مشرک سے اعمال صالح کا صدور - سید منظور الحسن

مشرک سے اعمال صالح کا صدور


سوال:کیا شرک میں مبتلا لوگوں سے اچھے اعمال کا صدور ہو سکتا ہے؟ میرا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا، کیونکہ جب کوئی شخص شرک کا مرتکب ہوتا ہے تو اصل میں وہ اس جڑ ہی کو کاٹ دیتا ہے جس کے برگ و بار عمل صالح کی شکل میں نمودار ہوتے ہیں۔ اس بارے میں اپنے نقطۂ نظر سے آگاہ کریں؟
جواب: قرآن مجید جن لوگوں کو مشرکین کے نام سے پکارتا ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو شعوری طور پر شرک میں مبتلا ہوتے ہیں، یعنی جانتے بوجھتے ، سوچتے سمجھتے شرک کا ارتکاب کرتے اور خدا کے آگے تمرد و سرکشی کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کا جرم ظلم عظیم قرار پاتا ہے اور جنھیں اس جرم کی پاداش میں ، لازماً ، جہنم کا ایندھن بننا ہے۔ ا ن مشرکین کے علاوہ، بعض دوسرے لوگ بھی غیر شعوری طور پر شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں، یعنی وہ بے سوچے سمجھے ، محض اپنی بے عقلی اور کم فہمی کی وجہ سے شرک کے مرتکب ہوتے ہیں۔ عام طور پر انھیں اس بات کا ادراک ہی نہیں ہوتا کہ وہ شرک کی ضلالت میں پڑ چکے ہیں، بلکہ اکثر اوقات وہ اپنے مشرکانہ عقائد و اعمال کو دین کا لازمی تقاضا سمجھ کر اختیار کیے ہوتے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ لوگ مشرکین میں شمار نہیں ہوتے۔ ان کا گناہ یہ ہے کہ انھوں نے توحید کے فہم کے معاملے میں عقلی رویہ اختیار نہیں کیا۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا شرک میں مبتلا لوگوں سے اچھے اعمال کا صدور ممکن ہے؟ اس سوال کا جواب بڑا سادہ ہے اور وہ یہ کہ شعوری طور پر شرک کرنے والوں سے کسی اچھے عمل کا صدور محال ہے، کیونکہ شرک ان کی فطرت صالحہ کو مسخ کر چکا ہوتا ہے، لیکن اگر کبھی کوئی صالح عمل ان سے صادر ہو بھی جائے تو وہ دنیوی زندگی کے لحاظ سے ، بظاہر مفید ہونے کے باوجود، اللہ کے دربار میں ناقابل قبول ہو گا۔ البتہ غیر شعوری طور پر شرک میں مبتلا ہونے والے جو درحقیقت مشرکین نہیں ہیں، صالح اعمال کرتے بھی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے اعمال کے اجر کی توقع بھی کی جا سکتی ہے۔ ہم اپنے معاشرے پر نظر ڈالیں تو ہمیں زیادہ تر ایسے ہی لوگ نظر آئیں گے جو غیرشعور ی طور پر شرک میں مبتلا ہیں۔
اصل میں انسان سے اس کی زندگی میں ، دو طرح کے گناہ سرزد ہوتے ہیں: ایک عقیدے کا گناہ۔ دوسرے، عمل کا گناہ۔ عقیدے کے گناہ سے مراد یہ ہے کہ انسان کی سوچوں اوراس کے تصورات میں نجاستیں در آئیں اور اس کے خیالات اور اس کے افکار فطرت سے انحراف کا شکار ہو جائیں۔ اس نوعیت کے گناہ کی سب سے واضح مثال شرک ہے۔ عمل کے گناہ سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی میں ایسا طرزعمل اختیار کرے جو اس کی ذات پر بھی برے اثرات مرتب کرے اور اس کے ماحول پر بھی۔ اور اس کے نتیجے میں وہ اپنی روزمرہ زندگی میں اللہ کے بتائے ہوئے راستے سے منحرف ہو جائے۔ قتل، زنا، چوری، ڈاکا اور اس نوع کے دوسرے جرائم عمل کے گناہ ہیں۔
