سرسید احمد خان کے مذہبی افکار اور علماء - عمار خان ناصر

سرسید احمد خان کے مذہبی افکار اور علماء

 

سرسید احمد خان اور ان کے مذہبی وسیاسی افکار گزشتہ دنوں سوشل میڈیا میں زیر بحث رہے۔ سرسید کے ناقدین نے ان کی مذہبی تعبیرات اور برطانوی اقتدار سے متعلق ان کے جذبات وفاداری کو موضوع بنایا، جبکہ حامیوں نے اس کے جواب میں ”ملائیت“ کو بے نقط سنائیں۔

اس تناظر میں یہ مختصر وضاحت مناسب معلوم ہوتی ہے کہ سرسید کی مذہبی تعبیرات کو اگرچہ راسخ العقیدہ علماءنے علمی سطح پر رد کیا (بلکہ سچ یہ ہے کہ انھیں سرسید کے علاوہ کسی نے قبول ہی نہیں کیا)، لیکن انھیں ”ہوا“ نہیں بنایا اور نہ ان کی بنا پر ان کے خلاف مذہبی فتوے بازی کی کوئی مہم ذمہ دار علماءکی طرف سے منظم کی گئی، بلکہ اکابر علماءنے سرسید کی اس کوشش کو ان کے خلوص کی بنا پر ہمدردانہ نظر سے دیکھا اور ان پر کوئی فتویٰ عائد کرنے سے گریز کیا۔ چنانچہ مولانا فضل الرحمن گنج مراد آبادیؒ کے سامنے کسی نے سرسید کے مذہبی خیالات پر سخت الفاظ میں تبصرہ کیا تو مولانا نے کہا کہ ”ان کی ظاہری تقریر کو نہ دیکھو، ان کے قلب کو دیکھو کہ کیسا ہے“۔ اسی طرح ایک موقع پر انھوں نے چند مولوی صاحبان کو مسجد میں یہ کہتے ہوئے سنا کہ سرسید روایات صحیحہ کا انکار کرتا ہے، تواتر کا انکار کرتا ہے، کافر ہے وغیرہ وغیرہ تو اپنے حجرے سے نکلے، مسجد میں تشریف لائے اور فرمایا ”یہ لوگ اس بے چارے کو کافر بناتے ہیں، مگر اس کے قلب کو دیکھ کہ کیسا ہے۔“ (”کمالات رحمانی“ از شاہ تجمل حسین بہاری، بحوالہ صدق جدید، ۵ مئی ۱۹۶۱ء)

اسی طرح کے خیالات مولانا اشرف علی تھانویؒ کے تھے، چنانچہ خواجہ عزیز الحسن مجذوب، مولانا کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ ”سرسید کا عقیدہ توحید اور رسالت کے متعلق جس درجہ کا بھی تھا، بلا وسوسہ اور نہایت پختہ تھا جیسا کہ ان کی بعض تصانیف سے مجھ کو ظاہر ہوا اور قرآن وحدیث کی جو توجیہات انھوں نے کیں، ان کا منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ مخالفین کا اسلام پر کوئی اعتراض وارد نہ ہو۔ گو اس کے لیے انھوں نے جو طریقہ اختیار کیا، وہ غلط تھا، اس لیے میں ان کو نادان دوست کہتا ہوں۔“ (اشرف السوانح از خواجہ عزیز الحسن مجذوب، جلد اول، ص ۲۱۵)

اس کے علاوہ سرسید کے متعارف کردہ بہت سے نئے مذہبی مباحث سے ملائیت نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور اس پہلو پر اب بعض مطالعات بھی سامنے آ چکے ہیں۔ مثال کے طور پر بھارت کے ممتاز محقق مولانا رضی الاسلام ندوی نے ”سرسید کی تفسیر القرآن اور مابعد تفاسیر پر اس کے اثرات“ کے زیر عنوان اپنے مقالے میں سرسید کی تفسیر قرآن کی تالیف کا فکری پس منظر واضح کیا ہے اور سرسید کے منہج تفسیر پر روشنی ڈالتے ہوئے قرآن اور بائبل کے بیانات کے تقابلی مطالعہ، اسلام پر کیے جانے والے اعتراضات کے رد اور غیبیات ومعجزات کی عقلی توجیہ کو اس کی اہم خصوصیات میں شمار کیا ہے۔ مصنف نے یہ دلچسپ حقیقت بیان کی ہے کہ تفسیر قرآن کے ضمن میں ان تینوں پہلووں سے بعد کے مفسرین نے سرسید کے اثرات قبول کیے اور اردو تفاسیر میں نہ صرف قرآن اور بائبل کے تقابلی مطالعہ اور اسلام پر اعتراضات کا رد کرنے کی ریت قائم ہوئی، بلکہ غیبیات اور معجزات کی عقلی توجیہ کے باب میں بھی ”اس تفسیر کے مابعد تفاسیر پر اثرات مرتب ہوئے اور اہل علم نے اس کے اسلوب اور انداز تحقیق کو اپنایا۔“ (برصغیر میں مطالعہ قرآن، ص ۲۳)

مولانا ندوی کے خیال میں اس طرز فکر کے بعض مثبت اثرات بھی ہیں، چنانچہ ”قدیم مفسرین کی عجوبہ پسندی کا یہ حال تھا کہ وہ ایسے واقعات کو بھی جن کی مناسب عقلی توجیہ ممکن ہے، معجزات قرار دیتے تھے۔ ۔ معجزات کے سلسلے میں سرسید کا نقطہ نظر تو قبولیت حاصل نہ کر سکا، لیکن اس کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ عجوبہ پسندی کی شدت میں کمی آئی اور بعض قرآنی واقعات پر اس حیثیت سے بھی غور ہونے لگا کہ ان کی عقلی توجیہ کر کے انھیں غیر معجزانہ واقعات کی حیثیت سے پیش کیا جائے۔ اسے بھی تفسیر سرسید کا ایک قابل لحاظ اثر قرار دیا جا سکتا ہے۔“ (ص ۲۴) اس نکتے کی وضاحت میں مصنف نے متعدد مثالیں بھی نقل کی ہیں۔ سرسید کی تفسیری خدمات کے حوالے سے مصنف کا مجموعی تاثر یہ ہے کہ بعض پہلوؤں سے ”یہ تفسیر سرسید کی مذہبی خدمات میں ایک اہم مقام رکھتی ہے اور یہ ان کا ایک قابل قدر علمی کارنامہ ہے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ جہاں ان کی غلطیوں اور لغزشوں پر بے لاگ تنقید کی جائے، وہیں ان کی وقیع تحقیقات کو سراہا جائے۔“ (ص ۱۱)

جہاں تک برطانوی اقتدار کے حوالے سے سرسید کی فکر کا تعلق ہے تو اس میں اور مذہبی علماء کی ایک بڑی تعداد کے زاویہ نظر میں بنیادی اشتراک دکھائی دیتا ہے، تاہم یہ ایک تفصیل طلب موضوع ہے جس پر ان شاء اللہ ہم آئندہ کسی نشست میں بات کریں گے

بشکریہ مکالمہ ڈاٹ کام، تحریر/اشاعت 16 دسمبر 2017
مصنف : عمار خان ناصر
Uploaded on : Jan 29, 2018
497 View