تعلق بالقرآن - محمد رفیع مفتی

تعلق بالقرآن

 

عن ابی موسیٰ اشعری، قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، مثل المومن الذی یقراء القرآن مثل الا ترجۃ ریحھا طیب وطعمہا طیب. ومثل المؤمن الذی لا یقراء القرآن مثل التمرۃ لا ریح لہا وطعمہا حلو. ومثل المنافق الذی لا یقراء کمثل الحنظلۃ لیس لہا ریح وطعمہا مر. ومثل المنافق الذی یقراء القرآن مثل الریحانۃ ریحھا طیب وطعمھا مر. (مشکوٰۃ،کتاب فضائل القرآن)
’’ابو موسیٰ اشعری کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس مومن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے، ترنج ۱؂ کی سی ہے، جس کی خوش بو بھی اچھی ہے اور ذائقہ بھی۔ اور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال کھجور کی سی ہے، جس کی خوش بو تو نہیں ہوتی، مگر ذائقہ میٹھا ہوتا ہے۔ اور قرآن نہ پڑھنے والے منافق کی مثال اندرائن ۲؂ کی سی ہے،جو ذائقہ میں کڑوا ہوتاہے، اور اس میں خوش بو بھی نہیں ہوتی۔ اور قرآن مجید پڑھنے والے منافق کی مثال گل ریحان کی سی ہے، جس کی خوش بو تو اچھی ہوتی ہے، مگر ذائقہ بہت کڑو اہوتا ہے۔ ‘‘

یہ ابو موسیٰ اشعری کی روایت ہے۔ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تمثیل سے یہ سمجھایا ہے کہ قرآن مجید سے تعلق کی کیاکیا نوعیتیں ہیں۔ اور سب سے اچھا تعلق کیا ہے۔ چنانچہ پہلی دو مثالیں مومن خالص کے حوالے سے ہیں، اور دوسری دو مثالیں ان لوگوں کے بارے میں ہیں، جو اپنے ایمان میں سچے نہیں ہیں۔
پہلی مثال میں دیکھیے کہ آپ نے اس بندۂ مومن کی مثال دی ہے، جو نہ صرف اپنے ایمان میں سچا ہے، بلکہ قرآن سے بھی شغف رکھتا ہے، وہ اسے پڑھتا ہے اور پڑھاتا بھی ہے۔ اس کی مثال ترنج کی سی ہے، یعنی وہ ترنج کی طرح اپنی ذات میں بھی خوب ہے، اور جو کچھ اس سے، قرآن کی صورت میں، لوگوں کو حاصل ہورہا ہے، وہ بھی ترنج کی خوش بو کی طرح نہایت اچھا ہے۔ یعنی ، قرآن کی صورت میں جو پیغام ربانی اس کے پاس ہے، وہ خوش بو بن کر عالم میں پھیل رہا ہے۔ سچا مومن ہونے کی وجہ سے اس کا وجود دوسروں کے لیے سراپا خیر ہے۔ یعنی ، وہ خود بھی میٹھا ہے اور اس کی خوش بو بھی بہت عمدہ ہے۔
دوسری مثال اس بندۂ مومن کی ہے، جو قرآن سے اس طرح کا گہرا تعلق نہیں رکھتا۔ اس کی مثال کھجور کے پھل کی سی ہے، جس کا ذائقہ تو اچھا ہے، لیکن اس میں خوش بو نہیں ہوتی۔ یعنی، یہ شخص مومن ہونے کی وجہ سے تو لوگوں کے لیے سراپا خیر ہے، لیکن قرآن کے ساتھ مطلوب تعلق نہ ہونے کی وجہ سے اس کے پاس جو دعوت ہے، وہ دوسروں تک پہنچنے نہیں پاتی۔ گویا وہ خود تو میٹھا ہے، لیکن دعوت خیراس کی ذات سے خوش بو کی طرح نہیں پھیلتی۔
تیسری مثال اس منافق کی ہے، جو قرآن کو پڑھتا پڑھاتا بھی نہیں ہے، اور سچا مومن بھی نہیں ہے، یعنی وہ اپنی ذات میں بھی اچھا نہیں ہے اور لوگوں کو دینے کے لیے بھی اس کے پاس قرآن جیسی اچھی دعوت نہیں ہے۔گویا وہ اندرائن کی طرح کڑواہے، یعنی لوگوں کے ساتھ اس کا تعلق ، خیر کا نہیں ہوگا۔ وہ نفاق اور بے یقینی پھیلانے کا باعث بنے گا۔ اس کی خوش بو نہیں ہے، یعنی اس سے کوئی خیر لوگوں کو میسر نہیں آئے گا۔ اس تشبیہ میں ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ اندرائن دیکھنے میں بہت خوبصورت ہوتا ہے۔ اسے پہلی مرتبہ دیکھنے والا لذیذ اور اعلیٰ قسم کا پھل سمجھتا ہے، جب کہ وہ نہایت کڑوا ہوتا ہے۔ یہی حال منافق کابھی ہوتا ہے کہ وہ بظاہر تو مومن ہوتاہے، مگر اندر سے وہ منافقت کی تلخی سے بھرا ہوتا ہے۔
چوتھی مثال اس منافق کی ہے، جو اپنے نفاق کے ساتھ قرآن مجید کو پڑھتا پڑھاتا ہے۔ فرمایا کہ اس کی مثال ریحان کی طرح ہے، جو ذائقہ میں کڑوا ، البتہ خوش بو میں نہایت خوش گوار ہوتاہے۔ منافق ، اپنی ذات میں برا ہے، یعنی ریحان کی طرح کڑوا ہے، لیکن قرآن مجید کے پڑھنے پڑھانے سے لوگ حق کی خوش بو اس سے پاتے رہتے ہیں۔
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید کے ساتھ مختلف رویوں کی نشان دہی مثالوں کے ذریعے سے فرمائی ہے جس سے بخوبی واضح ہو جاتا ہے کہ کون سا رویہ آپ کے نزدیک سب سے زیادہ اچھا ہے۔ اس روایت میں ایک خاص بات اس بے مثال پیغمبرانہ تکلم کی ایک جھلک ہے جس میں داعیانہ رنگ بھی ہے اور معلمانہ شان بھی۔
چنانچہ سب سے بہتر وہ آدمی ہے جو بندۂ مومن ہونے کے ساتھ ساتھ قرآن مجید پڑھتا پڑھاتا بھی ہو۔ اسی بات کو آپ نے ایک اور موقع پر اس طرح بیان فرمایا ہے:

خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ.(بخاری، کتاب فضائل القران)
’’تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جس نے قرآن سیکھا اور دوسروں کو سکھایا۔‘‘ 

———————-

۱؂ ترنج، چکوترے کی طرح سڑیس (CITRUS)قسم کا ایک صحرائی پھل۔
۲؂ اندرائن ، حنظل، خربوزے کی طرح کا ایک پھل، جو دیکھنے میں خوبصورت اور ذائقہ میں کڑوا ہوتاہے۔

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت فروری 2013
مصنف : محمد رفیع مفتی
Uploaded on : Feb 16, 2018
307 View