ہمارے خیال میں ایسا ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص (غیر شعوری طور پر) عقیدے کے گناہ میں مبتلا ہو اور عمل کے گناہ سے بہت حد تک بچا ہوا ہو اور کوئی دوسرا شخص عمل کے گناہ میں مبتلا ہو اور عقیدے کے گناہ سے بچا ہوا ہو۔ مثال کے طور پر یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص نماز پابندی سے ادا کرتا، رمضان کے روزے رکھتا ، زکوٰۃ ادا کرتا، اپنے مال و اسباب سے دوسروں کی مدد کرتا اور معاشرے کے قانونی اور اخلاقی حقوق ادا کرتا ہو، لیکن اس سب کے ساتھ ساتھ اپنے عقائد کے اعتبار سے وہ شرک میں مبتلا ہو۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کو اللہ تعالیٰ ہی کی ذات کا ظہور سمجھتا ہو، بعض برگزیدہ انسانوں میں ایسی صفات مانتا ہو جو صرف اللہ تعالیٰ ہی میں ہو سکتی ہیں اور اپنی مشکلات میں اللہ کے علاوہ بھی کسی کو پکارتا ہو۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی شخص اپنے عقیدے کے اعتبار سے توحید خالص پر کھڑا ہو، یعنی اللہ کی ذات میں، اس کی صفات میں اور اس کے حقوق میں کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اعمال کے اعتبار سے ایک کمزور انسان ہو۔ مثلاً وہ نماز، روزے کے معاملے میں بے پروا ہو ، معاشرے کے قانونی اور اخلاقی حقوق ادا کرنے سے بے توجہی برتتا ہو اور بعض اوقات بڑے گناہوں کا صدور بھی اس سے ہو جاتا ہو۔
چنانچہ ہم سمجھتے ہیں کہ عقیدے کا گناہ (اگر وہ شعوری طور پر نہ ہو) اور عمل کا گناہ کوئی لازم و ملزوم چیزیں نہیں ہیں۔ البتہ یہ بات اپنی جگہ بالکل درست ہے کہ عقیدے کا گناہ عمل پر اثر انداز ہوتا اور عمل کا گناہ عقیدے کو متاثر کرتا ہے۔ یہ حقیقت ، البتہ اپنی جگہ مسلم ہے کہ اللہ کے ہاں وہی اعمال قابل قبول ہوں گے جو صحیح عقائد پر استوار ہوں۔ ایک مشرک شخص کو جو اپنے اعمال کے اعتبار سے صالح ترین ہی کیوں نہ ہو، آخرت میں کامیابی کا حق دار قرار نہیں دیا جاسکتا۔ عقیدے کایہ ایک گناہ ہی اس کے سارے اعمال غارت کرنے کے لیے کافی ہے۔ خدا سے غافل متکبرین کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’اور ہم ان کے ہر اس عمل کی طرف ، جو انھوں نے کیا ہو گا، بڑھیں گے اور اس کو پراگندہ غبار بنادیں گے۔‘‘ (الفرقان ۲۵:۲۳)
مولانا امین احسن صاحب اصلاحی اس آیت کی وضاحت میں لکھتے ہیں:
’’فرمایا کہ ان لوگوں کو اپنی جن خدمات اور جن کارناموں پر بڑا ناز ہے اور جن کی بنا پر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس دنیا میں بھی وہ ملک و قوم کے ہیرو سمجھے جانے کے حق دار ہیں اور اگر آخرت کوئی چیز ہے تو وہاں بھی ان کو بڑے سے بڑے مراتب ملیں گے، ہم ان کے ان اعمال کو منتشر ذرات بنا کر اڑا دیں گے۔ اس لیے کہ ہمارے ہاں اس عمل کی کوئی قدر نہیں ہے جو خالص ہماری رضا کے لیے نہ کیا گیا ہو۔‘‘ (تدبر قرآن ۵/۴۵۹۔۴۶۰)

------------------------------

 

بشکریہ سید منظور الحسن
تحریر/اشاعت دسمبر 1994 

مصنف : سید منظور الحسن
Uploaded on : Aug 30, 2016
595 View