جنگ اور مذہب - خورشید احمد ندیم

جنگ اور مذہب

 

ختمِ نبوت کے ساتھ، کیا مذہبی جنگوں کا دور بھی ختم ہوا؟ کیا اب مذہب کے لیے یا مذہب کے نام پر کوئی جنگ نہیں لڑی جا سکتی؟
ہم قومی ریاستوں کے عہد میں زندہ ہیں۔ یہ نظمِ اجتماعی کی وہ صورت ہے جو تہذیبی ارتقا کے نتیجے میں، بیسویں صدی میں سامنے آئی اور اقوامِ عالم نے ایک عالمگیر معاہدے کے تحت اس کو تسلیم کر لیا۔ قوم سے مراد انسانوں کا ایک گروہ ہے جو کسی اجتماعی شناخت پر اتفاق کرلے۔ یہ شناخت رنگ، نسل، علاقہ اور مذہب سمیت کچھ بھی ہو سکتی ہے۔ عالمی معاہدے کے تحت، ان قومی ریاستوں کی جغرافیائی حدود کا تعین ہو چکا جسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا، الا یہ کہ اقوامِ عالم کا اجتماعی فورم، اقوامِ متحدہ اس کی اجازت دے۔
قومی ریاست سے پہلے، نظمِ اجتماعی کی جو صورت رائج تھی، اسے سلطنت کہتے تھے۔ سلطنتیں طاقت کی بنیاد پر قائم ہوتی تھیں۔ دنیا فاتح اور مفتوح میں منقسم تھی۔ طاقت کا یہ حق بالفعل تسلیم کر لیا گیا تھا کہ وہ جہاں چاہے قبضہ کر لے۔ سکندر یونان سے چلا اور ہمارے خطے تک آیا۔ اسی اصول پر انگریزوں، بازنطینیوں، روسیوں، پرتگالیوں، مغلوں، عثمانیوں اور دوسری اقوام کی سلطنتیں قائم ہوئیں۔
وقت نے کروٹ لی تو مفتوح اقوام نے فاتحین کو چیلنج کرنا شروع کر دیا۔ سلطنتیں اپنے بوجھ تلے دبنے لگیں۔ انسان کے اجتماعی ضمیر نے غلامی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ہر اس قوت کو للکارا گیا جو انسان کو ذہنی یا جسمانی طور پر غلام بنانی چاہتی تھی۔ بادشاہت سے کلیسا تک، ہر اس ادارے کے پاؤں تلے سے زمین کھسکنے لگی جو انسان کو اپنا غلام بنا کر رکھنا چاہتا تھا۔ یہ ایک نئے دور کی نمو تھی۔
سلطنتوں کے خلاف بغاوت کے لیے، جب انسان منظم ہوئے تو انہیں کسی اجتماعی شناخت کی ضرورت پیش آئی جو انہیں متحد رکھ سکے۔ عام طور پر فطری عصبیتیں بروئے کار آئیں جن میں رنگ، نسل اور علاقہ نمایاں تھے۔ یہ بغاوتیں کہیں مسلح جتھوں کی صورت میں منظم ہوئیں اور کہیں سیاسی تحریکوں کی شکل میں۔ فاتحین اپنے آبائی علاقوں میں سمٹنے لگے اور مفتوح آزاد ہونے لگے۔ فاتحین نے جس نئے اجتماعی نظم کو رائج کیا، اس کے تحت آزاد قومی ریاستیں وجود میں آئیں؛ تاہم مستقبل میں کسی سلطنت کے ابھرنے کو روکنے کے لیے، ایک عالمی بندوبست پر اتفاق کر لیا گیا جس کو اقوامِ متحدہ کا نام دیا گیا۔ ماضی کی سلطنتوں نے ایک سطح پر اپنی حیثیت کو برقرار رکھا جو آج اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی شکل میں موجود ہے۔
