، شیکسپیئر اور ملٹن اور رومی و حافظ کے ہاں بھی دیکھتے ہیں۔
لیکن وہ تنہا ہستی جس کے وجود سے یہ استثنا اب ہمیشہ کے لیے ثابت ہے، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ انھوں نے جو کلام دنیا کے سامنے پیش کیا، وہ قرآن مجید کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے۔ یہ کلام جب پہلی مرتبہ ان کی زبان سے لوگوں نے سنا، اس وقت وہ چالیس سال کے تھے۔ یہ سارا عرصہ وہ کہیں دشت و صحرا میں نہیں رہے۔ انھوں نے اپنی زندگی کے یہ چالیس سال اسی بستی میں گزارے جس میں وہ پہلی مرتبہ یہ کلام سنانے کے لیے لوگوں کے سامنے کھڑے ہوئے۔ اس عرصے میں ان کی قوم کے ہر فرد نے، ان کی بیوی اور ان کے بچوں نے، ان کے احباب اور اہل خاندان نے شب و روز انھیں دیکھا۔ ان کے بارے میں یہ تاریخ کی ناقابل تردید شہادت ہے کہ وہ کبھی اخذ و اکتساب کے کسی مرحلے سے نہیں گزرے۔ انھیں کسی نے کہیں مشق سخن کرتے نہیں دیکھا۔ اس ساری مدت میں انھوں نے کسی چیز کے بارے میں اپنا کوئی فکرکبھی پیش نہیں کیا۔ غرض یہ کہ اب ہم قرآن مجید میں جو کچھ پڑھتے ہیں، اس نوعیت کی کوئی چیز اس عرصے میں کسی شخص نے اُن کی زبان سے نہیں سنی۔ وہ چالیس سال اسی طرح گزارنے کے بعد یک بیک کھڑے ہوئے اور یہ کتاب لوگوں کے سامنے پیش کرنا شروع کر دی، اور پھر کم و بیش تیئس سال تک مسلسل اسے پیش کرتے رہے۔ اس دوران میں وہ اطمینان کے ساتھ کسی گوشے میں بیٹھے نہیں رہے۔ انھوں نے جو دعوت پیش کی، اس سے ان کا پورا ماحول متاثر ہوا۔ اُن کی قوم کے اکابر اپنے تمام وسائل کے ساتھ اُن کی مخالفت کے درپے ہوئے۔ انھوں نے اور ان کے ساتھیوں نے اس راہ میں بڑے سخت مقام بھی دیکھے، یہاں تک کہ انھیں اس بستی سے ہجرت کر کے یثرب جانا پڑا۔ وہاں انھیں بدر و احد کے معرکے بھی پیش آئے، یہود و نصاریٰ کی ریشہ دوانی سے بھی سابقہ پڑا، پھر اس چھوٹی سی بستی میں ان کی حکومت بھی قائم ہوئی اور بالآخر پورا جزیرہ نماے عرب اس حکومت میں شامل بھی ہوا۔ لیکن وہ کلام جو ان تئیس برسوں میں انھوں نے پیش کیا، اس میں فکر کے لحاظ سے کسی ادنیٰ تضاد اور اسلوب کے اعتبار سے کسی معمولی ارتقا یا تنزل کی نشان دہی بھی کوئی شخص نہیں کر سکتا:

’’پھر کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے؟ اور (حقیقت یہ ہے کہ) اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں وہ بہت کچھ اختلاف پاتے۔‘‘(النساء ۴: ۸۲)

اس کا ہر جز ایک غایت درجہ مضبوط نظام فکر کا حصہ اور اس کی ہر سورہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد شہ پارۂ ادب ہے۔ اسے جس مقام سے پڑھیے، آدمی پکار اٹھتا ہے کہ:

کرشمہ دامن دل می کشد کہ جا ایں جاست

پھر دیکھیے، یہ کلام اب ہمارے پاس جس کتاب کی صورت میں موجود ہے، اس پر کم وبیش چودہ صدیاں بیت گئیں۔ اس عرصے میں دنیا کیا سے کیا ہو گئی۔ بنی آدم نے نظریہ و خیال کے کتنے بت تراشے اور پھر خود ہی توڑ دیے۔ انفس و آفاق کے بارے میں انسان کے نظریات میں کتنی تبدیلیاں آئیں اور اس نے ترک و اختیار کے کتنے مرحلے طے کیے۔ وہ کس کس راہ سے گزرا اور بالآخر کہاں تک پہنچا، لیکن یہ کتاب جس میں بہت سی وہ چیزیں بھی بیان ہوئی ہیں جو ان پچھلی دو صدیوں میں علم و تحقیق کا خاص موضوع رہی ہیں، دنیا کے سارے لٹریچر میں بس ایک ہی کتاب ہے جو اس وقت بھی اسی طرح اٹل اور محکم ہے، جس طرح اب سے چودہ سو سال پہلے تھی۔ علم و عقل اس کے سامنے جس طرح اس وقت اعتراف عجز پر مجبور تھے، اسی طرح آج بھی ہیں۔ اس کا ہر بیان اب بھی پوری شان کے ساتھ اپنی جگہ پر قائم ہے۔ دنیا اپنی حیرت انگیز علمی دریافتوں کے باوجود اس میں کسی ترمیم و تغیر کے لیے کوئی گنجایش پیدا نہیں کر سکی:

’’اور ہم نے اس کو حق کے ساتھ اتارا ہے اور یہ حق ہی کے ساتھ اترا ہے اور ہم نے تم کو اے پیغمبر، صرف اس لیے بھیجا ہے کہ (ماننے والوں کو) بشارت دو اور (جو انکار کریں، انھیں) خبردار کر دو۔‘‘ (الاسراء۱۷: ۱۰۵)

اس کے بعد پھر کیا چیز ہے جو انسان کو اس نبوت کے جھٹلانے پر آمادہ کرتی ہے؟
[۱۹۸۸]

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت مئی 2005
مصنف : جاوید احمد غامدی
Uploaded on : Jan 03, 2017
594 View