یہود و نصاریٰ سے دوستی - سید منظور الحسن

یہود و نصاریٰ سے دوستی

[جناب جاوید احمد غامدی کے افادات پر مبنی]

 

سوال: قرآنِ مجید نے واضح طور پر یہود و نصاریٰ کو دوست بنانے سے منع فرمایا ہے، کیا یہ حکم ہر زمانے کے یہودو نصاریٰ سے متعلق ہے ؟
جواب: یہود و نصاریٰ سے دوستی کی ممانعت کے حوالے سے قرآنِ مجید کی اس آیت کو بنیاد بنایا جاتا ہے:

’’ایمان والو، تم یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست نہ بناؤ۔ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ اور جو تم میں سے ان کو دوست بنائے گا، وہ انھی میں سے ہے۔ اللہ ظالموں کو راہ یاب نہیں کرتا۔‘‘ (المائدہ ۵: ۵۱)

اس آیت میں بہت وضاحت کے ساتھ مسلمانوں کو یہود ونصاریٰ کے ساتھ دوستی قائم کرنے سے منع کیا گیا ہے۔اس حکم کے اطلاق کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں:
ایک یہ کہ اسے ایک عام حکم مانا جائے ۔ یعنی اس کا اطلاق ہر زمانے اور ہر علاقے کے مسلمانوں اوریہود و نصاریٰ پرکیا جائے ۔
دوسرے یہ کہ اسے ایک خاص حکم مانا جائے ۔یعنی اس کا اطلاق خاص زمانے اور خاص علاقے کے مسلمانوں اور یہود و نصاریٰ پر کیا جائے۔
اگر ہم پہلی صورت اختیار کریں تویہ مسئلہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ حکم قرآنِ مجید ہی کے بعض دوسرے مقامات سے متصادم ہو جاتا ہے۔ان میں سے چند مقامات یہ ہیں:
۱۔سورۂ مائدہ ہی میں ارشادِ خداوندی ہے:
’’تم ایمان والو ں کی دشمنی میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پاؤ گے ، اور اہلِ ایمان کی دوستی سے قریب تر ان لوگوں کو پاؤ گے جنھوں نے کہا کہ ہم نصاریٰ ہیں ۔ یہ اس وجہ سے کہ ان کے اندر عالم اور راہب ہیں اور یہ تکبر نہیں کرتے۔‘‘(۵: ۸۲)
زیرِ بحث آیت میں نصاریٰ کے ساتھ دوستی سے منع کیا گیا ہے، جبکہ اس آیت میں ان کی تحسین کی گئی ہے اور انھیں دوستی کے لحاظ سے مسلمانوں سے قریب تر قرار دیا گیا ہے۔
۲۔ارشاد فرمایا ہے:

’’اب تمھارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں اور اہل کتاب کا کھاناتمھارے لیے حلال ہے اور تمھارا کھانا ان کے لیے حلال ہے ‘‘ (المائدہ ۵: ۵)

زیرِ بحث آیت میں یہود ونصاریٰ سے دوستی سے روکا گیا ہے، جبکہ اس آیت میں ان کا کھانا کھانے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا ذبیحہ ہمارے لیے حلال ہے اور ہم ان کے ساتھ ایک ہی دستر خوان پر بیٹھ کر کھانا کھا سکتے ہیں۔ظاہر ہے کہ ان کے ساتھ دستر خوان کا تعلق معاشرتی روابط اور دوستانہ مراسم کے علی الرغم تو قائم نہیں کیا جا سکتا۔ مولاناابوالاعلیٰ صاحب مودودی نے اس آیت کی وضاحت میں لکھا ہے:

’’اہلِ کتاب کے کھانے میں ان کا ذبیحہ بھی شامل ہے ۔ ہمارے لیے ان کا اور ان کے لیے ہمارا کھانا حلال ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے اور ان کے درمیان کھانے پینے میں کوئی رکاوٹ اور کوئی چھوت چھات نہیں ہے ۔ ہم ان کے ساتھ کھا سکتے ہیں اور وہ ہمارے ساتھ۔‘‘ (تفہیم القرآن ۱/ ۴۴۷)