اس بندوبست کو سب نے مان لیا۔ اب جو قومی ریاستیں وجود میں آئیں، ان کے مابین تنازعات کو روکنے کی ذمہ داری اقوامِ متحدہ کو سونپی گئی۔ ان کے داخلی معاملات کا تعین ان کے شہریوں پر چھوڑ دیا گیا۔ دنیا میں آج ان معنوں میں کوئی مذہبی ریاست نہیں پائی جاتی کہ وہ خدا کے حکم سے یا اس کے کسی فرستادہ کے ہاتھوں قائم ہوئی ہو۔ اس طرح کی ریاست، آخری بار اللہ کے آخری رسول سیدنا محمدﷺ کی قیادت میں قائم ہو چکی۔ خلافتِ راشدہ اسی کی توسیع تھی۔ اب کوئی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اس کی حکومت دراصل حکومتِ الہیہ ہے۔
ان قومی ریاستوں کے داخلی معاملات بالعموم ایک عمرانی معاہدے یا آئین کے تحت چلتے ہیں جو ریاست اور شہریوں کے مابین عامۃ الناس کی مرضی سے طے پاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ ایک ریاست کے لیے بڑی حد تک ان اصولوں کا تعین بھی کر دیتی ہے جن کا تعلق شہریوں کے حقوق سے ہے۔ آج بنیادی حقوق کے باب میں کوئی ریاست ایسا قانون نہیں بنا سکتی جو مذہب یا رنگ و نسل کی بنیاد پر شہریوں میں فرق کرتا ہو۔
ایک اور اہم تبدیلی یہ آ چکی کہ معاشی اسباب کی تلاش میں نقل مکانی اب بہت عام ہو چکی۔ ترقی یافتہ ریاستوں کو انسانی وسائل کی ضرورت ہے اور انسانوں کو معاشی مواقع کی۔ اس باہمی ضرورت کے تحت یہ ریاستیں شہریت کا دروازہ کھول دیتی ہیں۔ آج کے دور میں چند مستثنیات کے علاوہ، ہر ملک میں ہر مذہب کے ماننے والے موجود ہیں اور ریاست مذہب کے باب میں غیر جانب دار ہے۔ ریاست کا قانون جمہور کی رائے سے بنتا ہے اور شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ انفرادی معاملات میں جس مذہب پر چاہیں، عمل کریں۔
آج ریاستوںکے مابین اگر باہمی تصادم کا کوئی امکان موجود ہے تو اس کا سبب دنیاوی مفادات ہوں گے، مذہب نہیں۔ تاریخی اعتبار سے بھی مذہب کے لیے جنگ کا دور ختم ہو چکا۔ آج بھارت میں بیس کروڑ سے زیادہ مسلمان آباد ہیں جو بھارت کو اپنا وطن سمجھتے ہیں۔ اگر پاکستان اور بھارت میں کوئی جنگ ہوتی ہے تو اس کا سبب مذہبی نہیں، دو ریاستوں کے باہمی مفادات ہوں گے۔ امریکہ اور عراق کا جھگڑا مذہبی تھا نہ امریکہ اور طالبان کا جھگڑا مذہبی ہے۔ طالبان کا مقدمہ یہ ہے کہ امریکہ ہمارے ملک کے معاملات میں مداخلت نہ کرے۔ یہ ایک سیکولر مطالبہ ہے نہ کہ مذہبی۔ ان کا اعلان یہ ہے کہ امریکہ ہمارے ملک سے اگر نکل جائے تو اس کے ساتھ ہمارا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ انہیں اس سے بھی کوئی دلچسپی نہیں کہ امریکہ دیگر مسلم ممالک کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے۔
اس نئی دنیا نے دینی اعتبار سے بھی نئے نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔ ایک متعین سوال یہ بھی ہے کہ اگر کوئی مسلمان امریکہ کا شہری ہے اور امریکی فوج میں ملازم ہے تو کیا اسے امریکہ کی طرف سے، جنگ کی صورت میں کسی مسلمان اکثریتی ملک کے خلاف لڑنا چاہیے۔ دورِ حاضر کے ممتاز فقیہہ یوسف القرضاوی سمیت علما کے ایک گروہ کا فتویٰ ہے کہ بطور شہری اس نے ریاست سے ایک معاہدہ کر رکھا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ اسے لڑنا چاہیے۔
