نماز میں خیالات - طالب محسن

نماز میں خیالات

 

عن القاسم بن محمد : أن رجلاً سألہ ، فقال : إنی أھم فی صلاتی فیکثر ذلک علی ۔ فقال لہ امض فی صلاتک فإنہ لن یذھب ذلک عنک حتی تنصرف و أنت تقول : ما أتممت صلاتی ۔
’’قاسم بن محمد سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے ان سے پوچھا : میں نماز پڑھتے ہوئے سوچوں میں پڑ جاتا ہوں ۔ اور یہ میرے ساتھ بہت ہی ہوتا ہے ۔ چنانچہ انھوں نے اسے مشورہ دیا کہ اپنی نماز جاری رکھو ۔ یہ معاملہ اسی طرح رہے گا جب تک تم نمازسے ہٹ نہیں جاؤگے اور یہ نہ کہہ دو گے کہ میری نماز پوری نہیں ہوئی۔‘‘

لغوی مباحث

أھم: وہم آنا ۔ نماز میں مختلف خیالات کا آنا یا نماز کے ہونے یانہ ہونے کے بارے میں وہم ہونا ۔
امض فی صلاتک: نماز میں چلتے رہو ، مراد یہ ہے کہ نماز کو جاری رکھو۔
تنصرف: انصراف کا مطلب ہے ، کسی کام سے رک جانا، یہاں نماز پڑھنا چھوڑ دینا مراد ہے ۔

متون

یہ روایت موطا امام مالک سے لی گئی ہے ۔ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی قول روایت نہیں ہوا ، بلکہ اس میں قاسم بن محمد سے کیے گئے ایک سوال اور ان کے جواب کوبیان کیا گیا ہے ۔قاسم بن محمد تابعی ہیں ۔ ان کا شمار فقہاے سبعہ میں ہوتا ہے ۔ یہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پوتے تھے اور اپنے زمانے کے جلیل القدر عالم تھے۔ کسی اور محدث نے اس روایت کو نہیں لیا ۔ لہٰذا متون میں فرق کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا ۔

معنی

بنیادی طور پر اس روایت میں بھی وہی مضمو ن بیا ن ہوا ہے جو پچھلی روایت میں زیرِ بحث آ چکا ہے ۔ چنانچہ وسوسہ، اس کے مضمرات اور اس سے بچنے کا طریقہ ، یہ سب تفصیل سے وہاں زیرِ بحث آچکے ہیں ۔ اس روایت میں اس سے متعلق ایک دوسرا پہلو بیان ہوا ہے ۔ یہاں ہم اسی کی وضاحت کریں گے ۔
شیاطینِ جن و انس کی درپردہ دراندازیوں سے بچنے کے لیے اس روایت میں تعوذ کا طریقہ بیان ہوا ہے ۔ یہاں حضرت قاسم بن محمد رحمہ اللہ نے نماز کوہر حال میں جاری رکھنے کی تجویز دی ہے ۔ یہ تجویز ایک نفسیاتی حقیقت پر مبنی ہے ۔ شیطان یہ چاہتا ہے کہ نمازی کے صحیح نماز ادا کرنے کے صادق جذبے ہی کو غلط رخ دے کر اسے نماز سے محروم کر دیا جائے ۔ چنانچہ وہ نمازی کے سامنے اس کی نماز اور وضو کی صحت کے بارے میں سوالات رکھنا شروع کر دیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نمازی تشکیک و شبہات کا شکار ہو جاتا ہے اور بسا اوقات نماز کی طرف رغبت اور خضوع کی کیفیت ہی سے محروم ہو جاتا ہے ۔ یہ دونوں چیزیں نمازی کو نماز سے دور کر دیتی ہیں ۔ حضرت قاسم کی تجویز شیطان کے اس حربے کا قوتِ ارادی سے جواب ہے ۔ جب بندۂ مومن نماز ، ہر حال میں پڑھتا رہے گا تو ، بالآخر وہ ان وساوس اور شبہات پر بھی قابو پالے گا ۔

کتابیات

مؤطا ، کتاب الندا للصلاۃ ،باب۲۶۔شرح الزرقانی، ج ۱، ص ۲۹۵ ۔

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت مئی 2001
مصنف : طالب محسن
Uploaded on : Jan 02, 2017
1801 View