۳۔ اسی طرح ارشاد فرمایا ہے:

’’اب تمھارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں ۔۔۔ اور شریف عورتیں مسلمان عورتوں میں سے اور شریف عورتیں ان اہل کتاب میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب ملی ، تمھارے لیے حلال ہیں ، بشرطیکہ ان کو قیدِ نکاح میں لا کر ان کے مہر دو، نہ کہ بدکاری کرتے ہوئے اور آشنائی گانٹھتے ہوئے ۔‘‘ (المائدہ ۵:۵)

زیرِ بحث آیت میں یہود و نصاریٰ سے دوستانہ مراسم کی اجازت نہیں دی گئی، جبکہ اس آیت میں اس سے کہیں آگے بڑھ کر ان کی خواتین کو رشتۂ ازدواج میں منسلک کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ظاہر ہے کہ کسی یہودی یا عیسائی خاتون کے کسی مسلمان مرد کی بیوی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کی رفیق حیات، اس کے گھر کی نگران اور اس کے بچوں کی ماں ہو گی۔ خاتون کے یہودی یا عیسائی والدین اس کے ساس سسر قرار پائیں گے اور اس طرح اس کے لیے بمنزلۂ والدین ہوں گے۔ خاتون کے اعزہ اس کے اعزہ تصور کیے جائیں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ سارے رشتے کیا انس و محبت اور تعلق و دوستی کے بغیر ہی وجود میں آجائیں گے؟
۴۔مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام کی دعوت کو دنیا میں عام کریں۔یہ دعوت شایستگی اور محبت ہی کے ساتھ ہونی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’ اپنے پروردگار کے راستے کی طرف حکمت کے ساتھ دعوت دواور اچھی نصیحت کے ساتھ اور ان سے بحث کرو اس طریقے سے جو پسندیدہ ہو ۔‘‘ (النحل ۱۶: ۱۲۵)

اہل کتاب کے حوالے سے بھی یہی بات فرمائی ہے:

’’اور اہلِ کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقے سے۔‘‘ (العنکبوت ۲۹: ۴۶)

ہمیں اسلام کا پیغام اپنی ذات تک محدود نہیں رکھنا ، بلکہ اسے دوسری اقوام تک بھی پہنچانا ہے۔کسی عیسائی یایہودی کو ہم یہ دعوت کیسے پہنچا سکیں گے ، اگر ہم اسے اپنے ساتھ مانوس نہیں کریں گے؟ ہمیں اس کے ساتھ ربط و ضبط پیدا کرنا ہو گا ، معاشرتی روابط قائم کرنے ہوں گے، ایثار و محبت کا اظہار کرنا ہو گا اورخیر خواہی پر مبنی دوستانہ تعلقات استوار کرنے ہوں گے۔ اس کے بعد ہی وہ سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ ہماری بات سننے کے لیے آمادہ ہو گا۔
قرآنِ مجید کے درج بالا مقامات زیرِ بحث آیت کا یہ مفہوم لینے میں مانع ہیں کہ یہ آیت ہر زمانے اور ہر علاقے کے یہود و نصاریٰ سے متعلق ہے۔ اگر ہم اس مفہوم کو اختیار کرتے ہیں تو یادرج بالاآیات کا انکار لازم آتا ہے یا نعوذ باللہ قرآنِ مجید کو ایک متناقض کلام ماننا پڑتا ہے۔
اس کے برعکس اگر ہم دوسرا مفہوم اختیار کریں تو نہ صرف یہ کہ تناقض کی صورت پیدا نہیں ہوتی، بلکہ بات پوری طرح سمجھ میں آ جاتی ہے۔ ہمارے نزدیک یہ دوسری تعبیر ہی درست ہے۔چنانچہ یہ آیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے اور جزیرہ نماے عرب کے یہود و نصاریٰ کے ساتھ خاص ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے:
اللہ تعالیٰ کے قانونِ رسالت کی رو سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کایہ منصبی فریضہ تھا کہ وہ دینِ اسلام کو سرزمینِ عرب کے تمام مذاہب پر غالب کر دیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ واضح فرما دیا تھا کہ:

’’وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا کہ اسے وہ (سر زمینِ عرب) کے تمام ادیان پر غالب کر دے ، اگرچہ یہ بات عرب کے ان مشرکوں کو کتنی ہی ناگوار ہو۔‘‘ (الصف ۶۱: ۹)

اس ذمہ داری کے تحت اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکینِ عرب کے ساتھ ساتھ اہلِ کتاب کو بھی دعوت دینے کی ہدایت فرمائی ۔ ارشاد فرمایا:

’’کہہ دو : اے اہلِ کتاب،اس بات کی طرف آؤ جو ہمارے تمھارے درمیان یکساں ہے ، یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرائیں اور ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کو اللہ کے سوا اپنا پروردگار قرار نہ دے۔‘‘ (آلِ عمران۳: ۶۴)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کا اقتدار حاصل ہو جانے کے بعداہل کتاب کو دعوت و انذار کا مخاطب بنائے رکھا۔ ان سے دوستانہ مراسم استوار کیے اور سیاسی معاہدات کیے۔ اس خیر خواہانہ اور دوستانہ طرزِ عمل کاجواب اہلِ کتاب بالخصوص یہودنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی دشمنی کی صورت میں دیا۔وہ منافقین اور مشرکینِ عرب کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں ملوث ہو گئے ۔نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگر رات کو گھر سے نکلتے تو یہودیوں کی طرف سے حملے کا خطرہ رہتا۔ایک عرصہ تک وہ درپردہ مسلمانوں کے خلاف برسرِ پیکار رہے اور پھر معاہدات کو توڑ کر کھلم کھلا آمادۂ جنگ ہو گئے۔
یہ وہ پس منظر ہے جس میں مذکورہ آیت نازل ہوئی۔قرآنِ مجید کے حسبِ ذیل مقامات اس مفہوم کوپوری طرح واضح کر دیتے ہیں:
۱۔ سورۂ آلِ عمران میں ان اہلِ کتاب کو محرمِ راز بنانے سے روکا ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ غیر مخلص ہیں اور ان سے قلبی عناد رکھتے ہیں۔ ان کے عناد کے جواب میں مسلمانوں کو صبر اور تقویٰ اختیار کرنے کی تلقین فرمائی ہے ۔ ارشاد فرمایا ہے:

’’ایمان والو، اپنے سے باہر والوں کو اپنا محرمِ راز نہ بناؤ ، یہ تمھیں نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں گے ۔ یہ تمھارے لیے زحمتوں کے خواہاں ہیں ۔ ان کی عداوت ان کے مونہوں سے ظاہر ہو چکی ہے اور جو کچھ ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں ، وہ اس بھی سخت تر ہے ۔ ہم نے تمھارے لیے اپنی تنبیہات واضح کر دی ہیں اگر تم سمجھ رکھتے ہو ۔ یہ تمھی ہو کہ تم ان سے دوستی رکھتے ہو، وہ تو تم سے دوستی نہیں رکھتے ، حالانکہ تم ساری کتاب پر ایمان رکھتے ہو ، اور جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہوئے ہیں اور جب آپس میں ملتے ہیں تو تم پر غصہ سے انگلیاں کاٹتے ہیں، کہہ دو تم اپنے غصے میں مر جاؤ۔ اللہ سینوں کے بھید سے خوب واقف ہے۔ اگر تمھیں کوئی کامیابی حاصل ہوتی ہے توان کو اسے تکلیف پہنچتی ہے اور اگر تم کو کوئی گزند پہنچ جاتا ہے تو اس سے خوش ہوتے ہیں اور اگر تم صبر کرو گے اور تقویٰ اختیار کروگے تو ان کی چال تمھیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گی ۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں، اللہ اس کو اپنے گھیرے میں لیے ہوئے ہے۔‘‘(۳: ۱۱۹)

