روایت پسندی، جدیدیت اور فراہی مکتب - خورشید احمد ندیم

روایت پسندی، جدیدیت اور فراہی مکتب

 

مذہب کی ابدی تعلیمات اور زندگی کے بدلتے حالات میں مطابقت کی تلاش، مذہبی علما کا ایک مستقل وظیفہ رہا ہے۔ ہر مذہب اگرچہ ایک الہامی بنیاد کے دعوے کے ساتھ جنم لیتا ہے جو زمان ومکاں سے ماورا ہوتا ہے، لیکن اس کے باوجود اس کا ایک دور آغاز ہوتا ہے اور وہ بالعموم کسی داعی اول سے منسوب ہوتا ہے۔ جب ایک مذہب خاص جغرافی حدود اور عہد سے نکلتا ہے تو پھر اہل مذہب کو دوسرے ادوار اور مقامات سے تطبیق پیدا کرنے کے لیے خصوصی سعی کرنا پڑتی ہے۔ اس مسئلے کا ایک عمومی حل یہ تلاش کیا گیا ہے کہ چند رسوم پر مذہب کا اطلاق کرتے ہوئے اسے فرد اور اس کے خالق کا معاملہ قرار دے دیا گیا ہے۔ انسان چونکہ ہمیشہ کسی ایسی مافوق الفطرت ہستی پر ایمان رکھتا رہا ہے جو اس کے نزدیک خالق کا ئنات ہے اور اس کی عبادت کرتا رہا ہے ، اس کے لیے کچھ مراسم عبودیت کا قائل رہا ہے۔ یہ تصورچونکہ زمان ومکاں سے ماورا ہے اور مذہبی رسوم کوکسی عقلی توجیہہ کا محتاج نہیں سمجھا گیا، اس لیے اسے ہر دور میں نبھانا اس کے لیے مشکل نہیں رہا۔ مسئلہ چونکہ معاشرت اور اجتماعی زندگی کی تشکیل میں پیدا ہوتا ہے، اس لیے اس تعبیر کے تحت اسے مذہب کے دائرے سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا ہے۔ آج کا سب سے بڑا مذہب عیسائیت ہے۔ سیکولرازم، یعنی یہ کہ مذہب فرد کا شخصی معاملہ ہے اور اسے اجتماعی زندگی سے کوئی سروکار نہیں، اب ویٹی کان کی سطح پر اختیار کیا گیا ایک مذہبی موقف ہے۔
مطابقت کے اس چیلنج کا سامنا اسلام کے ماننے والوں کو بھی ہوا۔ اسلام جب عرب کی حدود سے نکلا اور گزرتے وقت کے ساتھ دوسرے فلسفہ ہاے حیات سے انھیں سابقہ پیش آیا تو بہت سے اہل علم نے اس ضرورت کو محسوس کیا کہ وہ اسلام کو اس عہد کے علمی و فکری پیمانے پر پورا اترنے والے ایک تصور حیات کے طور پر پیش کریں۔مسلمان بحیثیت مجموعی کبھی اس کے قائل نہیں رہے کہ مذہب کو فرد کا ذاتی معاملہ قرار دیا جائے، بلکہ ان کا یہ دعویٰ رہا ہے کہ ایک ہیئت اجتماعی کی تشکیل میں بھی اسلام اسی طرح رہنما ہے جس طرح کہ وہ فرد کے انفرادی مذہبی اعمال کی تنظیم میں اس کی رہنمائی کرتا ہے۔سیکولر ازم مغرب کے خاص حالات میں جنم لینے والا ایک تصور ہے جس کاگہرا تعلق کلیسا کے رویے سے تھا اور اس کی تاریخ چند صدیوں سے زیادہ نہیں۔ مسلمان معاشروں میں یہ تقسیم تو واضح رہی کہ مذہبی علما اور فقہا امور سلطنت اور حکومت سے ہمیشہ دور رہے اور سیاسی معاملات میں وہی لوگ سامنے آتے رہے جو اس کے لیے طبعی میلان رکھتے تھے۔ اس سے تقسیم کار کا اصول تو متعین ہوتا ہے، لیکن فرد اور اجتماعیت کی دوئی کا نہیں۔
بیسویں صدی میں نو آبادیاتی دور کے خاتمے پر جب مسلمان معاشروں کی تشکیل نو کا آغاز ہوا تو مطابقت کی یہ ضرورت ایک بار پھر نمایاں ہوئی۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں میں دو نقطہ ہاے نظر پیدا ہوئے۔ ایک کو ہم روایت پسندی (Traditionalism) کہتے ہیں اور دوسرے کو جدیدیت پسندی (Modernism)۔ مسلمانوں کے دور انحطاط میں، جب اجتماعی زندگی کی باگ ڈور ان کے اپنے ہاتھ میں نہیں رہی، اہل علم میں یہ احساس پیدا ہوا کہ دین کی حفاظت کا سب سے موثر طریقہ یہ ہے کہ اس علمی روایت کو ضائع ہونے سے محفوظ رکھا جائے اور اسلاف سے دین کے عنوان سے جو کچھ ہم کو پہنچا ہے، اسے آنے والی نسلوں کو منتقل کر دیا جائے۔ تاریخی تناظر میں بلا شبہ، یہ ایک بڑی خدمت تھی، تا ہم اس کا ایک نقصان ہوا اوروہ یہ کہ اس روایت کی حفاظت کے دوران میں یہ خیال بھی مستحکم ہوا ہے کہ اس پوری روایت کی حیثیت دین کی ہے جس پر کوئی اضافہ نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا اگر ہمیں اس دور نو میں اپنی اجتماعیت کی تشکیل جدید کرنی ہے تو یہ روایتی علم اس کے لیے کفایت کرتا ہے ۔ جدیدیت پسندوں (Modernists) کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ یہ قدیم علم نئے حالات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم فکر اسلامی کی تشکیل نو کریں۔ انسان کا فکری ارتقا جن نئی تبدیلیوں کو بیان کر رہا ہے ، ضروری ہے کہ دین ان کو اپنے دامن میں سمونے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو بطور تصور حیات(Worldview) اس کا زندہ رہنا مشکل ہو جائے گا۔ مثال کے طور پر اگر قومی ریاست (Nation-State)اس جدیدیت کا ایک ثمر ہے تو ہمیں دین کا ایک ایسا تصور پیش کرنا ہو گا جو ایک ریاست کے قیام کو ایک دینی مطالبے کے طور پر پیش کرے۔ اسی طرح اگر سائنسی غورو فکر کے نتیجے میں انسان نے کچھ نئی چیزیں دریافت کی ہیں تو ہمیں دینی ماخذ کی ایسی تعبیر سامنے لانا ہو گی جو ان سے مطابقت رکھتی ہو۔
