خلع اور تنسیخ نکاح - خورشید احمد ندیم

خلع اور تنسیخ نکاح

 

خلع اور فسخِ نکاح کے باب میں اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش یہ ہے کہ عدالتیں دونوں میں فرق کریں۔ خلع شوہر کی رضامندی ہی سے ہو سکتا ہے۔عدالت، البتہ شکایت یا تنازعے کی صورت میں نکاح منسوخ کر سکتی ہے۔یہ سفارش ان دنوںزیربحث ہے۔سوال یہ ہے کہ اس بحث کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
ہمارے ہاںنظریاتی کونسل کی تشکیل مسلکی عصبیت کی بنیاد پر ہوتی ہے۔اس کی وجہ سیاسی ہے۔چونکہ سماج کی مذہبی ساخت مسلکی ہے،اس لیے ان ہی علما کو معاشرتی پزیرائی حاصل ہوتی ہے جو کسی خاص مسلک سے وابستہ ہیں۔ایک طرف محراب ومنبر ان کے ہاتھ میں ہیں اور دوسری طرف انہوں نے اپنی سیاسی جماعتیں بھی بنا رکھی ہیں۔ یوں اہلِ اقتدار ان کی خوشنودی کے لیے ایسے علماء کو کونسل میں شامل کرتے ہیں جو کسی مسلکی عصبیت کے حامل ہوں۔جب انتخاب اس معیار پر ہو تو پھر کسی فرد کا علم و فضل بے معنی ہو جا تا ہے اگر وہ مسلکی عصبیت نہیں رکھتا۔اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ کونسل کی رائے روایتی علما کے فہمِ دین کے تابع ہو جاتی ہے۔اس فہم ِ دین کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس میں فقہ اور شریعت کو مترادف سمجھا جا تا ہے۔یوں ہر فیصلے میں قدیم فقہی آرا کو ماخذِ دین کے طور پر قبول کیا جاتا ہے اور ان سے انحراف جرم سمجھا جا تاہے۔اسی سوچ کے تحت آئمہ اربعہ پر اتفاق کو اجماعِ امت قرار دیا گیا ہے۔
ہمارا جدید طبقہ اس تفہیمِ دین سے اختلاف کرتا ہے۔اس کے نزدیک یہ تعبیر ایک خاص دور کے سیاسی وسماجی حالات کے تابع ہے۔اس کے تحت اگر اس وقت سیاسی معاملات میں کوئی موقف اختیار کیا گیا ہے تومسلمانوں کو ایک حاکم قوت تصور کرتے ہوئے۔جیسے دار الحرب اور دارالاسلام کی تعبیر ہے۔اسی طرح سماجی حوالے سے وہ ایک پدر سرانہ سماج تھا۔مرد کی برتری ایک مستحکم سماجی قدر تھی۔اس لیے معاشرتی معاملات میں بھی جو آرا قائم کی گئیں،ان میں مرد کی بالادست حیثیت ہی کو پیش ِ نظر رکھا گیا۔یہ طبقہ خیال کرتا ہے کہ آج کا سیاسی و سماجی تناظر یک سر تبدیل ہو چکا۔آج دنیا دارالحرب اور دارالاسلام میں منقسم نہیں ہے۔آج کی قومی ریاستیں مذہب کی بنیاد پر تشکیل نہیں پاتیں۔اسی طرح معاشرت بھی مخلوط ہو چکی۔جن ممالک کو ہم غیر مسلم کہتے ہیں، ان کے شہریوں کی ایک بڑی تعداد مسلمان ہے۔ان حالات ،میں وہ آرا اب قابلِ عمل نہیں رہیں جو فقہا نے دنیا کو دو حصوں میں منقسم کرتے ہوئے قائم کیں۔اسی طرح،آج کا معاشرہ پدر سرانہ نہیں رہا۔خاتون معاشی ذمہ داریوں کی ادائیگی میںمرد کے ساتھ شریک ہے۔اسے اعلیٰ تعلیم تک رسائی حاصل ہے اور یوں اس کی قوتِ فیصلہ ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مستحکم اور قابلِ بھروسہ ہے۔اس طرح وہ اسباب ختم ہو چکے جو مرد کی بالادستی کی بنیاد تھے۔لہٰذا اب دین کی وہ تعبیر قابلِ عمل نہیں ہو سکتی جو کسی پدر سرانہ سماج میں اختیار کی گئی ہے۔
اگر اسلامی نظریاتی کونسل کی تشکیل میں ان دونوں نقطہ ہائے نظر کا امتزاج پیش ِنظررکھاجاتا تومیرا خیال ہے کہ اعتراض کے امکانات کم ہو جاتے۔اسی طرح کونسل کی آ راء بھی زیادہ متوازن ہو جاتیں۔مشرف دور میں کسی حد تک یہ توازن قائم کرنے کی کوشش ہوئی۔میرا احساس ہے کہ اُس وقت کونسل کی جوسفارشات سامنے آئیں،ان میں قیل و قال کی گنجائش کم تھی۔اختلاف کاامکان ظاہر ہے کہ ہمیشہ رہتا ہے لیکن پھر اس کی نوعیت علمی ہوتی ہے اور اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے۔یہ سماج کے علمی ارتقا کا اظہار ہے۔کونسل کی موجودہ تشکیل سماجی تقسیم کو تقویت پہنچارہی ہے۔ایک طبقہ خیال کرتا ہے کہ اس کو نمائندگی سے محروم رکھا گیاہے۔ اس طرح اعتراض کی نوعیت علمی نہیں رہتی اوربحث کسی اور طرف نکل جاتی ہے۔ 
