دو روایات: (غلط فہمی کا ازالہ) - محمد حسن الیاس

دو روایات: (غلط فہمی کا ازالہ)

 

‎ہمارے ایک فاضل صاحب علم دوست نے چند دن پہلے اس حوالے سے قلم اٹھایا تھا کہ قرآن مجید کی آیات کو محض ایک متعین نظم سے ہٹا کر کسی دوسرے حوالے سے استعمال کیے جانے کے نظائر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی موجود ہیں ۔اِس دعوے سے قطع نظر کہ بیک وقت قرآن مجید کی آیات کے مختلف احتمالات کو مان لینے کی کیا توضیحات اور فوائد اہل علم بیان کرتے ہیں ہم اِس پوسٹ میں صرف ان دو مثالوں کا جائزے لیں گے جنہیں فاضل محقق نے بطور شاہد پیش کیا گیاہے۔

‎پہلی مثال رسول اللہ سے منسوب اِس روایت کی ہے جس میں آپ نے سورہ لیل کی چند آیات تلاوت فرمائیں,فاضل دوست نے شاہ ولی اللہ کے حوالے سے یہ بات پیش کی کہ یہ آیت ایک مختلف سیاق رکھتی ہے لیکن رسول اللہ نے ان کو تقدیر کے مسئلے کی وضاحت میں تلاوت فرمایا تھا۔

‎یہ روایت حدیث کی تقریبا تمام بڑی کتابوں میں نقل ہوئی ہے ،اس کے تمام ۱۲۸ طرق کے استقصاء کے بعد اِس کی سند کے حوالے سے بھی اطمینان سے کہا جاسکتا ہے کہ یہ "صحیح" ہے۔روایت کے الفاظ یہ ہیں:

‎عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ فِي جَنَازَةٍ فَأَخَذَ عُودًا يَنْكُتُ فِي الْأَرْضِ فَقَالَ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا قَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنْ النَّارِ أَوْ مِنْ الْجَنَّةِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نَتَّكِلُ قَالَ اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى.

‎علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے کے انتظار میں بیٹھے تھے (آپ کے دست مبارک میں ایک لکڑی تھی) جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین کو کرید رہے تھے، تھوڑی دیر بعد سر اٹھا کر فرمایا: تم میں سے ہر شخص کا ٹھکانہ خواہ جنت ہو یا جہنم اللہ کے علم میں موجود اور متعین ہے. صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا ہم اسی پر بھروسہ نہ کر لیں؟ فرمایا عمل کرتے رہو کیونکہ ہر ایک کے لئے وہی اعمال آسان کئے جائیں گے جن کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہوگا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید کی یہ آیات تلاوت فرمائی :

‎"پھر جس نے (راہ خدا میں) دیا اور پرہیزگاری اختیار کی۔ 

‎اور اچھے انجام کو سچ مانا۔

‎اُسے ہم سہج سہج راحت میں لے جائیں گے

‎اور جس نے بخل کیا اور بے پروائی برتی۔ 

‎اور اچھے انجام کو جھٹلایا۔

‎اُسے ہم سہج سہج سختی میں پہنچا دیں گے"

‎اس روایت میں رسالت مآب کی تلاوت آیات سے جو استدلال کیا گیا ہے اس پر چند باتیں عرض ہیں:

‎سب سے پہلے یہ کہ زیر غور روایت میں رسول اللہ مسئلہ تقدیر کہاں بیان کر رہے ہیں جس کے ضمن میں آپ نے اس آیت تلاوت کی ہو؟

‎مسئلہ تقدیر تو انسان کے اختیارات اور پابندیوں سے متعلق ہے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات اس مسئلے کے حوالے سے شروع ہی نہیں کی بلکہ آپ خدا تعالی کے علم کی وسعت کو بیان کر رہے تھے ،جیسے کہ قرآن مجید بھی بیان کرتا ہے ۔ چنانچے آپ نے فرمایا:"تم میں سے ہر شخص کا ٹھکانہ خواہ جنت ہو یا جہنم اللہ کے علم میں موجود اور متعین ہے"۔