اس روایت اور جدت پسندی نے اپنا اپنا صغریٰ کبریٰ ترتیب دیا اور دین پر غورو فکر کے کچھ اصول مرتب کیے۔ آج دین کے حوالے سے جو علمی و فکری کام ہو رہا ہے، وہ انھی اصولوں کے تحت ہورہا ہے۔ اگر ہم روایت پسندوں کے افکار کو سمجھنا چاہیں تو جزیات سے صرف نظر کرتے ہوئے ان کے تین گروہ سامنے آتے ہیں۔ ایک وہ جوکسی خاص فقہ کے ماننے والے ہیں جیسے احناف یا شوافع۔ ان کے ہاں دین پر تدبر کے حوالے سے اس قدیم فقہی ذخیرے کو مرکزیت حاصل ہے جو دوسری اور تیسری صدی ہجری میں مرتب ہوا۔ وہ انھی فقہی آرا اور نقلی علم کی بنیاد پر قرآن کو سمجھتے ہیں اور روایت پیغمبر علیہ السلام کو بھی۔ دوسرا گروہ سلفی یا اہل حدیث کہلاتا ہے ۔ اس گروہ کے نزدیک فہم دین میں اصل اہمیت، روایت پیغمبر کی ہے۔ اگر کسی روایت کے بارے میں قدیم محدثین کے اصولوں کے مطابق یہ اطمینان ہو جاتا ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس کی نسبت ثابت ہے تو پھر وہی فہم دین کی اساس ہے۔ ایسی روایت فی نفسہٖ حجت ہے اور اس کی روشنی میں قرآن مجید کی تفسیر و تاویل کی جائے گی اور دیگر فقہی وعلمی ذخیرے کوپرکھا جائے گا ۔ تیسرا گروہ اہل تشیع کا ہے۔ اس کا امتیاز تاریخ ہے جس میں واقعۂ کربلا کو مرکزیت حاصل ہے۔ یہی تاریخ قرآنی آیات کا مفہوم طے کرتی ہے، اس کی روشنی میں احادیث کو سمجھا جائے گا اور اسی سے دینی رویوں کا تعین ہو گا۔
جدیدیت پسندوں کو ہم تفہیم مدعا کے لیے دو گروہوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ ایک وہ جس کے لیے دین سنجیدہ تحقیق کا موضوع رہا ہے، جس کی دین کے مآخذ تک براہ راست رسائی ہے اور جو مسلمانوں کی قدیم علمی روایت سے اچھی طرح واقف ہے۔اس گروہ میں ہم برصغیر سے علامہ اقبال اور ڈاکٹر فضل الرحمن جب کہ عرب دنیا سے محمد عبدہ یا رشید رضا کو شامل کر سکتے ہیں۔ دوسرا گروہ وہ ہے جو علم کی عصری روایت سے مرعوبیت کے زیر اثر دین کی نئی تعبیر کرتا ہے، لیکن رسوخ فی العلم نہیں رکھتا۔ قرآن مجید اس کے ہاں اس طرح مقام تدبر نہیں ہے جس طرح کہ ہونا چاہیے۔ مسلمانوں کی علمی روایت سے بھی اسے کما حقہ آشنائی نہیں ہے، تا ہم ایک جوش و جذبہ ہے کہ دین کو علم کے عصری پیمانوں کے مطابق ثابت کر دیا جائے۔ اگر علم جدید یہ کہتا ہے کہ ثابت شدہ وجودو ہی ہے جس کی تصدیق حواس خمسہ کریں تو دینی مطالبات میں کسی ایسے وجود پر ایمان شامل نہیں ہونا چاہیے جو اس علمی پیمانے پر ثابت نہیں ہے۔ اس گروہ میں ہم سرسید احمد خان اور ان کے متاثرین کو شامل کر سکتے ہیں۔
دین پر غور و فکر کے حوالے سے ایک تیسرا منہج وہ ہے جس کی ابتدااس دور جدید میں امام حمید الدین فراہی (۱۸۶۱۔ ۱۹۳۱ء) سے ہوتی ہے۔ اس کو آگے بڑھانے میں امام امین احسن اصلاحی کی علمی مساعی کا خاص حصہ ہے اور اس وقت پاکستان اور بھارت میں ’’المورد‘‘ اور ’’مدرسۃ الاصلاح‘‘ سمیت بہت سے ادارے اور افراد اسی منہج کے مطابق دین کی تعبیر و تشریح کی خدمت، حسب توفیق و استطاعت سرانجام دے رہے ہیں۔ چند نتائج فکر میں مماثلت یا پھر سطحی معلومات پر انحصار کی وجہ سے بعض محققین اور معترضین اس گروہ کو جدیدیت پسندوں میں شامل کرتے ہیں، اس لیے ضرورت ہے کہ اس فرق کو بالوضاحت بیان کر دیا جائے جو دین پر غورو فکر کے حوالے سے روایت کے علم برداروں، جدیدیت پسندوں اور مکتب فراہی میں موجود ہے۔