آج دنیا میں مسلمان بکھرے ہوئے ہیں اور دیگر مذاہب کے ماننے والے بھی۔ اب عملاً یہ ممکن نہیں رہا کہ دنیا میں مذہب کے عنوان سے کوئی جنگ ہو۔ آج دنیا میں نہ نظری بنیادوں پر مذہب کے نام پر کوئی جنگ ہو سکتی ہے‘ نہ عملی اسباب سے؛ تاہم اگر کسی خطۂ زمین میں سیاسی نظم و نسق مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے اور کوئی اجتماعی مفاد یا مصلحت انہیں جنگ پر مجبور کرتی ہے تو وہ الٰہی قوانین اور احکام کے پابند ہوں گے‘ جس طرح وہ زندگی کے دیگر معاملات میں ان کے پابند ہیں۔ اسے ہمارے دینی لٹریچر میں فقہ الجہاد کے عنوان سے بیان کیا جاتا ہے۔
وطن سے محبت فطری ہے، جیسے اولاد اور مال سے محبت فطری ہے۔ ہمارا دین یہ کہتا ہے کہ اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے اگر کوئی مارا جائے تو شہید ہو گا۔ اسی اصول پر ملک کی محبت اور حفاظت کے لیے لڑنا اور مرنا فطری ہے؛ تاہم ملک کے لیے لڑنے کا فیصلہ فرد انفرادی حیثیت میں نہیں کرتا۔ یہ فیصلہ نظمِ اجتماعی یا ریاست کرتی ہے کہ کب لڑنا ہے۔ اسی اصول کو ان الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے کہ جہاد ریاست کا کام ہے، کسی فرد یا گروہ کا نہیں۔ اسلام یہ کہتا ہے کہ اگر مسلمانوں کا نظمِ اجتماعی اس طرح کا کوئی فیصلہ کرتا ہے تو اسے دین کے احکام کو ملحوظ رکھنا ہو گا۔ جیسے غیر متحارب کو قتل نہیں کیا جائے گا یا بلا ضرورت درختوں کو نہیں کاٹا جائے گا۔ آج فوج نے نظمِ اجتماعی کے فیصلے کے ساتھ اقدام کیا جو جہاد تھا۔ ہمیں اس کی تائید کرنی ہے۔ خود اقدام نہیں کرنا۔
آج ریاستوں کے مابین ہونے والی جنگوں کو مذہبی جنگیں مان لیا جائے تو بھارت یا امریکہ کے کروڑوں مسلمانوں کی دینی وابستگی کے سامنے سوالیہ نشان کھڑا ہو جائے گا۔ آج کی دنیا میں یہ ممکن ہے کہ ایک مسلمان ایک ملک کی طرف سے لڑ رہا ہو اور دوسرا مقابل ملک طرف سے۔ یہ چونکہ کوئی مذہبی معرکہ نہیں ہے، اس لیے ہم کسی کے دین و ایمان کے باب میں فیصلہ دینے کے مجاز نہیں ہیں؛ تاہم، مسلمانوں کا نظمِ اجتماعی کسی اجتماعی مصلحت کے لیے اگر جہاد یعنی قتال کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کا دروازہ کھلا ہے مگر اہداف کے تعین سے حکمتِ عملی کی تشکیل تک، وہ دین کی ان تعلیمات اور احکام کا پابند ہے جو اس باب میں قرآن و سنت میں بیان کر دیے گئے ہیں۔
بشکریہ روزنامہ دنیا، تحریر/اشاعت 2 مارچ 2019
مصنف : خورشید احمد ندیم
Uploaded on : Mar 02, 2019
78 View