‎اس کے بعد صحابہ نےکہا کہ اگر نتیجے کا علم متعین ہے توکیا ہم پھر مجبور محض ہیں ،ایسے میں عمل کرنے کا کیا فائدہ؟صحابہ کا یہ سوال تقدیر سے متعلق ہے۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اصل بات جو اوپر بیان ہوئی اس کی وضاحت اور اس سوال کی نفی کرتے ہوئے فرمایا:کہ اللہ کا علم تمھارے عمل پر اثر انداز نھیں ہوتا,آپ نے فرمایا :عمل کرتے رہو کیونکہ ہر ایک کے لئے وہی اعمال آسان کئے جائیں گے جن کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہوگا۔ گویا پھر وہی بات بیان کردی جو قرآن مجید میں جگہ جگہ بیان ہوئی ہے کہ انسان کو وہی کچھ ملتا ہے جس کا وہ ارادے کرتا اور اور جو نیک کاموں کا ارادہ کرتا ہے اس کے لیے راہیں کھول دی جاتی ہیں ۔لہذا تمھارا عمل کرنے کا انتخاب ہی بتا دے گا کہ تم کن اعمال کے اختیار میں دلچسپی رکھتے ہیں ،لہذا جن اعمال کا ارادہ ہوگا وہی اعمال آسان کر دیے جائیںگے ۔یہاں پر تقدیر سے متعلق صحابہ کو جواب ختم ہو گیا۔

‎اس کے بعد جب یہ بات زیر بحث آئی کے عمل کرو ،اب اس مقام پر آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےاعمال کی اقسام ،ان کی حقیقت اور ان کے نتائج کو اتنی جامعیت سے چند آیات تلاوت کر کے واضح فرما دیا اور اس موقع پر جو آیات تلاوت کی گئیں وہ قرآن مجید میں بھی بالکل اسی پس منظر میں آئی ہیں کہ اعمال اور ان کی حقیقت اور نتیجہ کیا ہے، اور کن معیارات پر اخروی نجات اور عذاب دونوں کا مدار ہے،ان آیات کاسیاق سمھجنے کے لیے ان سے پچھلی آیت دیکھیں:اِنَّ سَعْیَکُمْ لَشَتّٰی

‎(کہ دنیا ہے تو قیامت بھی ہے اور) جو کچھ تم کر رہے ہو، اُس کے نتائج (وہاں) لازماً الگ الگ ہوں گے۔ 

‎استاذ مکرم اس آیت کی تفسیر اور پس منظر میں لکھتے ہیں:

‎دنیا میں دو ہی چیزیں ہیں: ایک نفس اور دوسرے مادہ۔ پہلی چیز کے مظاہر میں سے نر و مادہ اور دوسری کے مظاہر میں سے شب و روز کو لے کر قیامت پر استدلال فرمایا ہے۔ یہ استدلال اِس پہلو سے ہے کہ اِن چیزوں میں نسبت زوجین کی ہے اور یہ دونوں عالم کی مجموعی مصلحت کے تناظر میں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں، اِن میں سے ایک کو مان کر دوسرے کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ قیامت بھی بالکل اِسی طرح دنیا کا جوڑا ہے۔ دنیا کے ساتھ قیامت کو مان کر ہی اُس کے تمام مظاہر و احوال کی توجیہ کی جا سکتی ہے۔لہٰذا دنیا ہے تو قیامت بھی ہے۔ اِن میں سے ایک کو مان کر دوسری کا انکار نہیں کر سکتے، الاّ یہ کہ انسان دنیا کو رام کی لیلا اور یزداں کی تماشاگاہ مان کر مطمئن ہو جائے اور اُس کے خالق کے بارے میں بھی یہ تصور کر لے کہ وہ کوئی علیم و حکیم ہستی نہیں ہے، بلکہ ایک کھلنڈرا ہے جو اپنی دنیا کے خیر و شر سے بے نیاز اُس کی سیر دیکھ رہا ہے۔

‎یہ نتیجہ ہے جس کے لیے قیامت برپا کی جائے گی۔ اِس کے لیے اصل میں ’