جدیدیت پسندوں کے نزدیک فہم دین کا اصل تناظر زمانی ہے۔ ایک جدید اسکالر اپنے عہدکے فکری رویوں کو سامنے رکھتے ہوئے دین کی تعبیر کرنا چاہتا ہے۔ اس بنیادی ضرورت کے تحت اس نے فہم دین کے جو اصول وضع کیے ہیں، ان میں سب سے اہم اصول یہ ہے کہ قرآن کا ایک زمانی تناظر(Context) ہے جسے اس کے متن(Text) کے فہم میں بنیاد کی حیثیت حاصل ہے۔ قرآن کانزول تدریجاً ہوا ہے اور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت جن ادوار سے گزرتی رہی، قرآن اس کے مطابق نازل ہوتا رہا۔ اس لیے قرآن کے اس تناظر کو احکام کے تعین میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر یہ مقدمہ درست ہے تو اس کا ناگزیر نتیجہ یہ ہے کہ زمانی تناظر کے بدل جانے کے بعد متن کی تفہیم نو ہو۔ جوامر آفاقی اور ناقابل تسخیر ہے، وہ ان احکام کے پس منظر میں موجود بنیادی خیال ہے۔ اس تصور کے تحت قرآن مجید نے زمانۂ نزول کے تناظر کو سامنے رکھتے ہوئے بعض متعین احکامات دیے۔ آج کے دور میں قرآن سے وابستگی کا مطلب یہ ہو گا کہ اس بنیادی خیال کو سامنے رکھتے ہوئے ان مخصوص احکام کی تفہیم نو کی جائے۔ تفہیم نو سے مراد ان کی نئی صورت گری ہے۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابۂ کرام نے جو فیصلے کیے، ان کی نوعیت بھی یہی ہے۔ قرآن و سنت مستقل ماخذ ہیں، لیکن اس سے مراد ان میں دیے گئے احکام کی لفظی اتباع نہیں، بلکہ اس روح کی اتباع ہے جس کے تحت یہ فیصلے دیے گئے۔ اگر ہم ڈاکٹر فضل الرحمن کو جدیدیت کا نمائندہ قرار دیں تو ان کے ہاں اس نقطۂ نظر کی تائید میں نظائر تلاش کیے جاسکتے ہیں۔
ڈاکٹر فضل الرحمن کے نزدیک قرآن مجید بنیادی طور پر قانون کی کتاب نہیں، بلکہ اصلاً یہ کتاب ہدایت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی درحقیقت انسانیت کے لیے اخلاقی مصلح تھے۔ قرآن نے اگر کہیں قوانین بیان کیے ہیں تو وہ دراصل اسی اخلاقی تعمیرکے لیے تھے اور وہ دین کا بہت مختصر حصہ ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کے نزدیک یہ قدیم فقہا کی بنیادی غلطی ہے کہ انھوں نے قرآن کو قانون کی کتاب سمجھا اور اس کی روشنی میں اس کی آیات کی تعبیر کی۔قرآن کی ان قانونی ہدایات کو جو اصلاً تعمیر اخلاق کے لیے ہیں، دو سطحوں پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ایک مطلوب (Ideal) اور دوسری حالات پر منحصر (Contingent)۔ جہاں تک مطلوب سطح کا تعلق ہے، یہ نزول وحی کے زمانے میں قابل حصول ہو سکتی ہے اور نہیں بھی۔ حالات پر منحصر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس دور کے حالات میں کیا حل ممکن تھا۔ احکام قرآنی کے عہد نزول سے متعلق ہونے سے مراد یہ ہے کہ خاص حالات میں درپیش کسی مسئلے کاکیا ممکنہ حل تجویز کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب کسی مثالی حل کا بیان نہیں، بلکہ ایک ممکنہ حل تجویز کرنے کے ساتھ اس بات کی ترغیب دینا ہے کہ مسلمانوں میں بہرحال مثالی حل کی تلاش اور طلب موجود رہنی چاہیے۔ ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ اس بات کی صحیح تفہیم کے لیے تاریخی نقد (Historical Criticism) کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ اس ضمن میں وہ تعددازواج کی مثال پیش کرتے ہیں۔ ان کی تعبیر کے مطابق قرآنی کے نزدیک مثالی حل(Ideal) یہی ہے کہ ایک بیوی اور خاوند کے ساتھ معاشرت کی بنیاد رکھی جائے۔ تا ہم قرآن جس معاشرے میں نازل ہو رہا تھا، اس میں یہ روایت موجود تھی۔ اس سے حالات پر منحصر (Contingent)حل یہ تجویز کیا گیاکہ چار بیویوں کی اجازت ہے۔ ڈاکٹر فضل الرحمان کے نزدیک ہمارے فقہا سے غلطی یہ ہوئی کہ انھوں نے حدود، عائلی قوانین اور معاملات سے متعلق ان احکام کو مطلوب (Ideal)سمجھا جو حالات پر منحصر(Contingent) تھے۔ مسلمانوں کے قدیم علمی ذخیرے میں سے ڈاکٹر صاحب جس بات کی تحسین کرتے اور اسے درست سمجھتے ہیں، وہ تفسیری ادب میں اسباب نزول کا بیان ہے۔ تاہم ان کا اعتراض یہ ہے کہ جس بات کو مفسرین نے آیات قرآنی کے تاریخی پس منظر کے طور پر قبول کیا ہے، اسے فقہا نے استنباط احکام کے وقت پیش نظر نہیں رکھا اور ان سے ابدی احکام اخذ کیے ۔ اس ساری بات کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن مجید کے فہم میں تاریخی تناظر (Historical Context) کا لحاظ بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اسلام معاشرے کی اخلاقی تعمیر کو مطلوب(Ideal) سمجھتا ہے اور اس کے حصول کے لیے قرآن نے بعض احکامات بیان کیے ہیں جن میں دور نزول کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ یہ اخلاقی تعمیر آج بھی مطلوب ہے، تا ہم اس کے لیے ان احکام کا اسی طرح اختیار کرنا ضروری نہیں۔