میرے نزدیک روایت سے وابستگی قابلِ تحسین ہے اور اس کا اہتمام ہو نا چاہیے لیکن اس کی دو شرائط ہے۔ایک یہ ہے کہ روایت بارہ سو سال نہیں،چودہ سو سال پر محیط ہو ۔اس کا آغازرسالت مآب ﷺ کی بعثت سے ہونا چاہیے،فقہی مسالک کی تاسیس سے نہیں۔دوسری شرط یہ ہے کہ اس پر کتاب اللہ کی حاکمیت قائم ہو۔ہر روایت اور ہر رائے اسی میزان پر تولی جائے۔اگر یہ دونوں باتیں پیش نظر رہیں توروایت مسلسل آگے بڑھتی رہتی ہے۔ پھر جدید وقدیم کی تقسیم بے معنی ہو جاتی ہے۔پھر ماضی حال کے راستے، مستقبل سے جڑ جاتا ہے۔مو جودہ تقسیم انقطاع کو لازم کر تی ہے۔پھر قدیم جدید کا انکار کرتا ہے اور جدید قدیم کا۔نظریاتی کونسل کی سفارشات پر اعتراض اسی کا اظہار ہے۔
یہ وہ پس منظر ہے جس میں ہمارے ہاں اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات زیرِ بحث ہیں۔اگر ہم ذہنوں میں موجود قدیم و جدید کے فرق سے بلند ہو کر،اس سفارش پر نظر ڈالیں تواختلاف کو ختم کیا جا سکتا ہے۔نظریاتی کونسل نے تفویضِ طلاق کا حق تسلیم کیا ہے ۔گویا عورت کا یہ حق مانا گیا ہے کہ وہ اگر خاوند کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو اپنی مرضی سے الگ ہو سکتی ہے اگر معاہدہِ نکاح میں شوہر نے یہ حق اسے تفویض کیا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ خلع طلاق کا مطالبہ ہے جو شوہر سے کیا جائے گا۔اگر وہ طلاق دے دیتا ہے تونزاع پیدا نہیں ہوتا۔اختلاف تو اس وقت ہو تا ہے جب شوہر اس پر آ مادہ نہ ہو۔عام اصول یہی ہے کہ جب اختلاف ہو جائے تو معاملہ عدالت کے پاس جاتا ہے۔خلع کا مقدمہ بھی عدالت میں جائے گا۔رسالت مآب ﷺ اور خلفائے راشدین کے فیصلوں سے واضح ہے کہ عدالت صرف اس بات کی تحقیق کرے گی کہ بیوی فی الواقعہ ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔اسباب کا کھوج لگانا اس کی ذمہ داری نہیں ہے۔یہ ثابت ہونے پر وہ لازماً دونوں میں علیحدگی کرا دے گی۔عدالت عورت کو زبردستی روک نہیں سکتی۔یہ خلع کے تصور کے خلاف ہے۔
عدالت کا یہ حکم اصلاً فسخِ نکاح ہے۔تاہم چو نکہ تنسیخِ نکاح کی دوسری صورتیں بھی ہو سکتی ہیں، اس لیے اسے الگ سے خلع کہا جا سکتا ہے۔اس ابہام سے بچنے کے لیے بہتر ہے کہ عائلی قوانین 1961ء کی دفعہ 8 میں تبدیلی کر دی جائے۔اسلامی نظریاتی کونسل 2008ء میں یہ سفارش کر چکی جب ایک جدید اسلامی سکالر ڈاکٹر خالد مسعوداس کے سربراہ تھے۔اُس وقت تجویز کردہ وضاحت کے الفاظ یہ ہیں:''بیوی کے مطالبہ طلاق پر،عدالت شوہرکو طلاق دینے کے لیے کہے اور وہ طلاق دے دے تو یہ خلع ہے۔ لیکن شوہر طلاق نہ دے یا عدالت میں حاضر نہ ہویامفقود الخبر ہو جائے اور عدالت یک طرفہ کارروائی کے ذریعے نکاح ختم کر دے تو یہ 'فسخِ نکاح‘ ہوگا‘‘۔
میرا خیال ہے کہ اس وضاحت کے بعد کسی مزید ترمیم کی ضرورت نہیں تھی۔اسلامی نظریاتی کونسل کا مقدمہ جس طرح سامنے آیا ہے،اس سے پدرسرانہ سوچ کا تاثر لیا گیا۔2008ء میں جب کونسل خود ایک وضاحت تجویز کر چکی تو اس بحث کا ایک دفعہ پھر اٹھاناغیر ضروری ہے۔ مجھے کبھی کبھی خیال ہو تا ہے کہ خود کونسل کے اراکین، اس ادارے کی تاریخ سے پوری طرح واقف نہیں ہیں۔ ورنہ وہ پہیہ دوسری بار ایجاد نہ کرتے۔ بصورتِ دیگریہ اُسی مسلکی عصبیت کا اظہار ہے ،کونسل جس کی تشکیلی اساس ہے کیونکہ 2008ء کی نظریاتی کونسل میں بعض چہرے ایسے تھے جو شخصی علمی وجاہت کے باعث ادارے کے رکن بنے نہ کہ کسی مسلکی عصبیت کے تحت ۔ 

بشکریہ روزنامہ دنیا، تحریر/اشاعت 02 جون 2015
مصنف : خورشید احمد ندیم
Uploaded on : May 23, 2016
687 View