‎اِنَّ سَعْیَکُمْ لَشَتّٰی

‎‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ لفظ ’سَعْی‘ اِن میں نتیجۂ سعی کے مفہوم میں ہے۔ اِس مفہوم میں اِس کا استعمال عربی زبان میں معروف ہے۔ لفظ ’

‎شَتّٰی

‎شتیت کی جمع ہے۔ اِس کے معنی متفرق اور الگ الگ کے ہیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

‎’’...یعنی عقل اور فطرت کا بدیہی تقاضا ہے کہ نیکوں اور بدوں ، دونوں کی سعی کا نتیجہ ایک ہی شکل میں نہ برآمد ہو ، بلکہ اُن کی جدوجہد کے اعتبار سے الگ الگ ہو۔ جنھوں نے نیکی کمائی ہو، وہ اُس کا صلہ فضل و انعام کی شکل میں پائیں اور جنھوں نے بدی کمائی ہو، وہ اُس کے انجام سے دوچار ہوں۔ گویا قیامت کا دعویٰ یہاں اُس کی اصل ضرورت کے پہلو سے سامنے رکھا ہے کہ اُس کا آنا اِس وجہ سے ضروری ہے کہ قیامت اور جزا و سزا کے بغیر یہ دنیا ایک اندھیر نگری اور ایک کھلنڈرے کا کھیل بن کے رہ جاتی ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۴۰۲)

‎اب دیکھیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیات تلاوت فرمائیں :پھر جس نے (راہ خدا میں) دیا اور پرہیزگاری اختیار کی۔ اور اچھے انجام کو سچ مانا۔اُسے ہم سہج سہج راحت میں لے جائیں گے۔بقول استاد مکرم کے "یعنی ریا اور نمایش کے لیے نہیں، بلکہ خدا کے خوف اور اُس کی خوشنودی کی تمنا میں خرچ کیا۔ آیت میں ’اَعْطٰی‘ کے بعد ’اتَّقٰی‘ کے ذکر سے یہ بات آپ سے آپ واضح ہو رہی ہے"۔اسی طرح آپ نے دوسری آیات تلاوت کی اور عمل کی دوسری صورت بھی بیان کردی:اور جس نے بخل کیا اور بے پروائی برتی۔ اور اچھے انجام کو جھٹلایا۔اُسے ہم سہج سہج سختی میں پہنچا دیں گے۔

‎لہذا یہ آیات مسئلے تقدیر کے جواب میں نھیں بلکہ نجات اور عمل کےمدارج اور انجام کی وضاحت میں تلاوت فرمائی گئیں ہیں۔یہ آیات قرآن مجید میں اسی پس منظر میں زیر بحث ہیں۔

‎آیات کو محض ایک متعین نظم سے ہٹا کر کسی دوسرے حوالے سے استعمال کیے جانے کے نظائر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی نظر آتے ہیں فاضل دوست اس مقدمے کی تائید میں ایک دوسری روایت کے حوالے سے کہتے ہیں :

‎"ابو سعید بن معلی سے روایت ہے کہ میں نماز میں تھا تو نبی کریم ﷺ نے مجھے بلایا۔میں نے آپ کی بات پر لبیک نہیں کہا اور نماز کے بعد آپ کی خدمت ہواتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری بات کا جواب دینے سے تمھیں کس چیز نے روکا؟ میں نے کہا یا رسول اللہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔تو فرمایا: کیا اللہ نے یہ نہیں فرمایا ہے کہ : استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم (جب رسول تمھیں پکارے تو اس کی پکار کا جواب دو۔) یہاں سیاقِ آیت یہ ہے کہ رسول تمھیں ہدایت کی بات کی طرف بلائے تو اس کا جواب دو، گویا یہاں استجابت ، امتثالِ امر کے معنی میں ہے،اور فعل دَعا سے محض پکار نہیں،بلکہ ہدایت کی طرف بلانا ہے مقصود ہے، کیوں کہ "دَعا" کا تعلق "لما یحییکم"( اس بات کی طرف جس میں تمھاری حیات ہے) سے ہے ۔ یہ تعلق واضح طور پر بتاتا ہے کہ یہاں دعوت کا متعلق ایک حیات بخِش پیغام یعنی دعوتِ دین ہے، لیکن نبی کریم ﷺ نے اس آیت کو ان صحابی رض کو خطاب کرنے کے لیے اس پس منظر سے مختلف ایک عمومی مفہوم میں استعمال فرمایا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ساتھ "لمایحییکم" کی تلاوت نہیں فرمائی"۔