ڈاکٹر فضل الرحمن سنت کو بھی قرآن کے ساتھ لازم مانتے ہیں اور ان لوگوں پر تنقید کرتے ہیں جو سنت کا بطور ماخذ قانون انکار کرتے ہیں۔تاہم ان کا تصور سنت عمومی تصور سے بہت مختلف ہے۔ ان کے نزدیک سنت کے دو پہلو ہیں: ایک پیغمبرانہ سنت (Prophetic Sunna) اور دوسری سنت بطور ایک جاری و زندہ عمل(Living Sunna)۔ پیغمبرانہ سنت کا مسمیٰ اسوۂ حسنہ (The Ideal Legacy of Prophetic Sunna) ہے، جبکہ زندہ سنت سے مراد اس اسوۂ حسنہ کی رہنمائی میں ابتدائی مسلمان معاشرے کا وہ طرز عمل ہے جو اس نے اپنے عہدکے چیلنجوں اور تبدیلیوں کا سامنا کرتے ہوئے اختیار کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرز عمل پر بحیثیت مجموعی سنت کا اطلاق ہوتا ہے اور یہ سلسلہ بعد کے ادوار میں بھی جاری رہا۔ تا ہم اس عمل کو اسوۂ حسنہ سے مربوط کرنے کے لیے اجماع سے قانونی جواز عطا کیا گیا۔ اس طرح اجماع نے سنت کا تعین کیا نہ کہ خبر واحد نے۔ بعد کے ادوار میں جب احادیث کے حق میں بڑے پیمانے پر ایک تحریک اٹھی تو اس سے سنت اور اجماع کا یہ بنیادی تعلق مجروح ہوا ۔ اسی طرح اسوۂ حسنہ اور زندہ سنت کا فرق بھی باقی نہیں رہا اور حدیث و سنت کو باہم مترادف الفاظ قرار دے دیا گیا۔ یہ کام زیادہ تر دوسری اور تیسری صدی ہجری میں ہوا جس میں بنیادی کردار امام شافعی کے علمی کام کا ہے۔
اس نظام فکر کے تحت قرآن مجید کے فہم میں جس تناظر (Context) کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، وہ خارج میں ہے۔ یعنی ہم جس دور میں قرآن کی آیات کی تشریح کر رہے ہیں، اس دور کا علم اور انسانی عقل دراصل یہ تناظر متعین کرے گا۔ یہی معاملہ سنت اور احادیث کی تفسیر کا بھی ہے۔ علامہ اقبال کے خطبات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی اس نظام فکر کو درست سمجھتے ہیں، اگرچہ یہ بات ان کے ہاں اس وضاحت کے ساتھ نہیں آئی جس طرح کہ یہ ڈاکٹر فضل الرحمن کے ہاں موجود ہے۔ مثال کے طور پر ان کے عہد میں چونکہ سائنسی تحقیق کا طریقہ علمی حقائق کی دریافت کا مستند ذریعہ شمار ہوتا تھا ، اس لیے وہ مذہب اور سائنس میں تطبیق پیدا کرتے ہوئے یہ رائے رکھتے ہیں کہ مذہبی اور سائنسی اعمال مختلف طریقۂ کار اختیار کرتے ہیں، مگر مقاصد میں یکساں ہیں۔ اسی بنا پر ڈاکٹر منظور احمد کا خطبات پر تبصرہ یہ ہے کہ ان کا مرکزی خیال ’’جدید فکر کی مدد سے مذہب کا جواز مہیا کرنا ہے‘‘۔۱؂ اسی احساس کے تحت اقبال خطبات میں شریعت کے ابدی اور عارضی احکام میں امتیاز کے مسئلے کو اٹھاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جس پیغمبر کے سامنے ہمہ گیر اصول ہیں، وہ ایک قوم کی تربیت کرتا اور پھر ایک عالم گیر شریعت کی تشکیل کے لیے ان سے تمہید کا کام لیتا ہے ’’لیکن ایساکرنے میں اگرچہ وہ انھی اصولوں کو حرکت دیتا ہے جو ساری نوع انسانی کی حیات اجتماعیہ میں کارفرما ہیں، پھر بھی ہر معاملے اور ہر موقع پر عملاً ان کا اطلاق اپنی قوم کے مخصوص حالات کے مطابق بھی کرتا ہے۔ لہٰذا اس طرح جو احکام وضع ہوتے ہیں جیسے تعزیرات، ایک لحاظ سے اسی قوم کے لیے مخصوص ہوں گے۔ پھر چونکہ احکام مقصود بالذات نہیں، اس لیے یہ بھی ضروری نہیں کہ ان کو آیندہ نسلوں کے لیے واجب ٹھہرایا جائے۲؂۔‘‘ اسی خطبے میں اقبال نے قانونی اورغیر قانونی احادیث میں تقسیم کی جو بات کی ہے، اس کا تناظر بھی یہی ہے کہ دین کے کون سے احکام ابدی ہیں اور کون سے وقتی؟