۲۔سورۂ مائدہ میں مسلمانوں کو اہلِ کتاب کے ساتھ دوستی سے منع کیا گیا ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ اسلام کے شعائر اور تعلیمات کا مذاق اڑاتے ہیں اوریہ بدتمیزی اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ اذان کی نقل اتارنے لگتے ہیں۔ ارشاد ہے:

’’ایمان والو، ان لوگوں کو اپنا دوست نہ بناؤ جنھوں نے تمھارے دین کو مذاق اور کھیل بنا لیا ہے ، ان لوگوں میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی اور نہ کفار کو ۔ اور اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو۔ اور جب تم نماز کے لیے منادی کرتے ہو تو یہ اس کو مذاق اور کھیل بنا لیتے ہیں، یہ اس وجہ سے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو عقل نہیں رکھتے۔ ان سے کہو کہ اے اہلِ کتاب ، تم ہم پر بس اس بات کا غصہ نکال رہے ہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر ، اور اس چیز پر جو ہماری طرف بھیجی گئی، اورا س چیز پر جو پہلے اتاری گئی اور تم میں سے اکثر نافرمان ہیں۔‘‘ (۵: ۵۷۔ ۵۹)

۳۔اسی طرح مائدہ ہی میں ان کے منافقانہ اور اسلام دشمنی پر مبنی طرزِ عمل کو واضح کیا ہے:

’’ اور جب یہ( اہلِ کتاب) تمھارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تو ایمان لائے ہوئے ہیں، حالانکہ وہ کفر کے ساتھ داخل ہوتے ہیں اور اسی کے ساتھ نکلتے ہیں، اور اللہ خوب واقف ہے اس چیز سے جس کو وہ چھپا رہے ہیں۔ تم ان میں سے اکثر کو دیکھو گے کہ وہ حق تلفی ، زیادتی اور حرام خوری کی راہ میں گرم رو ہیں۔کیا ہی برا ہے جو کچھ یہ کر رہے ہیں۔ ان کے علما و فقہا ان کو گناہ کی بات کہنے اور ان کو حرام کھانے سے روکتے کیوں نہیں؟ کتنی بری ہے یہ حرکت جو یہ کر رہے رہے ہیں۔ ‘‘(۵: ۶۱۔۶۳)

۴۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے جزیرہ نماے عرب کے ان اہلِ کتاب کے بارے میں یہ حتمی فیصلہ نازل فرمایا:

’’ ان اہل کتاب سے جنگ کرو جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں، نہ قیامت کے دن کو مانتے ہیں، نہ اللہ اور اس کے رسول نے جو حرام ٹھیرایا ہے، اسے حرام ٹھیراتے ہیں اور نہ دینِ حق کواپنا دین بناتے ہیں، (ان سے جنگ کرو )، یہاں تک کہ وہ مغلوب ہو کر جزیہ ادا کریں اورماتحت بن کر زندگی بسر کریں۔‘‘ (۹: ۲۹)

عرب کے اہل کتاب نے جان بخشی کی اس رعایت کے باوجود معاندانہ سرگرمیاں جاری رکھیں تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانۂ خلافت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کو نافذ کر دیا:

’’(اگر اہل کتاب خلاف اسلام سرگرمیوں میں اسی طرح ملوث رہے تو) میں یہودیوں اور عیسائیوں کو جزیرۂ عرب سے نکال دوں گا ، یہاں تک کہ اس میں مسلمانوں کے سوا کسی کو باقی نہیں رہنے دوں گا۔‘‘( مشکوٰۃ ،رقم ۳۸۷۴ )

------------------------------

بشکریہ ماہنامہ اشراق

تحریر/اشاعت دسمبر 2001

مصنف : سید منظور الحسن
Uploaded on : Aug 12, 2016
614 View