‎فاضل دوست کی یہ بات یقینا قابل توجہ ہے کہ بیان کردہ روایت میں نہ صرف یہ کہ آیت اس پس منظر میں نھیں پڑھی گئی جس پس منظر کی آیت ہے ،پھر اس میں وہ لفظ بھی ہذف کر دیے گئے بلکہ اس میں ایک اور بڑا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے کہ صحابی کا یہ عذر اور جواب دینے کے بعد پڑھی گئی ہے کہ میں نماز میں مصروف تھا،اس لیے جواب نھیں دے سکا۔

فاضل محقق کی اس رائے پر عرض ہے کہ

‎یہ روایت بھی حدیث کی متعدد کتابوں میں نقل ہوئی ہےسندا بھی اس میں کوئی خاص مسئلہ نھیں ہے۔اس کے تمام طرق کو دقت نظر دیکھا جائے تو اس سے بالکل مختلف بات سامنے آتی ہے جو ہمارے عزیز دوست نے سمجھی ہے۔یہ روایت سب سے پہلے مسند طیالسی میں بیان ہوئی. طیالسی اور صحیح بخاری ہی میں موجود اس کے طرق نے یہ سب مسائل حل کر دیے ہیں۔اصل روایت کے الفاظ ہیں:

‎عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا أُصَلِّي، قَالَ: فَدَعَانِي، قَالَ: فَصَلَّيْتُ، ثُمَّ جِئْتُ، فَقَالَ: " مَا مَنَعَكَ أَنَّ تُجِيبَنِي حِينَ دَعَوْتُكَ؟ أَمَا سَمِعْتَ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ:ف يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ ؟

‎ابوسعید معلی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ مسجد میں تھے اور میں وہاں نماز پڑھ رہا تھا ۔وہ کہتے ہیں کہ آپ نے مجھے بلایا ،کہتے ہیں کہ میں نے نماز پڑھی پھر رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو رسول اللہ نے فرمایا :کس چیز نے تمہیں اس وقت جواب دینے سے روک دیا، جب تمھیں بلایا جا رہا تھا؟کیا تم نے سنا ہے اللہ تعالی نے اس حوالے سے کیا کہا ہے؟)(پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی )اےایمان والو اللہ اور اس کے رسول جب تمہیں کسی ایسی چیز کی طرف بلائیں جس میں تمہاری حیات کا راز پوشیدہ ہو تو تم ان کی پکار پر لبیک کہو

ہماری نظر میں ‎اس روایت میں تین باتیں بیان ہو رہی ہیں۔

‎۱-رسول اللہ نے ان صحابی کا یہ جواب سن کر کے میں نماز میں تھا ،یہ آیت تلاوت نھیں فرمائی۔

‎۲-تلاوت سے پہلے آپ نے جو سوال کیا اس سے واضح ہوتا ہے کہ آپ ان صحابی کے جواب نہ دینے کی وجہ سے واقف نہ تھے۔

‎۳-آپ نے جو آیت تلاوت کی اس میں يُحْيِيكُمْ کو بھی پڑھا ۔

‎یعنی کہ رسول اللہ یہ سمجھے کہ صحابی نے بلا وجہ ان کی بات سنی ان سنی کردی تو آپ نے قرآن مجید کی یہ آیت تلاوت کی تاکہ رسول اللہ جب دین کی دعوت کے حوالے سے پکاریں تو اس پر فوری لبیک کہنے کی اہمیت واضح ہوجائے ۔

‎چنانچہ جب رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا عذر معلوم ہوگیا تو آپ نے اسی روایت کے بقول بغیر کسی دوسرے تبصرے کہ ان صحابی کو بلا تردد دین کی وہ بات  بتا دی جس کے لیے انھیں آواز دی گئی تھی ۔

بشکریہ محمد حسن الیاس
مصنف : محمد حسن الیاس
Uploaded on : Jan 16, 2019
205 View