اب جہاں تک تفہیم دین کے فراہی مکتب فکر کا تعلق ہے تو وہ اساسی طور پر روایت اور جدیدیت پسندوں سے ایک بالکل مختلف جگہ پر کھڑا ہے۔ روایت پسندوں سے اس کا بنیادی اختلاف یہ ہے کہ ان کے کسی گروہ کے ہاں قرآن مجید کو وہ مرکزی حیثیت حاصل نہیں، جس کا وہ مستحق ہے۔ کہیں فقہا کا فہم اس پر حاکم ہے اور کہیں روایت حدیث۔ اس مکتب فکر کا کہنا یہ ہے کہ دین کے عنوان سے جو چیز بھی پیش کی جائے گی، اس پر قرآن مجید کی حکومت ہونی چاہیے۔ یہ کسی فرد کا قول ہے یا کسی قول کی پیغمبرانہ نسبت، اس کی صحت اور صحیح مفہوم کا تعین قرآن مجید کرے گا نہ کہ معاملہ اس کے برعکس ہوگا۔ اسی طرح سنت یہاں مستقل بالذات ماخذ دین ہے اور اس سے مراد’’ دین ابراہیمی کی وہ روایت ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تجدید واصلاح کے بعد اور اس میں بعض اضافوں کے ساتھ اپنے ماننے والوں میں دین کی حیثیت سے جاری فرمایا ہے۳؂۔‘‘ اس کا ماخذامت کا اجماع اور تواترعملی ہے۔ یہ ایک دل چسپ امر ہے کہ روایت پسندوں کے ہاں علمی سطح پر بالعموم یہ دونوں باتیں تسلیم کی جاتی ہیں یعنی قرآن کی حاکمیت اور امت کے اجماع اورعملی تواتر سے سنت کا تعین، لیکن عملاً معاملے کی نوعیت اس کے برعکس ہے۔ قرآن پر حدیث اور فقہ کی حکومت اگر ایک امر واقعہ ہے تو خبر واحد سے سنت کی تعیین کے بھی ان گنت مظاہر موجود ہیں۔
جدیدیت پسندوں سے اس مکتب فکر کے اختلاف کی نوعیت یہ ہے کہ فراہی منہج میں بلاشبہ قرآن مجید کے فہم میں تناظر(Context) کی حیثیت بنیادی ہے، لیکن جدیدیت پسندوں کے برخلاف یہ خارج میں نہیں، بلکہ قرآن مجید کے اندر موجود ہے۔ قرآن مجید کی آیات اور سورتوں کا بلاشبہ ایک تناظر(Context) ہے، لیکن اس کا تعین متن (Text)خود کرتا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قرآن مجید کے بعض احکام ایک خاص تاریخی تناظر (Historical Context)میں نازل ہوئے، لیکن یہ تناظر شان نزول کی روایت یا کسی دوسرے خارجی ذریعے سے متعین نہیں ہو گا، بلکہ قرآن کا داخلی نظم اس کو بیان کرے گا۔ قرآن مجید کی ایک ترتیب نزولی ہے اور اس کا تعلق دور نبوت کے ساتھ ہے۔ یہ ترتیب اسی عہد کے لیے احکام کی زمانی حکمت کو بیان کرتی ہے۔ قرآن مجید کی دوسری ترتیب وہ ہے جس کے تحت اس وقت یہ مصحف ہمارے پاس موجود ہے۔ امت کا اجماع ہے کہ یہ ترتیب تو قیفی ہے اور ظاہر ہے کہ خالی از حکمت نہیں۔ آج ہمارے لیے یہی ترتیب حجت ہے۔ اس کے تحت قرآن مجید کی آیات کا سیاق و سباق یہ متعین کردیتا ہے کہ قرآن کا کون سا حکم ابدی ہے اور کون سا عہد رسالت کے ساتھ خاص ہے۔
یہ مکتب فکر نظم کے ساتھ قرآن مجید کی زبان اور اس کے داخلی نظائر کو بھی کتاب اللہ کے فہم میں اساسی اہمیت دیتا ہے۔ محترم جاوید احمد صاحب غامدی کے الفاظ میں’’قرآن جس زبان میں نازل ہوا ہے، وہ اُم القریٰ کی عربی معلی ہے جو اس کے دور جاہلیت میں قبیلۂ قریش کے لوگ بولتے تھے۔‘‘ اس بات کی وضاحت میں وہ لکھتے ہیں کہ ’’ اس کتاب کا فہم اب اس زبان کے صحیح علم اور اس کے صحیح ذوق ہی پر منحصر ہے اور اس میں تدبر اور اس کی شرح وتفسیر کے لیے یہ ضروری ہے کہ آدمی اس زبان کا جید عالم اور اس کے اسالیب کا ایسا ذوق آشنا ہو کہ قرآن کے مدعا تک پہنچنے میں کم سے کم اس کی زبان اس کی راہ میں حائل نہ ہوسکے۴؂۔‘‘ اسالیب سے آگاہی کا مطلب یہ ہے کہ ہر مقام پر خطاب کا رخ متعین کیا جائے۔یعنی یہ جانا جائے کہ کہاں اس کے مخاطب مسلمان ہیں، کہاں مشرکین اور کہاں کوئی اور۔ اسالیب قرآن کو اچھی طرح سمجھے بغیر اس کا تعین آسان نہیں ہوتا۔ اسی طرح خاص وعام میں امتیاز بھی اسلوب سے متعلق ایک اہم امر ہے۔تیسری اہم بات تفسیر آیات بالآیات ہے۔ قرآن مجید اگر کہیں ایک بات اجمالاً بیان کرتا ہے تو کسی دوسرے مقام پر خود ہی اس کی تفصیل کردیتا ہے۔ اس لیے اس مکتب فکر کے نزدیک قرآن کی کسی آیت کے فہم کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے خود قرآن ہی کو مقام تدبر سمجھا جائے۔
فہم قرآن کے ان اصولوں کے تقابل سے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ فراہی مکتب فکر کہاں اور کس طرح روایتی اور جدید طریقوں سے مختلف ہے۔ فہم کے اس اختلاف سے نتائج فکر پر کیا اثرپڑتا ہے، اس کو ہم دو مثالوں سے واضح کرنے کی کوشش کریں گے۔
سورۂ انفال کی آیات۶۷ اور۶۸ کی ایک تفسیر وہ ہے جو روایتی تفسیری کتب میں بیان ہوئی ہے اور ایک تفسیر امام امین احسن اصلاحی نے کی ہے۔ تفسیری آرا میں یہ فرق فہم قرآن کے اصولوں کے اطلاق کا نتیجہ ہے۔ 
روایتی مکتب فکر کی نمائندہ تفسیر ’’معارف القرآن ‘‘میں ان آیات کا ترجمہ کچھ اس طرح کیا گیا ہے:

’’نبی کو نہیں چاہیے کہ اپنے ہاں رکھے قیدیوں کو جب تک کہ خوب خوں ریزی نہ کرے ملک میں۔ تم چاہتے ہو اسباب دنیا کا اور اللہ کے ہاں چاہیے آخرت اور اللہ زور آور ہے حکمت والا۔ اگر نہ ہوتی ایک بات جس کو لکھ چکا اللہ پہلے سے تو تم کو پہنچتا اس لینے میں بڑا عذاب۔‘‘

روایتی مفسرین کے ہاں ان آیات کے مخاطب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام ہیں۔ اس رائے کو اختیار کرنے کا سبب ان روایات پر انحصار ہے جو ان آیات کے شان نزول کے طور پر بیان کی جاتی ہیں۔جنگ بدر کے قیدیوں کے بارے میں مسلمانوں میں یہ اختلاف ہوا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیاجائے۔ حضرت ابوبکرصدیق کی رائے تھی کہ فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے، جبکہ حضرت عمر فاروق کی رائے ان کے قتل کے حق میں تھی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر کی رائے کو قبول فرمایا۔ اس روایت کو قبول کرنے کے بعد روایتی اہل تفسیر نے ان آیات کا مخاطب صحابۂ کرام کو قرار دیا۔ مفتی محمد شفیع صاحب لکھتے ہیں:

’’’تریدون عرض الدنیا‘... میں ان صحابۂ کرام کو خطاب ہے، جنھوں نے فدیہ لے کر چھوڑ نے کی رائے دی تھی۔اس آیت میں بتایا گیا کہ آپ حضرات نے ہمارے رسول کو نامناسب مشورہ دیا۔‘‘ (معارف القرآن، جلد چہارم)

مفتی صاحب اس کی مزید وضاحت اس طرح کرتے ہیں:

’’بعض روایات حدیث میں ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے پر رسول نے فرمایا کہ عذاب الٰہی بالکل سامنے آ چکا تھا۔ اللہ نے اپنے فضل سے روک دیااور اگر عذاب آجاتا تو بجز عمر بن خطاب اور سعدبن معاذ کے کوئی نہ بچتا۔‘‘

یہ دو صحابہ وہ تھے جنھوں نے قیدیوں کو قتل کرنے کا مشورہ دیا تھا۔
جدید اہل علم کے پہلے گروہ کی کوئی تفسیر ہماری نظر سے نہیں گزری۔ البتہ سرسید احمد خان نے مذکورہ بالاتفسیر سے جو اختلاف کیا، وہ ان کے الفاظ میں اس طرح ہے:

’’فدیہ لینے پر خدا نے اپنی ناراضی ظاہر کی، کیونکہ وہ لوگ بغیر لڑنے کے پکڑے گئے تھے، اس لیے لڑائی کے قیدی جن سے فدیہ لیا جاسکتا تھا نہیں تھے۔اسی بنا پر خداکی ناراضی ہوئی اور خدا نے فرمایا ’ماکان...‘ جن لوگوں کی یہ رائے ہے کہ ان کے قتل نہ کرنے پر خداکی ناراضی ہوئی تھی، کسی طرح پر صحیح نہیں ہوسکتی اس لیے کہ خدا تعالیٰ نے جب ان کا قیدی جنگ ہونا ہی قرار نہیں دیا تو ان کے نہ قتل ہونے پر کیونکرناراضی ہوسکتی تھی۔‘‘ (تفسیر القرآن ۸۱۸)

فراہی مکتب فکر کے نمائندہ مفسر امام امین احسن اصلاحی کے نزدیک ان آیات کا ترجمہ درج ذیل ہے:

’’کوئی نبی اس بات کا روادار نہیں ہوتا کہ اس کو قیدی ہاتھ آئیں، یہاں تک کہ وہ اس کے لیے ملک میں خوں ریزی برپا کردے۔ یہ تم ہو جو دنیا کے سروسامان کے طالب ہو۔ اللہ تو آخرت چاہتا ہے اور اللہ غالب اور حکیم ہے۔ اگر اللہ کا نوشتہ پہلے سے موجود نہ ہوتا تو جو روش تم نے اختیار کی، اس کے باعث تم پر ایک عذاب عظیم آ دھمکتا۔‘‘

امام اصلاحی کے نزدیک ان آیات کے مخاطب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام نہیں، بلکہ قریش ہیں۔ اب دیکھیے کہ وہ اپنے اصولوں کے اطلاق سے کس طرح اس رائے تک پہنچے۔
۱۔ ’ماکان‘ کا اسلوب بیان الزام اور رفع الزام، دونوں کے لیے آتا ہے۔ اس لیے سب سے پہلے اس اسلوب بیان کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس کی تاویل کرنا چاہیے۔
۲۔یہ بات کہ اس موقع پر یہ الزام کے لیے ہے یا رفع الزام کے لیے، اس کا تعین موقع ومحل اور آیات کے سیاق و سباق سے ہوگا۔
۳۔قرآن مجید نے یہی اسلوب سورۂ آل عمران (آیت۱۶۱) میں اختیار کیا ہے۔ تمام اہل تاویل کا اتفاق ہے کہ وہاں یہ رفع الزام کے لیے آیا ہے۔
۴۔’ تریدون عرض...‘ کا مخاطب نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا سیدنا صدیق اکبر جیسی عظیم المرتبت شخصیات کو قرار دینا کسی طرح ممکن نہیں ہے۔ ان کے الفاظ میں ’’بالفرض اس آیت کا مخاطب دل پر جبر کرکے نبی اور صدیق کو تھوڑی دیر کے لیے کوئی مان بھی لے تو اس کے بعد جو آیت آرہی ہے، اس کا مخاطب نبی اور رسول کو ماننے کے لیے کوئی دل و جگر کہاں سے لائے۔‘‘(تدبر قرآن ۳/۵۱۱)
اگلی آیت کے الفاظ ہیں’’اگر اللہ کا نوشتہ پہلے سے موجود نہ ہوتا تو جو روش تم نے اختیار کی، اس کے باعث تم پر ایک عذاب عظیم آدھمکتا۔‘‘
اس تقابل سے چند باتیں واضح ہورہی ہیں:
۱۔اصول فہم کے اختلاف سے نتائج فکر میں اختلافات کا پیدا ہونا یقینی ہے۔ اگر کہیں نتائج فکر میں یکسانیت ہے تو یہ محض اتفاق ہوگا۔
۲۔روایتی طریقۂ تفسیر میں حاکمیت روایت کی ہے نہ کہ قرآن کی۔ اگر قرآن کی حاکمیت ہوتی تو قرآن کے الفاظ کو معیار مان کر روایات کی صحت وضعف کا فیصلہ کیا جاتا۔ اس کے برخلاف روایت کو معیار مانتے ہوئے آیات کی ایسی تاویل گوارا کرلی گئی جس کے لیے صحابۂ کرام کو کم از کم اس موقع پر مطعون ٹھہرادیا گیا ۔روایت کی حاکمیت کی ایک اور دلیل یہ ہے کہ سورۂ آل عمران کی تفسیر میں جب کوئی اس طرح کی روایت نقل نہیں ہوئی تو’ ماکان‘ کے اسلوب کو رفع الزام کے لیے مان لیا گیا اور یہاں روایت کی حکومت اس تاویل کے راستے میں حائل ہوگئی۔
دوسری مثال چوری کے بعض مجرموں کے بارے میں سیدنا عمر فاروق کے بعض فیصلے ہیں جن کے تحت انھوں نے مجرموں کوہاتھ کاٹنے کی سزائیں نہیں دیں۔ جدیدیت پسندوں کے نزدیک یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حدود کی سزائیں ابدی نہیں اور مسلمانوں کا نظم اجتماعی اس میں تبدیلی لا سکتا ہے۔ اس ضمن میں جاوید احمد صاحب غامدی کا موقف یہ ہے کہ حدود کی سزا ئیں ابدی ہیں۔ سیدنا عمر فاروق نے قرآن کے کسی حکم میں تبدیلی نہیں کی، بلکہ قرآن کے منشا کے عین مطابق سزا دیتے وقت مجرموں کے حالات کی رعایت کو ملحوظ رکھا۔ ان کی اس رائے کی بنیاددو دلیلوں پر ہے:
۱۔ قرآن مجید نے جن جرائم کی متعین سزا بیان کی ہے، وہ ان جرائم کے لیے زیادہ سے زیادہ سزائیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے زیادہ سزا نہیں دی جا سکتی۔ اس سے یہ مراد نہیں ہو سکتا کہ کم سزا ممکن نہیں ہے۔ 
۲۔اگر مجرم کے حالات کسی رعایت کے متقاضی ہیں تو اسے کم سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ قرآن مجید نے یہ اصول ان لونڈیوں کی سزا میں بیان کیا ہے جن سے زنا کا جرم سرزد ہوجائے۔ چونکہ ان کی عصمت کو وہ حفاظتی حصار میسر نہیں ہے جو ایک آزاد عورت کو ہو سکتا ہے، اس لیے وہ اس جرم کے لیے اس سزا کے نصف کی حق دارہیں جو ایک آزاد عورت کو دی جائے گی۔
یہاں ہمیں جدید اہل علم اور فراہی مکتب فکر کے مابین نتائج فکر کے اعتبار سے جزوی نوعیت کا اتفاق نظر آتا ہے، لیکن بالبداہت واضح ہے کہ دونوں کے ہاں نصوص کی تفسیر کے اصول بالکل مختلف ہیں۔
ہم نے اس مضمون میں کسی مکتب فکر کا محاکمہ نہیں کیا، اس سے صرف یہ بیان کرنا مطلوب ہے کہ اس وقت ہمارے ہاں فہم دین کے اعتبارسے بحیثیت مجموعی تین نقطہ ہاے نظر موجود ہیں۔ ہرمکتب فکر کی بات کو اس کے صحیح تناظر میں سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس بنیادی فرق کو ملحوظ رکھا جائے جو ان کے بنیادی اصولوں میں موجود ہے۔

———————-

۱؂ ’’اقبال شناسی‘‘۔
۲؂ ’’الاجتہاد فی الاسلام‘‘۔
۳؂ ’’اصول ومبادی‘‘، جاوید احمد غامدی۔
۴؂ اصول و مبادی ۱۲۔

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت جنوری2007
مصنف : خورشید احمد ندیم
Uploaded on : Oct 09, 2018
54 View